ایک بھارتی بڑی کمپنی کو جعلی واٹس ایپ پیغام پر بھروسہ کرنا 10.4 کروڑ روپے کا نقصان دے گیا۔
بھارتی میڈیا کے مطابق کمپنی کے اکاؤنٹس کے شعبے کے ڈپٹی جنرل منیجر گریش امین کو 3 جون کو ایک نامعلوم نمبر سے پیغام موصول ہوا جس میں میسج بھیجنے والے نے خود کو کمپنی کا ایگزیکٹیو ڈائریکٹر سدھارتھ جین ظاہر کیا۔
پیغام بھیجنے والے نے اپنی پروفائل تصویر میں سدھارتھ جین کی تصویر لگائی ہوئی تھی اور گریش امین کو ہدایت دی کہ وہ اس نمبر کو ذاتی نمبر کے طور پر محفوظ کریں اور کسی سے اس کا ذکر نہ کریں۔
بعد ازاں جعلی افسر نے مختلف بینک اکاؤنٹس میں رقم منتقل کرنے کی ہدایات دیں۔
گریش امین نے 3 جون سے 15 جون کے درمیان 63 لین دین کے ذریعے مجموعی طور پر 10,40,71,924 روپے مختلف اکاؤنٹس میں منتقل کیے۔
بھارتی میڈیا کے مطابق جب گریش نے آفیشل ذریعے سے سدھارتھ جین سے رابطہ کر کے ادائیگیوں کی رسیدیں طلب کیں تو معلوم ہوا کہ ایسی کوئی ہدایات کبھی جاری ہی نہیں کی گئی تھیں، اس کے بعد پولیس میں شکایت درج کروائی گئی۔
تحقیقات کے دوران دہلی پولیس نے 4 ملزمان کو گرفتار کر لیا ہے۔
بھارتی میڈیا کا کہنا ہے کہ گرفتار افراد نے اعتراف کیا ہے کہ انہوں نے کمیشن کے عوض اپنے بینک اکاؤنٹس فراڈ کی رقم منتقل کرنے کے لیے فراہم کیے تھے۔
پولیس کے مطابق اس گروہ کے اصل سرغنہ کی تلاش جاری ہے جبکہ رقوم کی منتقلی اور ممکنہ سائبر جرائم کے نیٹ ورک کی بھی چھان بین کی جا رہی ہے۔