پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے سال 27-2026 کے لیے کھلاڑیوں کے نئے سینٹرل کنٹریکٹ کے معاوضوں کا ابتدائی مسودہ تیار کر لیا۔
ذرائع کے مطابق اس بار پی سی بی نے روایتی کیٹیگریز کے بجائے کھلاڑیوں کو ان کی مہارت (فارمیٹ) کے لحاظ سے مخصوص 'ٹریکس' میں تقسیم کرنے کا ایک انوکھا اور بھاری مالیاتی پلان تیار کیا ہے، جس کے تحت کھلاڑی سالانہ 5 کروڑ روپے سے زائد کما سکیں گے۔
ٹریک اے (ریڈ بال اسپیشلسٹ):
اس ٹریک میں صرف ٹیسٹ کرکٹ کھیلنے والے کھلاڑی شامل ہوں گے، جنہیں ماہانہ 40 لاکھ روپے دیے جانے کا امکان ہے۔
ٹریک اے بی (ٹیسٹ اور ون ڈے کرکٹرز):
اس ٹریک میں وہ کھلاڑی شامل ہیں جو ٹیسٹ اور ون ڈے دونوں فارمیٹس کھیلتے ہیں۔ ان کا ماہانہ معاوضہ 48 سے 50 لاکھ روپے تک ہونے کی امید ہے، جس سے یہ کھلاڑی سالانہ 5 کروڑ روپے سے زائد کما سکیں گے۔
ٹریک بی سی (وائٹ بال کرکٹرز):
اس ٹریک میں صرف ون ڈے اور ٹی ٹوئنٹی کھیلنے والے کھلاڑی شامل ہوں گے، جنہیں ماہانہ 18 لاکھ روپے دیے جائیں گے۔
ٹریک سی (ٹی ٹوئنٹی اسپیشلسٹ):
اس ٹریک میں صرف ٹی ٹوئنٹی فارمیٹ کے ماہر کھلاڑی شامل ہوں گے، جن کا ماہانہ معاوضہ 12 سے 15 لاکھ روپے متوقع ہے۔
ٹریک ڈی (ڈویلپمنٹ اور این سی اے اسکواڈ):
اس ٹریک میں جونیئر، ابھرتے ہوئے کھلاڑی اور نیشنل کرکٹ اکیڈمی (این سی اے) کے کھلاڑی شامل ہوں گے، جنہیں ماہانہ 10 لاکھ روپے تک ملنے کا امکان ہے۔
سینٹرل کنٹریکٹ کے ماہانہ معاوضے کے علاوہ کھلاڑیوں کو ملنے والی میچ فیس بالکل الگ ہوگی، جن میں ٹیسٹ میچ کےلیے 15 لاکھ روپے، ون ڈے میچ کےلیے ساڑھے 7 لاکھ روپے جبکہ ٹی ٹوئنٹی میچ کیلئے 5 لاکھ روپے فی میچ فیس ادا کی جائے گی۔
ذرائع کے مطابق اگر پاکستانی ٹیم انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) کا کوئی بڑا ایونٹ جیتے تو کھلاڑیوں کو میچ فیس کا 500 فیصد بطور بونس ملے گا۔
اسی طرح ایشین کرکٹ کونسل (اے سی سی) کا کوئی ایونٹ (جیسے ایشیا کپ) جیتنے پر میچ فیس کا 300 فیصد بونس دینے کی تجویز ہے۔
ذرائع کے مطابق سینٹرل کنٹریکٹ کے علاوہ کھلاڑی لیگ کرکٹ سے بھی پیسہ کما سکیں گے، ہر ٹریک کے حساب سے کھلاڑیوں لیگز کرکٹ کھیلنے کی اجازت ہوگی۔