• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

اس مقتل میں صرف اک میری سوچ لہکتی ڈال

آپ میں جو میری عمر کے لوگ ہیں انہیں یاد ہوگا کہ جواہر لال نہرو انیس سو ساٹھ میں لاہور آئے ،شالامار باغ میں انہیں خوش آمدید کہا گیا ہمارے فیلڈ مارشل ایوب خان بھی میزبان کے طور پر موجود تھے مگر سپاس نامہ لارڈ مئیر میاں امیرالدین نے پیش کیا،وہی میاں امیرالدین جو علامہ اقبال کے سمدھی تھے۔تب ریڈیو پاکستان ہی لاکھوں کروڑوں کیلئے رابطے کا ذریعہ تھا،ہمارے میاں صاحب نے اردو میں لکھی ہوئی تقریر کو سپاس نامہ بنایا تب اور اب انجمنِ حمایت اسلامیہ کے تحت تعلیمی ادارے تھے گویا بڑے بڑے استاد میاں صاحب کے ماتحت تھے پر جب جواہر لال نہرو نے جوابی تقریر کی تو وہ اردو کی مرصع زبان تھی اور طرزِ ادا بھی دل کش جبکہ بتانے کی ضرورت نہیں کہ میاں ہمارے ہاںکی تقریر کے سبھی عیوب ایسے نمایاں ہوئے کہ ایوب خان نے ضرور قدرت اللہ شہاب سے کہا ہوگا یار شہاب صاحب کوئی اور نہیں تھا پورے لاہور میں جسے یہ سپاس نامہ پیش کرنے کو کہا جاتا۔ یہ بات پنجاب کے وزیرِ خزانہ میاں مجتبیٰ شجاع الرحمان جب پنجاب اسمبلی میں لکھی ہوئی بجٹ تقریر درد ناک تلفظ میں پیش کر رہے تھے تویاد آئی۔ البتہ... ایک تو حکومت پنجاب نے ہم ایسے پنشنروں کا دل جلایا کہ ان کی پنشن میں ساڑھے تین، جی ہاں ساڑھے تین فیصد اضافہ کیا اور اوپر سے اردو کا لہجہ بھی عبرت ناک۔میری نواسی علیزہ نے پوچھا کہ نانا آپ نے پوری تقریر کیوں سنی؟ مجھے بتانا پڑا کہ میں ازلی خوش فہم ہوں مجھے امید تھی کہ اس تقریر کے دوران پنجاب کی وزیرِ اعلیٰ انہیں ایک چٹ بھیجیں گی کہ ہم نے جگہ جگہ میٹھے پانی،شربت اور دودھ کی سبیلیں لگانے کا جو حکم دیا ہے اسی کی آدھی رقم سے پنشنروں کی پنشن میں اضافہ پانچ فی صد کیا جا رہا ہے ۔ اگلے ہی دن مراد علی شاہ نے سندھ کا بجٹ پیش کیا جہاں پنشنروں کی پنشن میں سات فی صد اضافہ کیا گیا ہے حتیٰ کہ بلوچستان کے بجٹ میں بھی یہ اضافہ سات فیصد کیا گیا ہے ۔ یہی نہیں گلگت بلتستان کے آزاد ارکان کو پاکستان استحکام پارٹی میں عبدالعلیم خان اور ملتان کی ترین فیملی کے جہانگیر ترین نے آخر فی سبیل اللہ تو اپنی پارٹی میں شامل نہیں کیا ہوگا۔ جہانگیر ترین کو کسی زمانے میں ہمارے بڑے خان کا اے ٹی ایم کہتے تھے اور انہی کے حکم پر ان کا جہاز بھی اراکینِ اسمبلی کے گلے میں طاقت وروں کا تعویذ ڈال کے ادھر سے اُدھر جایا کرتا تھا۔ ممکن ہے اب بھی ان کی مشاورت سے خیبر پختون خوا کی اسمبلی تین ماہ کی بجائے پورے ایک سال کا بجٹ پیش کرنے پر تیار ہو گئی ہے ۔وہ بجٹ آجائے تو معلوم ہو گا کہ وہاں کے پنشنروں کی پنشن میں کیا اضافہ ہوا ہے۔

بعض احباب کہہ سکتے ہیں کہ اس وقت دنیا ایران امریکہ معاہدے کا جشن منا رہی ہے ،اس خوشی میں شریک ہونا چاہئے اب تو اس معاہدے کی نقول باخبر صحافیوں کے پاس ہیں وہ اس پر کالم لکھ چکے ہیں کہ بہت کچھ کا انحصار دوسرے دورکے مذاکرات پرہے۔ظاہر ہے ہماری ہمدردی فردوسی،حافظ اور سعدی کے ملک کے ساتھ ہے مگر علامہ اقبال نے اسرار خودی میں ہی تلقین کر دی تھی کہ ہمیں عربی زبان و ادبیات سے بھی شغف ہونا چاہئے تاکہ کچھ سخت جانی بھی آئے ہم میں۔وہ صدر ٹرمپ جو اسلام آباد آ رہے تھے ان کا رخ سوئٹزر لینڈ کی طرف ہو گیا حالانکہ پزشکیان ماہر امراض ِ قلب ہیں اور قالیباف مشرقی قالینوں کے نقوش و نگار کے محافظ مگرسات بڑے ملکوں کے سربراہ زیورخ یا جینوا نہیں گئے سوئٹزر لینڈ سے متصل فرانسیسی شہر میں پہنچے ہیں جس کیلئے نامعلوم وجہ سے امیرِ قطر کا شکریہ ادا کیا جا رہا ہے پہلے یہ گمان ہوا کہ امیرِ قطر کوئی مرصع و مسجع جہاز امریکی صدر کو پیش کرنے لگے ہیں یا پاکستانی وزیرِ اعظم کو کچھ پیش کرنےلگے ہیں تاکہ وہ پنشنرز کی پنشن میں کچھ اور اضافہ کر سکیں۔

ہمارے ہاں ایک ترکیب عرصے سے استعمال ہو رہی ہےجسے ’’گیم چینجر‘‘کہتے ہیں خاص طور پر گوادر کے بارے میں کہا جاتا تھا کہ اس بندر گاہ کی فعالیت گیم چینجر ثابت ہو گی۔ یعنی بازی پلٹ جائے گی یا ہماری کایا کلپ ہو جائے گی۔ طارق محمود سرکاری افسر رہے بہت سی حساس فائلوں پر ان کی نظر رہی پھر وہ ریٹائر ہو کے پڑھانے بھی لگے۔بہت پہلے ان کا ناول شائع ہوا ’’اللہ میگھ دے‘‘ ضیا الحق کے دور میں ہم نے اس کی تعارفی تقریب ملتان میں کرائی،نامور اقبال شناس اور کچھ کچھ جماعتِ اسلامی سے یعنی ضیا الحق کے قریب تر مرزا محمد منور مہمانِ خصوصی تھے میں نے حسبِ عادت ضیا الحق دور پر جب طنزیہ فقرے اچھالے تو بے بس سامعین نے داد دی جسکے بعد مجھے یہ کہنے کا حوصلہ ہوا کہ طارق محمود کا یہ ناول ادھورا ناول ہے امید ہے کہ وہ ڈھاکہ یونیورسٹی کے گریجویٹ کے طور پر ایک اور ناول لکھیں گے اس پر مرزا صاحب چمک کر بولے پروفیسر صاحب کا کلیجہ پاکستان کے دو لخت ہونے پر ٹھنڈا نہیں ہوا وہ چاہتے ہیں کہ بچا کھچا پاکستان بھی لخت لخت ہو جائے۔اب طارق محمود کا نیا ناول ’’کتنی برساتوں کے بعد‘‘ آیا ہے اس میں بنگلہ دیش کے قیام اور اس کی معاشی اور سیاسی ترقی کے مختلف ادوار پر نگاہ ڈالی گئی ہے۔اس میں شیخ مجیب کے قتل اور حسینہ واجد کے زوال اور بھارت میں پناہ گزینی کے ساتھ گوادر کے ماہی گیروں کے مسائل کا جائزہ لیا گیا ہے جہاں جماعتِ اسلامی کے ایک رہنما ہدایت الرحمان بلوچ ان کے قائد بن گئے ہیں۔کاش ہمارے حاکم ہماری پنشن میں اضافہ نہ کریں مگر یہ ناول ہی سنجیدگی سے پڑھ لیں۔

تازہ ترین