• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

قیام پاکستان کے وقت کی خون ریزی سے لے کر حالیہ عہد تک ملکِ عظیم کی زخم خوردہ تاریخ میں ہونے والی انہونیوں، سانحات ،حادثات اور یک لخت وقوع پذیر ہونیوالے دل سوز واقعات کے بعد اہل درد کے ذہنوں میں یہ سوال زیر گردش رہا ہے کہ پھر بھی پاکستان زندہ وسلامت ہے بلکہ اپنی بھرپور توانائی اور بلندیوں کے ساتھ عالم اسلام کی آنکھ کا تارا ہے جسکی حالیہ بڑی وجہ مئی 2025ءکی پاک بھارت جنگ ہے ،اس جنگ میں ایشیا کی بڑی معاشی منڈی اور دس گنا بڑی دفاعی و فو جی قوت جسے سامراجی طاقتوں کی مکمل پشت پناہی حاصل تھی مگردنیا کے افق کی اسکرین پر چار گھنٹوں کی ہولناک جنگی ریہرسل نے دنیا کی جنگوں کے نئے زاویے مرتب کر دئیے اور اقوام عالم کے دلوں پر اپنی جنگی حکمت عملی و دفاعی طاقت کی دھاک بٹھا دی چنانچہ مودی سرکار کا ایشیائی چیمپئن بننے کا خمار ایک ہی زور دار جھٹکے میں اتر گیا۔ جسکے بعد بھارتی گودی میڈیا اور ہندو توا کے پیروکار وں نے خفت کے مارے چپ سادھ لی اور بالآخر تذبذب کا شکار واشنگٹن کے طاقتور سفید ہاتھی نے بھی پاکستان کی بے پناہ مقبولیت اور منفرد اہمیت پر سر تسلیم خم کر لیا۔

دیکھتے ہی دیکھتے ڈوبتی ہوئی معیشت اور ڈیفالٹ کے دہانے پر کھڑے ملک نے اپنی مقبول سفارتکاری اور بہترین خارجہ پالیسی کا لوہا منوا لیا جنگوں کا میدان ہو یا سفارتکاری پاکستان کی اہمیت کو کسی طور نظرانداز نہیں کیا جاسکتا ۔حالیہ ایران، امریکہ جنگ کے بھیانک اثرات مرتب ہوسکتے ہیں بظاہر اس جنگ کے شعلے امریکہ اور ایران کے درمیان بھڑک رہے ہیں لیکن پس پردہ یہ آگ خلیجی ممالک میں بھی سلگائی جا رہی تھی اگر پاکستان اپنے مضبوط سفارتی تعلقات اور بہترین حکمت عملی کی بنا پر مثبت کردار ادا نہ کرتا تو اب تک مشرق وسطیٰ اس آگ کی لپیٹ میں ہوتا امریکہ اسرائیل جسکی ظاہری و خفیہ منصوبہ بندی کئے بیٹھے تھے پاکستان کی سیاسی و عسکری قیادت بالخصوص فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر کے جراتمندانہ عزائم اور عقابی نگاہ نے ہر سازش کو بے نقا ب کرکے تہہ و بالا کر دیا۔

انہوں نے جنگ ظلمت میں امن کا فانوس روشن کیا اور اقوام عالم کیلئے امن و آشتی کی جوت جگائی حتیٰ کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھی وزیر اعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی بے باک قیادت اور بے مثل حکمت عملی کے بارہا معترف نظر آرہے ہیں البتہ وزیر خارجہ اسحاق ڈار کے مسیحائی کردار کو کسی صورت نظر انداز نہیں کیا جاسکتا جو دو ہفتے تک مسلسل محو سفر رہےجنہیں نہ نیند کی اور نہ ہی صحت کی فکردامن گیر تھی ،یہ تیس سالہ جوان نہیں بلکہ ستر سالہ بزرگ ہیںیہی وجہ تھی کہ ہفتوں کی جہد مسلسل نے انہیں جھکنے نہ دیا۔ وہ اسلام آبادمیں سفارتکاروں سے ملتے ہوئے پاؤں پھسل کر گر پڑے جس پر حسب روایت بھونپو یو ٹیوبرزنے اس قدر ہڑبونگ مچائی کہ بھارتی گودی میڈیا بھی دنگ رہ گیا لیکن اس بات سے کیونکر بے خبر رہے کہ اگر متوازن اوردانش مندانہ سفارتکاری نہ ہوتی تو ایران اور خلیجی ممالک کے درمیان فاصلے گہرے ہوتے چلے جاتے اور دشت کی وہ آگ سمیٹے نہ سمٹتی جسکی شدید حسرت امریکہ و اسرائیل کے من میں کروٹیں لے رہی تھی لیکن پاکستان کی بلا تعطل مہارتی کاوشوں، سیاسی و عسکری اکابر کی بے پناہ سفارتی جدوجہد کی بدولت ان کی یہ خواہش سینے میں دم توڑتی ہوئی محسوس ہوئی علاوہ ازیں جنگ زدہ تہران میں بلا خوف و خطر جرات و بہادری کا استعارہ بنے فاتحانہ انداز میں جہاز کی سیڑھیاں اترتے ہوئے فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر نے ان تمام ناکام حسرتوں کے تابوت میں آخری کیل ٹھونک دی اور مارخورکی اس جنگی چال سے عالمی طاقتیں بھی لرز اٹھیں۔ مستقبل قریب و بعید کاسورج کس صورت جلوہ گر ہوگایہ تو وقت ہی بتائے گالیکن اس آگ کے شعلے اگر سمٹ گئے، جو تیسری عالمی جنگ کی صورت قوموں اور ملکوں کی دہلیز پر کھڑی ہے، تو پاکستان دنیاکے نقشے پر نئی معاشی و دفاعی قوت کے ساتھ ابھرے گا۔ سعودی عرب کے ساتھ دفاعی اسٹرٹیجک معاہدہ اس کی اہم کڑی ہے جو پاکستان کو عالمی سطح پر رفعتیں عطا کرے گا آنے والے وقتوں میں یہ معاہدہ پاکستان کو عالم اسلام اور اقوام عالم میں کلیدی مقام دے گا۔

موجودہ حالات میں جس غیر جانبدار اور متوازن پالیسی پر پاکستان گامزن ہے یہی اسکی سب سے بڑی سفارتی کامیابی ہے جسکی بدولت بین الاقوامی سطح پر پاکستان کے کردار کو سراہا جارہا ہے۔ نیویارک ٹائمز ،فنانشل ٹائمز اور گارڈین جیسے معتبر اخبارات میں پاکستان کے حوالے سے مثبت اور حوصلہ افزا تجزیے شائع ہو رہے ہیں ۔نیو یارک ٹائمز کی ایک رپورٹ نے ان عوامل کی نشاندہی کی ہے جن کی بنیاد پر پاکستان نے ایک موثر ثالث کی حیثیت حاصل کی، رپورٹ کے مطابق پاکستان ماضی میں بھی عالمی سطح پر ثالثی کاکردار ادا کرتا رہا ہے اور اب وہ باقاعدہ ثالثی کی پوزیشن میں آچکا ہے کیونکہ پاکستان کی سیاسی و عسکری قیادت بالخصوص فیلڈمارشل عاصم منیر نے اعلیٰ امریکی قیادت کا اعتماد حاصل کیا ہے اورامریکی نمائندے اسٹیو وٹکوف کے ساتھ فیلڈ مارشل عاصم منیر کے موثر رابطے ہیں۔ فنانشل ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق پاکستان نے ایران اور امریکہ کے مابین پل کا کردار ادا کرکے عالمی سطح پر اپنا لوہا منوا لیا ہے یہی پاکستان کی سب سے بڑی سفارتی کامیابی ہے۔

تازہ ترین