• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

صرف سسٹم کا فرق ہے۔ وہاں ہر شخص اپنی صلاحیتوں اور تعلیم و تربیت کے زور پر آگے آ سکتا ہے۔ جبکہ ہمارے ملک میں کچھ قوتوں نے متعلقہ پروسس کو شکنجے میں لیا ہوا ہے اور پھر نہلے پہ دہلہ یہ کہ امیدواران اپنی جیب سے الیکشن کمپین پر خرچ بھی کریں۔امریکہ کے سب سے بڑے شہر نیویارک کے نو منتخب نوجوان میئر ظہران ممدانی صرف ایک استعارہ ہیں۔ جمہوری ممالک میں بے شمار قابل تقلید مثالیں موجود ہیں۔ برطانوی سابق وزیراعظم جان میجر کے والد ایک ایسے سرکس میں کام کرتے جوسارے ملک میں پھرتا تھا۔ جہاں جا کر لگتا وہیں ایک تمبو میں جان میجر کی فیملی کا قیام ہوتا۔ نوجوان جان میجر کی سیاست میں انٹری یونین کونسل کے کونسلر کے طور پر ہوئی جب وہ مکمل بیروزگار تھے۔ لیکن سسٹم نے انکے روزگار کا اہتمام بھی کیا کہ قانون کے مطابق ساتھ والی دوسری یونین کونسل میں ملازمت دیدی گئی۔ وزیراعظم ہوتے ہوئے بقول انکے کابینہ کی میٹنگ میں ٹیبل کے گرد تمام افراد کیمبرج اور آکسفورڈ کے تعلیم یافتہ تھے سوائے ایک شخص کے جو کسی یونیورسٹی سے نہیں پڑھا تھا۔ وہ شخص وہ خود تھے۔ یعنی برطانوی معاشرے کے بہترین افراد سیاست میں جا کر ملک چلاتے ہیں۔ اور جو ٹیلنٹڈ ہونے کے باوجود معمولی فیملی پس منظر کیوجہ سے تعلیم حاصل نہیں کر پاتے وہ بھی اپنی قابلیت ثابت کردیںتو سسٹم انہیں بہترین افراد کا قائد بنا دیتا ہے۔ اس میں دو اسباق موجود ہیں کہ معاشرے کے سب سے زیادہ تعلیم یافتہ افراد سیاست میں جا کر قیادت کرتے ہیں اور جو خاندانی مجبوریوں کیوجہ سے تعلیم حاصل نہیں کر سکتے مگر ٹیلنٹڈ ہیں انکا مقدر بھی محرومی نہیں بلکہ مواقع کا میسر آنا ہے۔آج بھی برطانیہ کا نظام یہ ہے کہ پارلیمنٹ کے الیکشن میں کمپین پر امیدوار اپنی جیب سے 800 پونڈ سے زیادہ ایک پائی بھی خرچ کرے تو سزا ہوتی ہے۔اس معاملے کا مشہور ترین کیس گلاسگو سے 1997 میں پہلی بار منتخب ہونیوالے چوہدری سرور کا ہے۔ مخالفین ان کو عدالت لے گئے کہ انہوں نے الیکشن کمپین کے دوران گلاسگو کے چند ووٹروں کو چائے پلائی تھی۔کیس چار مہینےچلا اورچار ماہ لیٹ محمد سرور نے پارلیمنٹ کا حلف اٹھایا۔ یہ کیس آج بھی برطانیہ کے الیکشن قوانین کی کتابوں میں یونیورسٹیوں پر پڑھایا جاتا ہے۔ 800 پونڈ سے زیادہ کمپین کا خرچہ پرائیویٹ ڈونرز اور پارٹی برداشت کرتی ہے۔ جبکہ حکومت ہر امیدوار کی مدد یوں کرتی ہے کہ امیدوار اپنے حلقے کے ہر ووٹر کو ایک خط بذریعہ ڈاک فری بھیج سکتا ہے اور مختص کردہ سرکاری ہالوں میں فری جلسے کر سکتا ہے۔ قانون کی مقرر کردہ حد سے ایک پائی زیادہ نہیں خرچ ہو سکتی۔ ہماری طرح نہیں کہ ایم این اے کیلئے حد تو 40 لاکھ مقرر ہے مگر خرچہ کروڑوں میں۔ پاکستان کے الیکشن ایکٹ 2017 کے سیکشن 182 کے تحت ووٹ کے حصو ل کیلئے کسی ووٹر کو کھلانا پلانا غیر قانونی ہے۔ مگر ہر ایک کو پتا ہے کہ ووٹ کی قیمت بریانی کی ایک پلیٹ ہوتی ہے۔ اصل فرق یہی ذہنیت ہے کہ وہاں ووٹر کہتا ہے میں اپنا امیدوار کھڑا کروں گا اور ڈونیشن دے کر امیدوار کا مالک بن جاتا ہے۔ جبکہ یہاں ووٹر بریانی کی ایک پلیٹ کے عوض ووٹ دے کر گاہک کا روپ دھار لیتا ہے۔ جب سودا مکمل ہو گیا تو ایم این اے کے منتخب ہو جانے کے بعد گاہک اس کی کارکردگی نہیں پوچھ سکتا۔برطانیہ اور امریکہ میں جب امیدوار ٹکٹ کیلئے اپنے آپ کو پیش کرتے ہیں تو پارٹی کی مقامی اور مرکزی قیادت انکی شخصیت کے چند پہلوؤں پر غور کرتی ہے۔ نظریات و خیالات کی پختگی، مسائل اور انکے حل کا ادراک، کمیونیکیشن اسکلز خاص طور پر فن خطابت، ووٹروں کیساتھ میل جول کی سوجھ بوجھ، قانونی طور پر بینکرپٹ نہ ہونا، کسی مقدمے میں سزا یافتہ نہ ہونا۔ یعنی امیدوار کی اپنی جیب میں پیسے کتنے ہیں اس فیکٹر کو زیرو اہمیت دی جاتی ہے۔ جبکہ اکثر پاکستانی پارٹیوں کے زیر غور سب سے بڑا فیکٹر ہوتا ہے امیدوار کی جیب۔ دکھ کی بات یہ ہے کہ پارٹی قیادت یہ بھی نہیں معلوم کرتی کہ وہ پیسہ آیا کہاں سے۔ شاید فی الحال صرف ایم کیو ایم، جماعت اسلامی اور جے یو آئی ایف ٹکٹ دیتے وقت امیدوار کی جیب پر نظر نہیں رکھتیں۔یوگنڈا میں پیدا ہونے والا خالی جیب مسلمان ظہران ممدانی اس شہر کا میئر منتخب ہوتا ہے جہاں دنیا کے طاقت ور ترین یہودیوں کا قبضہ ہے۔ وہ بھی اس ایجنڈے کے ساتھ کہ اگر اسرائیلی وزیراعظم میرے شہر میں آیا تو میں اسے گرفتار کروا دوں گا۔ سفید فام آبادی سے برصغیر کے والدین کا بیٹا اس لیے اکثریتی ووٹ لے گیا کہ وہاں ووٹرہی فیصلہ کرتے ہیں۔ اور وہاں امیدوار کی جیب نہیں بلکہ اس کی قابلیت اور میچنگ فنڈز سسٹم کام کرتا ہے۔ جسکے مطابق اگر ہر ڈونر کی ڈونیشن 250 ڈالرز سے زیادہ نہ ہو تو سٹی گورنمنٹ اس میں آٹھ گنا جمع کر دئیگی۔ یعنی اگر کسی امریکی نے ظہران کو 10 ڈالر ڈونیٹ کیے تو سٹی گورنمنٹ اس میں 80 جمع کر کے 90 بنا دئیگی۔ اسی وجہ سے ظہران نے صرف 54000 افراد سے 5، 10، 50وغیرہ لے کر کروڑوں ڈالر بنائے اور ارب پتی یہودیوں پر بھاری ٹیکس لگانے کے ایجنڈے کیساتھ انہیں دندان شکن شکست دی۔دوسرے جمہوری ممالک کی طرح پاکستان کی ہر سیاسی پارٹی کی یونین کونسل لیول پر کارکنان کی ماہانہ میٹنگز باقاعدگی سے ہونی چاہئیں تاکہ کارکنان کی سیاسی تربیت اور نئے کارکنان کا تعارف ہو سکے۔ جب تک عام انسان کے سیاست میں متعارف ہونے میں رکاوٹیں دور نہیں ہوتیں اور کمپین اخراجات کا نظام درست نہیں ہوتا، اس وقت تک ظہران جیساٹیلنٹ ہماری سیاست میں نہیں آ سکتا۔

تازہ ترین