امریکی انتظامیہ نے اسرائیل میں صدر نیتن یاہو کے حریفوں کے ساتھ رابطے شروع کر دیے۔
امریکی میڈیا کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ کے حکام مبینہ طور پر اسرائیلی اپوزیشن رہنماؤں کے ساتھ رابطے کر رہے ہیں، ان میں ایسے افراد بھی شامل ہیں جو اسرائیل میں وزیرِ اعظم نیتن یاہو کو سیاسی طور پر سخت ٹائم دے سکتے ہیں۔
اسرائیلی میڈیا کے مطابق امریکی انتظامیہ کے لوگوں نے حال ہی میں اسرائیلی اپوریشن کی شخصیات کے ساتھ تعلقات استوار کرنے کے لیے رسائی کی کوششیں شروع کر دی ہیں۔
اسرائیلی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق مستقبل کے انتخابات میں نیتن یاہو کی جگہ لینے والے سرکردہ امیدواروں میں سابق وزیرِ اعظم نفتالی بینیٹ اور سابق چیف آف اسٹاف گاڈی آئزن کوٹ شامل ہیں۔
امریکی میڈیا کے مطابق یہ سارا معاملہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی انتظامیہ کے اندر اسرائیلی حکومت کی حوالے سے مایوسی دیکھی گئی۔
دوسری جانب امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے بھی امریکا ایران مفاہمتی یادداشت کے بعد بعض اسرائیلی وزراء کی جانب سے امریکی انتظامیہ پر تنقید کا جواب دیا ہے۔
امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا ہے کہ اسرائیل زیادہ تر ہتھیار واشنگٹن ہی سے لیتا ہے، اسرائیل کو حاصل ہتھیاروں کی قیمت امریکیوں کے ٹیکس سے ادا ہوئی۔
جے ڈی وینس نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ اسرائیل کا صرف 3 ماہ کے دوران تحفظ کرنے والے 2 تہائی ہتھیار امریکیوں کے ہاتھوں تیار ہوئے۔
انہوں نے کہا کہ جو امریکی صدر کو مسئلہ سمجھتا ہے وہ خوابِ غفلت سے بیدار ہوں اور حقائق جانے۔
علاوہ ازیں یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ حال ہی میں ایران کے ساتھ جنگ کے دوران اور اسرائیل لبنان جنگ بندی کے دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھی اسرائیلی وزیرِ اعظم نیتن یاہو کے لیے سخت جملے استعمال کر چکے ہیں۔