اقوامِ متحدہ کے ادارہ برائے اطفال ’یونیسیف‘ نے کہا ہے کہ غزہ میں نام نہاد جنگ بندی کے باوجود گزشتہ 8 ماہ سے اوسطاً روزانہ 1 فلسطینی بچہ اسرائیلی حملوں میں شہید ہو رہا ہے۔
یونیسیف کے ترجمان جیمز ایلڈر کے مطابق اکتوبر 2025ء میں جنگ بندی کے اعلان کے بعد سے اب تک کم از کم 265 فلسطینی بچے شہید اور 400 سے زائد زخمی ہو چکے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ بچے گھروں، اسکولوں، خیموں اور عوامی مقامات پر بھی حملوں کا نشانہ بن رہے ہیں۔
ترجمان نے کہا کہ غزہ کے بچوں کے لیے خوف، تشدد اور محرومی روزمرہ زندگی کا حصہ بن چکی ہے جبکہ طبی سہولتیں، ادویات اور ضروری سامان کی شدید قلت زخمی بچوں کی حالت مزید خراب کر رہی ہے۔
یونیسیف نے خبردار کیا ہے کہ سیکڑوں بچوں کو فوری طبی انخلاء کی ضرورت ہے جبکہ مسلسل پابندیوں کے باعث انفیکشن اور اعضاء کٹنے کے خطرات بڑھ رہے ہیں۔
ادارے نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ بچوں کی شہادتیں روکنے اور بین الاقوامی قوانین کے تحفظ کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں۔
دوسری جانب فلسطینی حکام کے مطابق 7 اکتوبر 2023ء سے جاری اسرائیلی جنگ میں اب تک 73,018 فلسطینی شہید اور 173,273 زخمی ہو چکے ہیں۔