امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ جی سیون سربراہی اجلاس کے دوران ان کا ’میں باس ہوں‘ کا جملہ سنجیدہ نہیں بلکہ محض ایک مذاق تھا جسے غلط انداز میں لیا گیا۔
امریکی ویب سائٹ کو دیے گئے ایک حالیہ انٹرویو میں ڈونلڈ ٹرمپ نے وضاحت کرتے ہوئے کہا ہے کہ میں اجلاس کے کمرے میں داخل ہوا تو میں نے صرف ازراہِ مذاق یہ جملہ کہا تھا، وہاں موجود عالمی رہنماؤں نے اس جملے پر ہنس کر مذاق سمجھ جانے کا ثبوت بھی دیا تھا۔
صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ یہ بات دنیا بھر میں وائرل ہو گئی حالانکہ میری نیت صرف مزاح تھی نہ کہ خود کو ’باس‘ ظاہر کرنا۔
واضح رہے کہ یہ واقعہ فرانس میں ہونے والے 3 روزہ جی سیون اجلاس کے آخری دن پیش آیا تھا جہاں برطانیہ، فرانس، جاپان، اٹلی، جرمنی، کینیڈا اور امریکا کے رہنما شریک تھے۔
ٹرمپ کے جملے کے بعد اجلاس میں قہقہے سنائی دیے جبکہ فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے خوش گوار انداز میں گفتگو جاری رکھی تھی۔
یاد رہے کہ جی سیون کا پہلا اجلاس 1975ء میں فرانس کے شہر رامبویے میں منعقد ہوا تھا جس کا مقصد بڑی معیشتوں کے درمیان تعاون کو فروغ دینا تھا۔