• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے اسرائیلی وزیرِ اعظم نیتن یاہو کو لگام ڈالنے کا مطالبہ زور پکڑنے لگا

---فائل فوٹو
---فائل فوٹو 

امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی معاہدے کو لبنان میں جاری اسرائیلی حملوں کے باعث شدید خطرات لاحق ہو گئے ہیں جس کے نتیجے میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے اسرائیلی وزیرِ اعظم نیتن یاہو کو لگام ڈالنے کا مطالبہ زور پکڑنے لگا ہے۔

الجزیرہ کی ایک خصوصی رپورٹ میں بین الاقوامی شہرت یافتہ تجزیہ کاروں اور ماہرین کی رائے شائع کی گئی ہے۔

رپورٹ کے مطابق تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر اسرائیل نے لبنان میں اپنی فوجی کارروائیاں بند نہ کیں تو پورا سفارتی عمل متاثر ہو سکتا ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ معاہدے میں واضح طور پر لبنان سمیت تمام محاذوں پر فوجی کارروائیوں کے مستقل خاتمے کا ذکر کیا گیا ہے تاہم اسرائیل لبنان میں حملے جاری رکھے ہوئے ہے اور مزید علاقوں پر قبضہ کرنے کا عندیہ دے رہا ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے لبنان سمیت تمام محاذوں پر مکمل جنگ بندی کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں امن عمل کو آگے بڑھنے دیا جائے۔

دوسری جانب ایران نے دو ٹوک مؤقف اختیار کیا ہے کہ لبنان پر حملے جاری رہنے کی صورت میں معاہدے کو حتمی شکل نہیں دی جا سکتی۔

حالیہ اسرائیلی حملوں میں درجنوں افراد کے جاں بحق ہونے کے بعد امریکا اور ایران کے درمیان تکنیکی مذاکرات بھی مؤخر کر دیے گئے ہیں، ایران نے خبردار کیا ہے کہ لبنان پر بمباری جاری رہی تو اسرائیل کو سخت ردِعمل کا سامنا کرنا پڑے گا۔

معروف تجزیہ کار تریتا پارسی کے مطابق لبنان کا معاملہ امریکا ایران معاہدے کی سب سے بڑی کمزوری اور اہم امتحان ہے کیونکہ ایران لبنان میں جنگ بندی اور اسرائیلی انخلاء کے مطالبے پر سنجیدہ ہے۔

دوسری جانب امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے بھی اسرائیل پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ بیروت میں شہری علاقوں پر حملے قابلِ قبول نہیں۔

اُنہوں نے اشارہ دیا ہے کہ امریکا اسرائیل سے اختلافات کے باوجود امن عمل کو نقصان نہیں پہنچنے دینا چاہتا۔

رپورٹ کے مطابق ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر صدر ٹرمپ واقعتاً معاہدے کو کامیاب بنانا چاہتے ہیں تو انہیں صرف بیانات نہیں بلکہ اسرائیل پر عملی دباؤ بھی ڈالنا ہو گا تاکہ لبنان میں فوجی کارروائیاں رک سکیں۔

بین الاقوامی خبریں سے مزید