• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

بچپن کی یادیں اور ماحول چاہے تلخ ہی کیوں نہ ہو، کس کو بھلا نہیں لگتا، صحرا کا باشندہ ہو، کہساروں کا مکین ہو یا لاہور کراچی جیسے بڑے شہروں میں آوارگی کا شوقین، وہ بچپن کے ماحول میں تبدیلی کیخلاف مزاحمت کار بن جاتا ہے۔ سینئر نسلوں کی یہ مزاحمت کاری ہی تو ہے کہ آزادی کے بعد نظام تبدیل ہونے کا نام ہی نہیں لے رہا۔ دفتروں، تعلیمی اداروں میں وہی غلام دور کی زبان کا طوطی بول رہا ہے۔ عالمی زبانوں کا اتنا ہی شوق ہوتا تو روسی، فرانسیسی، جرمن اور چینی زبانوں کی درسگاہیں بھی انگریزی زبان دانی کی طرح جگہ جگہ قائم ہوتیں۔ حتیٰ کہ پرانی نسل کی اشرافیہ غلامانہ ذہنوں کو تبدیل کرنے کی بجائے دورِ غلامی کی یادگاروں اور ناموں کو قائم رکھنےپر بضد ہے اور اب سڑکوں، شہروں کے نئے دور میں تبدیل ہونیوالے ناموں سے بریت کا اظہار کیا جارہا ہے۔ حیرت ہے کہ فین روڈ جو کہ برطانوی استعمار کے کمانڈر ہنری فین کے نام سے منسوب تھا۔ بیڈن روڈ بنگال کے گورنر سرسیل بیڈن کے نام پر تھا کہ جنہوں نے 1857ء کی جنگ آزادی کو کچلنے میں اہم کردار ادا کیا۔ مال روڈ کا چیئرنگ کراس لندن شہر کے چیئرنگ کراس کی علامت بنا دیا گیا اور کوئنز روڈ برطانوی ملکہ عالیہ سے موسوم تھا۔ لیکن بعدازاں ان نوآبادیاتی نشانیوں کو آنیوالی نسلوں کے ذہنوں سے محو کرنے کیلئے نئے نام دے دیئے گئے تو یہ آزاد قوم کا حق تھا، جسے اس نے استعمال کیا۔ اب ماضی کی دلدادہ اشرافیہ کیوں پرانے نوآبادیاتی ناموں اور ملوک بادشاہی نشانیوں کو دوبارہ زندہ رکھنا چاہتی ہے۔تازہ آزاد ہونیوالی اقوام غلامی اور ظالمانہ اقتدار کے تلخ ایام اور ناپسندیدہ علامتوں سے بریت کا اظہار کرتی رہتی ہیں۔ آزاد اقوام اپنی Soverinty اور قومی تشخص کی بحالی کیلئےایسا کرتی ہیں۔ اس میں کوئی اچنبھے والی بات نہیں، مثلاً اب بمبئی شہر کا نام ممبئی رکھ دیا گیا ہے۔ کلکتہ کو کول کتہ بنایا گیا۔ سائیگون کو ہوچی منہ سٹی، Edo کو ٹوکیو اور لینن گراڈ کو سینٹ پیٹرز برگ کا نام دیا گیا تو اس کے پس پردہ قومی وقار کی سوچ موجود تھی۔ ہم ہیں کہ ایک فیصل آباد کے نئے نام سے پریشان ہیں۔ آزاد حکومتیں شاہرات اور گلیوں کے نام بھی تبدیل کرتی رہتی ہیں۔ 1984ء میں امریکہ میں سوویت سفارتخانہ کے سامنے موجود سڑک کا نام ’’بوبی سینڈز اسٹریٹ‘‘ رکھ دیا گیا۔ ایران نے برطانوی سفارتخانے کو جانیوالی سڑک کا نام ’’چرچل اسٹریٹ‘‘ سے تبدیل کر کے آندرے سنحاروف اسٹریٹ رکھ دیا۔ نیویارک اور ٹوکیو جیسے جدید شہروں میں ہر سال توسیع کے دوران متعدد شاہرات کے نام تبدیل ہوتے رہتے ہیں۔ سڑکوں اور عمارتوں کے پرانے نام کی تبدیلی شہر یا قوم کے تاریخی اثاثہ جات کو خطرات میں نہیںڈالتے۔پوری دنیا میں بہت سارے شہروں کے نام محض اسلئے تبدیل کر دیئے گئے چونکہ مقامی لسانی اور گرائمر کی غلطیوں کی اصلاح مقصود تھی۔ جب کوئی ریاست حملہ آوروں کے آگے ہتھیار ڈال دیتی ہے، دوسری تہذیب یا نئے سیاسی اتحاد سے وابستہ ہو جاتی ہے۔ تب بھی بالعموم مفتوحہ علاقوں کے نام رضاکارانہ طور پر بدلتے رہتے ہیں تاکہ سابقہ دور سے واضح لاتعلقی کا اعلان ہو۔ جیسے بازنطینیہ کا نام قسطنطنیہ رکھ دیا گیا۔ لیکن پھر Ottoman Empire کے زیراثر ہونے پر اس کا نام استنبول تسلیم کر لیا گیا۔ اسی طرح پیکنگ کا نام بیجنگ سے تبدیل ہو گیا۔البتہ ناموں کی اس تبدیلی اور نئے نام رکھنے کے عمل کے دوران نہایت منصفانہ طرزِعمل اختیار کیا جائے جو بادی النظر میں نئی مقتدرہ اور نئے انقلابیوں کی وسعت قلبی کی غماز ہو۔ چنانچہ نئی اور پرانی اسٹریٹ اور شہروں کے نام ایسی تاریخی ہستیوں سے منسوب ہوں جنہوں نے بلاتمیز مذہب و قبیلہ بہترین عوامی خدمات انجام دی ہوں نہ کہ سامراجی اور خاندانی تسلط کے ذریعے لوگوں پر ظلم کئے ہوں۔ Richman Hill شہری پروٹوکول کے مطابق ایسے نام جو کسی کمپنی، تجارتی سرگرمی یا مصنوعات کے نام پر ہوں، سختی سے منع ہیں۔ سڑکوں کے ایسے نام جن سے کلچرل حساسیت، نسلی امتیاز یا سیاسی نزاع کی جھلک نظر آئے، اس سے احتراز کرنا چاہئے۔ یورپ اور امریکہ میں تو Thematic گروپ یعنی پھولوں، پرندوں، درختوں کے نام کے ساتھ اسٹریٹس کے نام موسوم کر دیئے جاتے ہیں۔امریکن پلاننگ ایسوسی ایشن (APA) کے مطابق سڑکوں کے نام جدید شہری سہولتوں کے پیش نظر تبدیل کرنے میں کوئی قباحت نہیں۔ ایسے نام جو منطقی طریقہ سے Navigation میں آسانی پیدا کریں اور مقامی آبادی کے ساتھ تہذیبی تعلق ہو۔ ایسے نام جو علاقے کی تاریخ اور جغرافیہ سے آگاہ کرتے ہیں یا علاقے کی لینڈاسکیپ کی شناخت بیان کرتے ہوں، جیسے Yellow Stone Park، نئے قصبوں، شاہراہوں اور تجارتی مقامات کے نام مکمل مقامی شہری تائید سے منتخب کئے جائیں۔ اس کیلئے کسی دفتری، سیاسی اور لسانی دبائو کو خاطر میں نہ لایا جائے۔ ویسے بھی عوامی ٹیکسوں کی مد سے کی گئی تعمیرات اور منصوبے کسی زندہ شخصیت سے منسوب کرنے کا کوئی اخلاقی جواز نہیں ہے۔

خدا کے فضل سے آج ہم آزاد ملک کے شہری ہیں۔ ہمیں کسی سابقہ یا موجودہ رواداری کو نبھاتے ہوئے اس قوم کے ان جواں مردوں اور حریت پسندوں کو بھی یاد رکھنا ہے جنہوں نے پاکستان کی آزادی کیلئے اپنے وقت، کاروبار اور جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔ نہ صرف دو قومی نظریہ کی آبیاری کی بلکہ نوآبادیاتی سامراج اور اس سے پہلے سکھ و بیرونی حملہ آوروں کا مقابلہ کیا۔نئے نام رکھتے ہوئے ہم نے ان ہستیوں کو بھی یاد رکھنا ہے تاکہ سابقہ بیرونی ستم گر ادوار کی مذمت ہو۔ پرانے غلامانہ ادوار سے اگر کسی کی خوشگوار یادیں وابستہ ہیں ،بہتر ہے ان نشانیوں کو اپنے ذاتی تصرف والی عمارات یا ڈرائنگ رُوم کارنس پر سجا لے۔ وگرنہ نئی نسل اسے غلامانہ دور کے احیا اور نوآبادیاتی دور کا تسلسل سمجھے گی۔

تازہ ترین