• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

تہران کے ایک انتہائی محفوظ ترین کمپلیکس میں، زمین کی کئی تہوں کے نیچے قائم ایک زیرِ زمین بنکر میں خطے کی تقدیر کا سب سے خوفناک اور سنسنی خیز باب لکھا جا رہا تھا۔ کمرے میں مکمل خاموشی تھی اور ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای اپنے اعلیٰ ترین سکیورٹی مشیروں کے ہمراہ روزمرہ کے عسکری امور کے جائزے میں مصروف تھے۔ کسی کے وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ اگلا ہی لمحہ نہ صرف انکی زندگی، بلکہ پورے مشرقِ وسطیٰ کی تاریخ کو ہمیشہ کے لیے بدلنے والا ہے۔ اچانک آسمان سے خطرناک میزائلوں کی بارش ہوئی۔ ایک ایسا ہولناک اور کان پھاڑ دینے والا دھماکہ ہوا، فولادی دیواریں لرز اٹھیں اور گرد و غبار کا وہ مہیب بادل چھا گیا جو صرف بڑے سانحات کے بعد ہی جنم لیتا ہے۔ جب دھواں چھٹا، تو معلوم ہوا کہ یہ کوئی عام حملہ نہیں تھا۔ اس ہولناک کارروائی میں عالمِ اسلام کی ایک قدآور شخصیت، آیت اللہ علی خامنہ ای اپنے قریبی ساتھیوں اور خاندان کے افراد سمیت جامِ شہادت نوش کر چکے تھے۔

سپریم لیڈر کی شہادت کے بعد آپریشن ایپک فیوری اپنے آخری اور سب سے خطرناک مرحلے میں داخل ہو رہا تھا کیونکہ واشنگٹن اور تل ابیب کے اسٹرٹیجک رومز میں ایران کی بچی کچھی قیادت کی ایک نئی اور حتمی ہٹ لسٹ تیار ہو چکی تھی۔ اس نئی ہٹ لسٹ پر اب ایران کے صدر، وزیر خارجہ اور ایرانی قومی اسمبلی کےا سپیکر محمد باقر قالیباف کے نام سرخ روشنائی سے لکھے جا چکے تھے۔ دشمن کا منصوبہ یہ تھا کہ تہران میں اقتدار کا ایسا مکمل خلا پیدا کر دیا جائے کہ ملک کے اندر شدید ترین سیاسی اور داخلی انتشار کی آگ بھڑک اٹھے اور ایران خود بخود خانہ جنگی کی دلدل میں دھنس جائے۔۔ لیکن تاریخ گواہ ہے کہ جب اندھیرا سب سے گہرا ہوتا ہے، تو امید کی کرن کہیں نہ کہیں سے ضرور پھوٹتی ہے۔ اور اس بار یہ کرن پاکستان کی شکل میں نمودار ہوئی۔ اسلام آباد کے ایوانِ صدر اور راولپنڈی کے عسکری ہیڈ کوارٹر میں خطرے کی گھنٹیاں بج چکی تھیں۔ پاکستان کی قیادت بخوبی جانتی تھی کہ اگر ایران کا شیرازہ بکھر گیا تو اس کے بھیانک اثرات پورے خطے کو اپنی لپیٹ میں لے لیں گے۔ یہ وہ وقت تھا جب پاکستان نے خاموش تماشائی بننے کے بجائے ایک ایسا جرات مندانہ اور تاریخی فیصلہ کیا جس نے بین الاقوامی سیاست کا رخ موڑ دیا۔ وزیراعظم شہباز شریف نے فوری طور پر سول قیادت کو متحرک کیا، جبکہ عسکری محاذ پر فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے صورتحال کا گہرا اور باریک بینی سے جائزہ لیتے ہوئے اس حساس ترین مشن کی کمان سنبھالی۔ اس سفارتی جنگ میں نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار ان کا دائیں بازو بنے۔ اس نازک ترین گھڑی میں، وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے وزیراعظم کے شانہ بشانہ دن رات ایک کیےاور ملک کے اطلاعاتی نظام کو عالمی سطح پر ایک ایسی مضبوط ڈھال بنا دیا کہ دشمن کی طرف سے پھیلائے جانے والے تمام منفی اور گمراہ کن پروپیگنڈے یکے بعد دیگرے ناکام ہوتے چلے گئے۔پاکستانی قیادت نے عالمی طاقتوں، بالخصوص واشنگٹن اور خلیجی ممالک کے اعلیٰ حکام کیساتھ اپنے دیرینہ تعلقات اور ساکھ کو استعمال کرتے ہوئے انہیں انتہائی پختگی، دلیل اور دانش مندی کیساتھ قائل کرنا شروع کیا۔ پاکستان کا مؤقف واضح تھا کہ ایران کا استحکام پورے مشرقِ وسطیٰ اور خود عالمی برادری کے امن کا ضامن ہے، اور تہران کو مزید نشانہ بنانا دنیا کو ایک ایسی لامتناہی جنگ میں دھکیل دے گا جس کی قیمت ہر ایک کو چکانی پڑے گی۔ پاکستان کے اس پروقار، اخلاقی اور مضبوط سفارتی دباؤ کا نتیجہ یہ نکلا کہ عالمی طاقتوں کو اپنی حکمتِ عملی تبدیل کرنی پڑی اور آپریشن ایپک فیوری کے اگلے مراحل پر فوری طور پر بریک لگ گئی۔ ایران کے صدر وزیر خارجہ اور پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف، جو دشمن کی ہٹ لسٹ پر اگلا ہدف تھے، پاکستان کے اس مضبوط اور ناقابلِ تسخیر سفارتی حصار کے باعث محفوظ ہو گئے۔ واشنگٹن نے تہران کی موجودہ قیادت کو نشانہ بنانے کا ارادہ ہمیشہ کیلئے ترک کر دیا اور اس طرح پاکستان نے برادر ملک ایران کو ایک حتمی اور مکمل تباہی سے بچا لیا۔

پاکستان کی یہ مخلصانہ کوششیں صرف ہٹ لسٹ کے خاتمے پر نہیں رکیں، بلکہ اسلام آباد کے سفارتی تدبر نے اس جنگ کو ہمیشہ کے لیے ختم کرنے کا ایک تاریخی سنگِ میل عبور کیا۔ پاکستان کی انتھک محنت کے نتیجے میں ایک عظیم امن معاہدہ طے پایا ہے، جسے دنیا اب ’’پاکستان ڈکلیئریشن‘‘کے نام سے یاد کر رہی ہے۔ اس تاریخی معاہدے پر پاکستان کی ثالثی میں امریکی صدر اور ایرانی صدر نے دستخط کیے ہیں۔ یہ معاہدہ اس بات کا بین ثبوت ہے کہ پاکستان دنیا میں امن کا سب سے بڑا داعی اور علمبردار ملک ہے۔

آج اگر تہران کے گلی کوچوں میں دوبارہ زندگی مسکرا رہی ہے اور وہاں کی فضاؤں سے پاکستان کیلئے گہری شکر گزاری اور ممنونیت کی آوازیں آ رہی ہیں، تو یہ اس مخلصانہ بھائی چارے کا صلہ ہے جو پاکستان نے مشکل ترین وقت میں نبھایا۔

ایران کی غیور اور غیرت مند قوم نے اس بدترین اور ہولناک آزمائش کے دوران جس ثابت قدمی، جرات اور استقامت کا مظاہرہ کیا، وہ تاریخ کے صفحات میں ہمیشہ سنہری حروف سے لکھا جائے گا۔ اپنے عظیم ترین رہنماؤں کی شہادت اور اربوں ڈالر کے ملکی نقصان کے باوجود ایرانی عوام نے دشمن کے سامنے سر جھکانے سے انکار کر دیا۔ اور جب اس فولادی عزم کو پاکستان جیسے مخلص پڑوسی کا سفارتی اور اخلاقی ساتھ ملا، تو دشمن کے تمام مذموم عزائم خاک میں مل گئے۔

ایران کے ایوانوں میں رونق بحال ہو چکی ہے اور خطے نے سکون کا سانس لیا ہے۔

آج کراچی سے نیویارک، سوئٹزرلینڈ سے دبئی، اور ٹوکیو سے لے کر لندن تک دنیا کا ہر انسان وزیراعظم میاں شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے نام سے واقف ہو چکا ہے۔ ان کے بہترین، پرامن اور ثالثانہ کردار کی وجہ سے عالمی سطح پر پاکستان کا وقار بلند ہوا ہے۔ بین الاقوامی برادری میں ملنے والی یہ منفرد پہچان آج پوری پاکستانی قوم کے لیے ایک عظیم فخر کا باعث ہے۔

تازہ ترین