• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

میری نانی سدھن تھیں، چار دفعہ صدر آزاد کشمیر بننے والے سردار ابراہیم ان کے بھانجے تھے۔ آزاد کشمیر سے تعلق کا احترام ہم نے اگلی نسل میں بھی رشتے کر کے قائم رکھا ہے۔ کشمیریوں کی دوترماں ہوں اسلئے ہمارا پیار، محبت، ایثار اور مان کا رشتہ ہے۔ کشمیری خون کا دکھ اور انکے درد کی تکلیف ہر پاکستانی کے خون میں شامل ہے لیکن والد صاحب کا کشمیر سے غیر معمولی لگاؤ اور والدہ کی نسبت سے کشمیری میرے دل سے بے حد قریب ہیں۔5 اگست 2019 کو ہندوستان کے دفعہ 370 متروک کرنے پر کشمیری بہنوں بھائیوں سے اظہارِ یکجہتی کے لئے میں نے 20 اکتوبر کو ڈی چوک سے سنٹورس مال تک مقامی تاجروں، ریٹائرڈ فوجیوں اور سٹوڈنٹ تنظیموں کے تعاون سے آزاد کشمیر کا پانچ کلومیٹر طویل جھنڈا لہرانے کی تقریب کروائی۔ اسلام آباد سے ایک لاکھ سے زائد افراد نے اس میں شرکت کی حالانکہ یہ کسی سیاسی پارٹی یا سرکاری سطح پر منعقد کردہ تقریب نہ تھی۔ مجھ سے سوال ہوا کہ آزاد کشمیر کا جھنڈا ہی کیوں؟میں نے بتایا کہ مقبوضہ کشمیر کے لوگ پاکستان کے جھنڈے میں دفن ہوتے ہیں تو جواباً ہم نے بھی محبت میں پانچ کلومیٹر طویل آزاد کشمیر کا جھنڈا پیش کیا ۔ یہی وہ جذبہ تھا کہ میں والدہ کا جنازہ قبرستان روانہ کر کے ان کی خواہش کی تعمیل میں شاملِ تقریب ہوئی جہاں ان کی مغفرت کے لیے ایک لاکھ سے زائد افراد نے فاتحہ پڑھی۔ الحمدللّٰہ!

5 اگست 2019 سے پہلے اور بعد میں پاکستان کی حکومت ہو یا آزاد کشمیر کی سب نے صرف زبانی جمع خرچ پر اکتفا کیا۔ جی جان اور سنجیدگی سے مسئلہ کشمیر حل کرنے پر کسی کی توجہ نہ تھی۔ صدر ایوب فروری 1964 میں چین کے دورے پہ گئے تو تنازعہ کشمیر بھی ایجنڈے کا حصّہ تھا۔ وزیراعظم چو ان لائی نے صدر ایوب سے کہا کہ ہم عسکری طور پر مسئلہ کشمیر حل کرنے کے لیے تیار ہیں بشرطِ کہ آپ لکھ کر درخواست کریں تاکہ سنجیدگی ظاہر ہو اور آپ کی جانب سے پہلی گولی بھی نہ چلائی جائے۔ اس سے پہلے چین مسئلہ کشمیر پر غیر جانبدار تھا، پہلی دفعہ وہ کھل کر ہندوستان کے خلاف پاکستان کا ساتھ دینے پر آمادہ ہوا لیکن ہماری جانب سے ہندوستان سے کشمیر پر کھلی جنگ پر ہچکچاہٹ نے یہ بیش قیمت موقع ضائع کردیا جبکہ 1965 میں جنگ تو پھر بھی کرنا پڑی۔یوں مسئلہ کشمیر پر پاکستانی اور آزاد کشمیر حکومتوں کے ڈانواں ڈول مؤقف کے باعث تحریکِ آزادی ٔکشمیر بہت مشکل مراحل سے گزری۔ جنرل ضیاء الحق اور جنرل حمید گل نے تحریکِ آزادیٔ کشمیر کو بہت سنبھالا دیا لیکن شومئی قسمت کہ جنرل ضیا الحق شہید کر دیے گئے اور جنرل حمید گل کو آئی ایس آئی سے تبدیل کر کے تحریک کو بریک لگا دی گئی۔ بعد کی سیاسی حکومتوں کی ترجیحات میں مسئلہ کشمیر بہت نچلے درجے پر رکھ دیا گیا۔ صدر مشرف نے تو کشمیروں کی روح ہی تقسیم کر ڈالی کہ انہوں نے مقبوضہ اور آزاد کشمیر کے درمیان باڑ لگوا دی جس کے دور رس نتائج آج ہندوستان سمیٹ رہا ہے۔ ہر گزرتا دن دونوں جانب کے کشمیریوں کے درمیان بد گمانی،بد اعتمادی کی فضاء میں اضافہ کر رہا ہے جبکہ ایک دوسرے سے دلوں میں کدورتیں بھی بڑھتی جا رہی ہیں۔ جولائی2019میں وزیر اعظم عمران خان نے امریکہ کا دورہ کیا جہاں سے واپسی پر انہوں نے کہا کہ مجھے ایسا لگ رہا ہے جیسے دوبارہ ورلڈ کپ جیت کر آیا ہوں۔ محترم دراصل مقبوضہ کشمیر دے آئے تھے،جبکہ جیتی تو انہوں نے اپنی حکومت کی طوالت تھی۔ اس وقت وزیراعظم آزاد کشمیر فاروق حیدر صاحب تھے یعنی بیس کیمپ کے نمائندہ لیکن انہوں نے بھی 370 متروک ہونے پر ڈھیلا ڈھالا بیان داغا۔اب بلاول بھٹو کا اسمبلی میں یہ بیان کہ وہ گلگت بلتستان کی یہاں نمائندگی دیکھنے کے خواہاں ہیں صرف سیاسی کھیل لگ رہا ہے۔ ویسے بھی تاریخ کا سبق کہ تاریخ سے کوئی نہیں سیکھتا، ہم پر لاگو نہیں ہوتا کیونکہ ہم تاریخ نہ پڑھتے ہیں نہ ہی جانتے ہیں۔

آزاد کشمیر میں مقبوضہ کشمیر سے توجہ ہٹانے کے لیے خود مختار کشمیر اور نیشنلسٹ مومنٹ زیرِ زمین کافی عرصے سے فعال ہے۔ ظاہراً کسی سیاسی جماعت سے تعلق ہو یا سرکاری ادارے سے، درپردہ نئی کشمیری نسل اس پراپیگنڈے سے مغلوب نظر آتی ہے۔ سوشل میڈیا پر خود مختار کشمیری تشخص کی خاطر تاریخ سے نابلد نوجوان ولدیت میں ڈوگرا بھی لکھ رہے ہیں۔ اپنے آباء کے کارناموں کے تذکروں پر پھنے خان بنے پاکستان حکومت کو دھمکاتے ہیں کہ ہم پر سوچ سمجھ کر ہاتھ ڈالنا۔سردار ابراہیم، سردار قیوم، چوہدری غلام عباس،کے ایچ خورشید ،میر واعظ یوسف شاہ، عبدالحمید خان جیسوں کی فہم و فراست کی بھد اڑاتے ، خود کو عقلِ کل سمجھتے ہیں جبکہ در حقیقت یہ مسئلہ کشمیر ، اس کے پس منظر سے یکسر ناآشنا ہیں۔کلعدم عوامی ایکشن کمیٹی نے 2023 میں تین معاشی مسائل پر احتجاج کیا اور مطالبات منوائے، بعینی مئی 2024میں 10معاشی مطالبات منوا لیے۔ ستمبر 2025میں نئے معاشی نکات میں قانونی، آئینی اور انتظامی نکات کے اضافے سے یہ 38ہو گئے ۔حکومت نے 36 نکات مان لیے لیکن عوامی ایکشن کمیٹی ماضی میں اپنی بے مثال کامیابی پر متکبر اور بے لچک ہوگئی۔ افواجِ پاکستان کا آزاد کشمیر سے انخلاء، پاکستان کے خلاف ہرزہ سرائی، حتیٰ کہ خود مختار کشمیر کے مطالبوں پر چل پڑی۔مقبوضہ میں ہندوستانی فوج کے جاری ظلم وستم پر بات نہیں کرتی بلکہ مہاجرین کو بیس کیمپ سے لاتعلق کرنے پر تلی ہے ۔ان کے ایسے ناجائز اور غیر آئینی مطالبے انہیں ہندوستانی ایجنٹ قرار دینے کا باعث بنے۔ کون نہیں جانتا کہ آزاد کشمیر پاکستان فوج کے بِنا ایک دن نہیں نکال سکتا، خود مختار کشمیر کے نعرے لگانے والے حکومت چلانے کے لیے بجٹ کہاں سے لائیں گے۔ 310 ارب سالانہ بجٹ میں سے کشمیر حکومت سے 60 ارب بھی اکٹھا نہیں ہو پا رہا۔ اقوامِ متحدہ سے خود مختار ہونے پر استصوابِ رائے کا حق ختم ہوا تو ہندوستان سارا کشمیر کھا جائے گا۔ کشمیر کاز کو آزاد کشمیر کے ناعاقبت اندیش نقصان پہنچا رہے ہیں۔ مقبوضہ کے لیے ہتھیار اٹھانے ،اپنی کشمیری ماؤں بہنوں کی عزتیں تار تار کرنے والوں کے خلاف آواز بلند کرنے کے بجائے سطحی معاشی مفادات حاصل کرنے کے خواہاں کشمیریوں نے مجھے بے حد مایوس کیا ۔ کہاں اپنے بزرگوں کی بہادریوں، انگریزوں اور مہاراجہ کے سامنے ڈٹ جانے کے بلند و بانگ دعوے اور کہاں اپنے ضمیر کا اتنا سستا سودا ! اپنے ہمدرد پاکستانی بہن بھائیوں کے ٹیکس پر عیاشی کا راستہ انہیں کس نے دکھایا ؟ راولپنڈی جتنی آبادی پر 310ارب کے فنڈ اور نہ ختم ہونے والی بلیک میلنگ! کشمیری تو اتنے غیرت مند ہیں کہ اپنی کھالیں کھنچوا لیں اور اُف تک نہ کی۔ ذاتی مفادات کے لیے دوسروں کی کھال کھینچنے والے یہ لوگ کون ہیں؟

؎شکایت ہے مجھے یا رب! خداواںِ مکتب سے

سبق شاہیں بچوں کو دے رہے ہیں خاک بازی کا

تازہ ترین