پاکستان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ وسائل سے مالا مال ملک ہے۔ یہاں زرخیز زمینیں ہیں، بلند پہاڑ ہیں، سمندر ہیں، دریا ہیں، معدنی ذخائر ہیں اور سب سے بڑھ کر کروڑوں محنتی اور باصلاحیت لوگ موجود ہیں۔ افسوس کہ اسی وسائل سے بھرپور سرزمین پر آج کروڑوں لوگ غربت، محرومی، بیروزگاری اور مہنگائی کے عذاب میں مبتلا ہیں۔ یہ ایک ایسا المیہ ہے جس نے نہ صرف لاکھوں خاندانوں کے چولہے ٹھنڈے کر دیئے ہیں بلکہ انکے خواب، امیدیں اور مستقبل بھی نگل لیا ہے۔ آج اگر کسی پاکستانی سے پوچھا جائے کہ اسکی سب سے بڑی پریشانی کیا ہے تو شاید اس کا جواب سیاست، خارجہ پالیسی یا عالمی حالات نہیں بلکہ دو وقت کی روٹی، بچوں کی تعلیم، علاج اور گھر کے اخراجات ہوں گے۔غربت صرف خالی جیب کا نام نہیں بلکہ یہ انسان کی عزت نفس، خودداری اور خوابوں کو آہستہ آہستہ ختم کرنے کا دوسرا نام ہے۔ جب ایک باپ اپنے بچوں سے خواہش پوری نہ کر سکے، جب ایک ماں گھر کے اخراجات پورے کرنےکیلئے اپنے زیور بیچنے پر مجبور ہو جائے، جب ایک نوجوان ڈگری ہاتھ میں لیے در در کی ٹھوکریں کھا رہا ہو اور جب ایک بچہ صرف اس لیے تعلیم سے محروم ہو جائے کہ اس کے والدین فیس ادا نہیں کر سکتے تویہ پورے نظام پر سوالیہ نشان ہے ۔آج ملک کے طول و عرض میں ایسے بے شمار گھر موجود ہیں جہاں مہینے کے اختتام سے پہلے راشن ختم ہو جاتا ہے۔ لاکھوں خاندان ایسے ہیں جو بجلی کا بل ادا کرنے اور بچوں کیلئے دودھ خریدنے میں سے کسی ایک چیز کا انتخاب کرنے پر مجبور ہیں۔ عیدیں آتی ہیں تو خوشیوں کے بجائے حسرتیں چھوڑ جاتی ہیں۔بدقسمتی یہ ہے کہ غربت کے اس المیے پر سب سے زیادہ سیاست کی جاتی ہے۔ ہر انتخاب سے پہلے عوام کو سنہرے خواب دکھائے جاتے ہیں مگر اقتدار ملنے کے بعد یہی غریب آدمی اکثر حکمرانوں کی ترجیحات میں بہت نیچے چلا جاتا ہے۔ بہت کچھ بدل رہا ہے سوائے غریب کی زندگی کے۔ اگر معیشت واقعی مضبوط ہو رہی ہے توپھربازاروںمیں خریداری کیوں کم ہے؟ اگر ترقی ہو رہی ہے تو پھر بے روزگاری کیوں بڑھ رہی ہے؟ اگر حالات بہتر ہیں تو پھر لوگ اپنے گھروں کا خرچہ پورا کرنےکیلئے قرض لینے پر کیوں مجبور ہیں؟ یہ سوالات صرف اپوزیشن نہیں بلکہ ہر پاکستانی کے ذہن میں موجود ہیں۔لیکن سچ یہ بھی ہے کہ اپوزیشن جماعتیں بھی اس صورتحال سے بری الذمہ نہیں۔ اس تمام صورتحال میں سب سے زیادہ تکلیف دہ پہلو پاکستان کی اشرافیہ کا کردار ہے۔ جس پر مہنگائی کا کوئی اثر نہیں۔ انہیں بجلی کے بلوں کی فکر نہیں، انہیں آٹے، چینی اور گھی کی قیمتوں کا خوف نہیں، انہیں سرکاری سکولوں اور سرکاری ہسپتالوں کی حالت زار سے کوئی واسطہ نہیں۔ انکے بچے بہترین تعلیمی اداروں میں پڑھتے ہیں، انکا علاج مہنگے اسپتالوں میں ہوتا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ اکثر پالیسیاں بھی عام آدمی کے بجائے طاقت ور طبقات کے مفادات کو سامنے رکھ کر بنتی ہیں۔اسلام نے جس معاشرے کا تصور پیش کیا تھا وہ اس سے یکسر مختلف تھا۔ اسلام میں دولت کو چند ہاتھوں تک محدود رکھنے کے بجائے معاشرے میں گردش دینے پر زور دیا گیا۔ زکوٰۃ، صدقات اور خیرات کا نظام اسی مقصدکیلئے دیا گیا تاکہ کوئی شخص بھوک، بیماری یا محرومی کا شکار نہ ہو۔ رسول اکرم نے فرمایا کہ وہ شخص کامل مومن نہیں جو خود پیٹ بھر کر سو ئے جبکہ اس کا پڑوسی بھوکا ہو۔ یہ حدیث صرف ایک اخلاقی نصیحت نہیں بلکہ ایک مکمل معاشرتی فلسفہ ہے۔آج اگر ہم اپنے اردگرد نظر دوڑائیں تو معلوم ہوگا کہ بعض گھروں میں انواع و اقسام کے کھانے پکتے ہیں جبکہ چند قدم کے فاصلے پر کوئی ماں اپنے بچوں کو بھوکا سلا رہی ہوتی ہے۔ ایک ہی محلے میں کوئی شخص لاکھوں روپے کی گاڑی خرید رہا ہوتا ہے جبکہ اسکے پڑوس میں کوئی مریض دَواکیلئے ترس رہا ہوتا ہے۔ یہ صرف معاشی فرق نہیں بلکہ اجتماعی بے حسی ہے۔ حضرت عمر فاروق ؓ کے دور کا ایک واقعہ تاریخ میں محفوظ ہے کہ ایک رات انہوں نے ایک عورت کو دیکھا جو اپنے بچوں کو بہلانے کیلئے خالی برتن میں پانی گرم کر رہی تھی تاکہ بچے یہ سمجھیں کہ کھانا پک رہا ہے اور انتظار کرتے کرتے سو جائیں۔ حضرت عمرؓ نے جب یہ منظر دیکھا تو بیت المال سے خود سامان اٹھا کر لائے اور اس خاندان کی مدد کی۔ یہی وہ اسلامی تصورِ حکمرانی ہے جس میں عوام کی بھوک مٹانا حکمران کی ذمہ داری ہے۔افسوس کہ آج پاکستان میں لاکھوں لوگ ایسے ہیں جو اسی طرح کی محرومیوں کا شکار ہیں۔ کوئی روزگار کیلئے پریشان ہے، کوئی علاج کیلئے، کوئی تعلیم کیلئے اور کوئی گھر کے کرائے کیلئے۔ ہر طرف مشکلات ہیں اور ہر طرف بے بسی کے مناظر دکھائی دیتے ہیں۔ ان حالات میں ضرورت صرف معاشی پالیسیوں کی نہیں بلکہ اخلاقی بیداری کی بھی ہے۔ جب تک معاشرے کے صاحب حیثیت لوگ اپنی ذمہ داری محسوس نہیں کریں گے، جب تک سیاستدان اقتدار کی جنگ سے نکل کر عوامی مسائل پر توجہ نہیں دیں گے اور جب تک حکمران طبقہ اپنی ترجیحات تبدیل نہیں کرےگا، اس وقت تک غربت کا خاتمہ مشکل ہے۔پاکستان کو آج ایسے نظام کی ضرورت ہے جو عام آدمی کو عزت کے ساتھ جینے کا حق دے۔ اگر ایسا نہ ہوا تو غربت صرف موجودہ نسل کو ہی نہیں بلکہ آنے والی نسلوں کے خوابوں کو بھی نگل جائیگی۔ جب تک ہم اپنے پڑوسیوں کے حقوق کو یاد نہیں رکھیں گے، تب تک پاکستان کے گلی کوچوں، دیہات اور شہروں سے ایک ہی آہ بلند ہوتی رہے گی، ایک ہی فریاد سنائی دیتی رہے گی اور ایک ہی سوال ضمیر کو جھنجھوڑتا رہے گا... ہائے رے غربت!