• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

کہیں نوجوان ون ویلنگ کر رہے ہوں یا خواتین پر آوازے کس رہے ہوں یا کسی جرم میں ملوث قرار پائیں تو ایک بات تواتر سے سننے کو ملتی ہے کہ یہ سب والدین کی تربیت کا اثر ہے۔ حیرت ہوتی ہے کہ کیا کوئی والدین ایسے بھی ہیں جو اپنے بچوں کو یہ سکھاتے ہیں کہ بیٹا جاؤ ون ویلنگ کرو، ریوالور پکڑو اور لوگوں کی زندگیوں کا خاتمہ کرو، ڈاکے ڈالو یا اغوا برائے تاوان کرو۔ اکثریتی کیس میں تو والدین بیچاروں کو اپنی اولاد کی اِن حرکتوں کا علم ہی نہیں ہوتا۔ رہی بات تربیت کی تو اپنے ایمان سے بتائیے کیا جس تربیت کی ہم بات کرتے ہیں وہ آج کل کے نوجوانوں کو دی جاسکتی ہے؟میں تووالدین کی باتیں سن کرکانپ جاتا ہوں۔ ایک والد بتا رہے تھے کہ انکا بیٹا 15سال کا ہے لیکن ذرا سی مزاج کے خلاف بات ہوجائے تو شدید غصے کے عالم میں چیزیں توڑنے لگتاہے، اپنی جان لینے کی دھمکیاں دیتا ہے اور اتنی اونچی بولتاہے کہ بیچارے ماں باپ سہم جاتے ہیں۔ ایک اور صاحب بتارہے تھے کہ انکا بیٹا دس سال کی عمر تک تو بالکل ٹھیک تھا انکے کنٹرول میں تھا لیکن اب اِس اندازمیں گھورتاہے کہ مجھے لگتاہے کسی دن مجھ پر حملہ آور ہی نہ ہوجائے۔ایک ماہرنفسیات بتارہے تھے کہ جو بچے بچپن میں بہت شریف نظر آتے ہیں ان سے ہوشیار رہنے کی ضرورت ہے یہی اکثر تھوڑا سابڑا ہونے پر اپنا روپ بدلتے ہیں۔ والدین کچھ نہیں کرسکتے، کچھ بھی نہیں کر سکتے۔آپ جتنی مرضی تربیت کرلیں، گھر سے باہر کا ماحول میسر آتے ہی آپ کو بچوں میں عجیب و غریب تبدیلیاں نظر آنا شروع ہو جائینگی۔ یہ گھر میں بات کرنا چھوڑ جائینگے، اپنی ہرناکامی کی ذمہ داری ماں باپ پر ڈالیں گے، تھوڑی سی اختلافی بات پر کاٹ کھانے کو دوڑیں گے، ثابت کرینگے کہ اِنہیں کسی کا کوئی خوف نہیں۔پہلے باپ بچے کو غصے سے کہا کرتا تھا کہ نکل جاؤ میرے گھر سے۔اب بچے یہ دھمکیاں لگاتے ہیں اور خوفناک بات یہ ہے کہ عمل بھی کر گزرتے ہیں۔ انہیں کوئی یوٹیلٹی بل نہیں دینا ہوتا، کچن گروسریز کی کسی چیز پر ان کا ایک روپیہ تک خرچ نہیں ہوتا، موٹرسائیکل کا پٹرول تک باپ ڈلوا کردیتا ہے، گاڑیاں لیے گھومتے ہیں لیکن پھر بھی کوئی انجانا سا ڈپریشن ہروقت ان پر چھایا رہتا ہے۔ اس کاالزام والدین کو نہیں دینا چاہئے۔ گھر گھر میں یہی صورتحال ہے۔ آپ اِنکو کسی ماہر نفسیات کے پاس لے جاسکتے ہیں؟ ہے اتنی ہمت؟.... تو بس پھر واحدحل دُعا ہے۔

٭٭٭٭

ایک بیوی نے شوہرکے پاس آکر کہا کہ باہر ایک غریب بندہ دھوپ میں بیٹھا ہوا ہے اس کی کچھ مدد کردیں۔شوہرکادل بھرآیا۔پوچھاکہ کتنی مدد کروں؟ بیوی نے آہ بھر کر کہا’ایک ہزار دے دیں‘۔شوہرنے کچھ سوچا پھر دوہزار نکال کر دیتے ہوئے کہا’ایک ہزار میں بیچارے کا کیا بنے گا، یہ لو دو ہزار دے دو‘۔ بیوی پیسے لے کر جانے لگی تو شوہر نے پوچھا،ویسے وہ دھوپ میں کر کیارہاہے؟۔ بیوی اطمینان سے بولی،کرنا کیاہے بیچارے نے ...لیڈیز سوٹ بیچ رہاہے۔دنیابھرکی خواتین نئے سوٹ کی دیوانی ہوتی ہیں۔ مرد اِس علت سے محفوظ ہیں۔ آپ نے اکثر ساٹھ سالہ مرد کو کسی تقریب میں اپنی شادی کا سوٹ پہنے ہوئے بھی دیکھا ہوگا۔عموماً مردوں کے کپڑے کئی کئی سال چل جاتے ہیں انہوں نے توکسی شادی میں ڈارک بلیو کلر کا ٹوپیس پہننا ہو اور پینٹ نہ مل رہی ہو تو بلیک کلر کی پینٹ بھی پہن لیتے ہیں کہ دونوں کے رنگوں میں زیادہ فرق محسوس نہیں ہوگا۔یہ ایک ہی ڈریس میں تین دن بھی دفتر آنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔یہ جرابیں سونگھ کر فیصلہ کرلیتے ہیں کہ ابھی دو دن اور چل سکتی ہیں۔اصل میں مردوں کے لباس کے رنگ بڑے محدود ہیں۔تھوڑی سی کمی بیشی کے بعد وہی سفید، وہی کالا، وہی براؤن، وہی آسمانی اوروہی آف وائٹ۔ کئی دفعہ تو یہ نیا سوٹ بھی سلوا لیں تورنگ پھرپہلے سوٹ والا ہی ہوتاہے۔اِن کیلئے مارکیٹ میں کوئی نیا‘پرنٹ’نہیں آتا اوراگر کبھی ڈرتے ڈرتے کوئی گلابی یاسرخ ٹائپ سوٹ پہن لیں تو جابجایہ جملہ سننے کو ملتاہے’یہ کیا مراثیوں و الا رنگ پہن لیا ہے‘۔ سو اکثرمرد اسی ڈر سے گنے چنے رنگوں کے سوٹ ہی منتخب کرتے ہیں اور یوں بیزار ہوکراُن کی دلچسپی ہی ختم ہوجاتی ہے۔خواتین کی موجیں ہیں سیکڑوں ڈیزائن کے سوٹ ہیں اورہرجگہ میسر ہیں۔

٭٭٭٭

ایک بڑی معروف ایکٹریس ہیں۔ ایک دفعہ انہوں نے ذاتی ڈرامہ پروڈیوس کرنا تھا۔ مجھے کال کی اور کہنے لگیں کہ اگر آپ گھر تشریف لے آئیں تو ذرا تفصیل سے پراجیکٹ ڈسکس کرلیں گے۔ میں نے ہامی بھر لی اور انہوں نے لوکیشن بھیج دی۔شام کو میں انکے گھر پہنچا تو گاڑی گیرج میں لگا کر اترنے ہی لگا تھا کہ چھلانگ لگا کرجلدی سے واپس بیٹھ کر دروازہ بند کرلیا۔ باہر دو گدھے کے سائز کے کتے مجھے گھور رہے تھے۔ اتنے میں ایکٹریس بھی گیرج میں تشریف لے آئیں اور حیرت سے پوچھا کہ آپ باہر کیوں نہیں آرہے۔ میں نے سہم کر اُن بلاؤں کی طرف اشارہ کیا۔ وہ ہنس پڑیں اور کتوں کو مخاطب کرکے کہا‘جیری، ڈوڈو....چلواندر جاؤ’۔ یہ سنتے ہی دونوں سرجھکاکردوسری طرف نکل گئے۔ میری سانس میں سانس آئی۔ وہ مجھے لیکر ڈرائنگ رو م میں آئیں اور دروازہ کھول کر کہا، آپ تشریف رکھئے میں آتی ہوں۔ میں اطمینان سے صوفے پر بیٹھا ہی تھا کہ دوسری طرف نظر پڑتے ہی میرا پورا جسم وائبریشن پرلگ گیا۔ قالین پر ’انواع واقسام‘ کے کتے مجھے گھور رہے تھے۔ میں چیخنا چاہتا تھا لیکن دندل پڑگئی۔ اتنے میں دروازہ کھلا اور جیری اور ڈوڈو بھی مونچھوں کو تاؤ دیتے ہوئے اندر داخل ہوئے اور میرے پیروں میں بیٹھ گئے۔ میں نے بڑی کوشش کی کہ میری نظران کی طرف نہ اٹھے لیکن حالت یہ تھی کہ میرے سارے رونگٹے کھڑے ہوگئے۔دس منٹ بعد ایکٹریس صاحبہ لوازمات سے بھری ٹرالی دھکیلتی ہوئی اندرداخل ہوئیں تو میں لگ بھگ صوفے کے اندر گھسا ہوا تھا۔ اُنہوں نے حیرت سے میری طرف دیکھا ۔میں نے پورا زور لگا کر بولنا چاہا لیکن ہلکی سی آوازہی نکلی ’کتے‘۔ وہ فوراً سمجھ گئیں اور گھور کر کتوں کو کہا ’آؤٹ‘ اور وہ سب بدبخت لائن بنا کرباہرنکل گئے۔ مجھے حواس بحال کرنے میں پندرہ منٹ لگ گئے۔میں نے محترمہ کو باور کرایا کہ اگرآپ نے میرے ڈرسے یہ سارا ’کتیاپا‘ کیا ہے تو قسم لے لیں میں 75پرسنٹ شریف انسان ہوں، میرے لئے تو کوئی مناسب سائز کا دُنبہ ہی کافی تھا۔

تازہ ترین