آج مشرقِ وسطیٰ ایک ایسے دوراہے پر کھڑا ہے جہاں معاشی راہداریوں کی سرگوشیاں مستقبل کا تعین کر رہی ہیں۔ اگر بیسویں صدی مشرقِ وسطیٰ میں تیل کی دریافت کی صدی تھی تو اکیسویں صدی اس تیل کے راستوں کی صدی بنتی دکھائی دے رہی ہے۔طاقت اب اس ملک کے پاس ہوگی جو وسائل کو محفوظ، سستا اور پائیدار راستہ فراہم کر سکے گا۔ایران گزشتہ نصف صدی سے مشرقِ وسطیٰ کی سیاست کا ایک ناگزیر کرداررہا ہے۔ 1979ء کے انقلاب کے بعد اس نے نہ صرف اپنے داخلی سیاسی نظام کو ایک منفرد شکل دی بلکہ خطے میں اپنے نظریاتی اور تزویراتی اثرورسوخ کا ایک وسیع دائرہ بھی قائم کیا۔ آج ایران کو جس چیلنج کا سامنا ہے وہ کسی فوجی یلغار سے زیادہ پیچیدہ اور گھمبیر ہے۔ یہ سفارت کاری، معیشت اور جغرافیائی سیاست کا چیلنج ہے۔ برسوں تک آبنائے ہرمز ایران کی سب سے بڑی تزویراتی قوت سمجھی جاتی رہی۔ دنیا کے توانائی کے اہم راستوں میں شمار ہونیوالی یہ آبی گزرگاہ عالمی معیشت کی شہ رگ کی حیثیت رکھتی ہے۔ خلیجی ممالک سے برآمد ہونیوالے تیل اور گیس کا ایک بڑا حصہ اسی راستے سے عالمی منڈیوں تک پہنچتا ہے۔ یہی وجہ تھی کہ جب بھی ایران اور مغربی دنیا کے درمیان کشیدگی بڑھتی، آبنائے ہرمز کا نام عالمی خبروں کی زینت بن جاتا۔ اب منظرنامہ بدل رہا ہے۔ خلیجی ممالک، ترکیہ اور عراق اس نتیجے پر پہنچتے دکھائی دیتے ہیں کہ کسی ایک گزرگاہ پر انحصار مستقبل میں معاشی اور سیاسی خطرات کو جنم دے سکتا ہے۔ چنانچہ متبادل راستوں کی تلاش شروع ہو چکی ہے۔ سعودی عرب نےبحیرہ احمرکےراستے اپنی برآمدی صلاحیت کو وسعت دی ہے۔ متحدہ عرب امارات نے فجیرہ کو ایک اہم توانائی مرکز میں تبدیل کر دیا ہے جہاں سے تیل آبنائے ہرمز سے گزرے بغیر عالمی منڈیوں تک پہنچ سکتا ہے۔ عراق بھی طویل عرصے بعد ایسے منصوبوں پر غور کر رہا ہے جو اسکی برآمدات کو زیادہ محفوظ بنا سکیں۔ ترکیہ کاکرداراس حوالے سے نمایاں ہے۔ یورپ اور ایشیا کے سنگم پر واقع ترکیہ بخوبی جانتا ہے کہ جغرافیہ اگر دانشمندی سے استعمال کیا جائے تو وہ قدرتی وسائل سے بھی زیادہ قیمتی سرمایہ بن سکتا ہے۔ اسی لئے وہ ریلوے، شاہراہوں، بندرگاہوں اور توانائی کی راہداریوں کے ذریعے ایک ایسے نیٹ ورک کی تعمیر میں مصروف ہے جو خلیج، مشرقِ وسطیٰ اور یورپ کو باہم جوڑ سکے۔عراق، شام اور ترکیہ کے راستے یورپ تک پہنچنےوالی ممکنہ پائپ لائنیں بلاشبہ معاشی منصوبے نہیں ایک نئے سیاسی نقشے کی علامت ہیں۔ ان منصوبوں کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ توانائی کی ترسیل کیلئے متبادل راستے پیدا کیے جائیں تاکہ کسی ایک آبی گزرگاہ یا جغرافیائی رکاوٹ پر مکمل انحصار نہ رہے۔اسی تناظر میں ایران کیلئے اصل سوال یہ نہیں کہ اسکے پاس کتنے میزائل ہیں یا اسکے اتحادی کتنے علاقوں میں موجود ہیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ کیا وہ بدلتی ہوئی معاشی حقیقتوں سے خود کو ہم آہنگ کر پائیگا ؟ جدید دنیا میں طاقت کا تصور تبدیل ہو چکا ہے۔ آج بندرگاہیں توپ خانوں سے زیادہ اہم اور سرمایہ کاری محاذ آرائی سے زیادہ مؤثر ثابت ہو رہی ہے۔لبنان کی صورتحال بھی اسی بڑی تبدیلی کا حصہ معلوم ہوتی ہے۔ کئی دہائیوں تک یہ ملک علاقائی کشمکش کا میدان بنا رہا۔ اب ایک نئی سوچ جنم لے رہی ہے جسکے مطابق لبنان کو پراکسی سیاست کے بجائے مضبوط ریاستی اداروں کی ضرورت ہے۔ ترکیہ اس خلا کو پُر کرنے کی کوشش کر رہا ہے جو بعض عرب ممالک کی محدود دلچسپی کے باعث پیدا ہوا۔ انسانی امداد، تعلیمی منصوبے، انفراسٹرکچر کی تعمیر اور سیاسی روابط کے ذریعے وہ اپنی موجودگی مستحکم بنا رہا ہے۔ترکیہ کی اس حکمتِ عملی میں صرف جذبات یا تاریخی یادیں شامل نہیں ایک واضح جغرافیائی وژن بھی کارفرما ہے۔ سلطنتِ عثمانیہ کی تاریخ کو نرم قوت کے طور پر استعمال کرتے ہوئے انقرہ خود کو مشرقِ وسطیٰ کے سنی معاشروں کے ایک فطری شراکت دار کے طور پر پیش کرتاہے۔ لبنان میں اسکی سرگرمیاں اسی پالیسی کا تسلسل ہیں۔شام کی خانہ جنگی نے بھی خطے کو ایک اہم سبق دیا ہے کہ ریاستیں کمزور ہوں تو غیر ریاستی قوتیں طاقتور ہو جاتی ہیں، لیکن جب ریاستی ادارے دوبارہ منظم ہونے لگیں تو پراکسی سیاست کی گنجائش کم ہو جاتی ہے۔ یمن میں بھی اگرچہ صورتحال پیچیدہ ہےلیکن وہاں بھی ایک مستحکم سیاسی ڈھانچے کی ضرورت پر اتفاق بڑھتا جا رہا ہے۔وطن عزیز سمیت کئی مسلم ممالک مسلسل اس مؤقف کا اظہار کرتے رہے ہیں کہ علاقائی استحکام کا راستہ مضبوط ریاستی اداروں سے ہو کر گزرتا ہے۔ افغانستان کے حوالے سے پاکستان کے تحفظات ہوں، یمن کے بارے میں سفارتی بیانات ہوں یا لبنان کے ساتھ دفاعی تعاون، ان سب کے پس منظر میں یہی سوچ کارفرما دکھائی دیتی ہے کہ غیر ریاستی مسلح گروہوں کے بجائے ریاستی ڈھانچے کو مضبوط بنایا جائے۔یہ بھی حقیقت ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں طاقت کا توازن اب صرف ایران اور عرب دنیا کے درمیان مقابلے کا نام نہیں رہا۔ ترکیہ، قطر، مصر، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات سب اپنے اپنے مفادات کے مطابق نئی صف بندیاں کر رہے ہیں۔ بعض اوقات ان کے مفادات ایک دوسرے سے قریب آ جاتے ہیں اور کبھی فاصلے پیدا ہو جاتے ہیں۔ ایک نکتہ تقریباً مشترک دکھائی دیتا ہےکہ معاشی ترقی کے بغیر سیاسی استحکام ممکن نہیں۔اسی لیے آج خطے میں بندرگاہوں کی تعمیر، ریلوے لائنوں کے منصوبے، اقتصادی راہداریوں اور توانائی کے نئے راستوں پر غیر معمولی توجہ دی جا رہی ہے۔ یہ منصوبے فقط تجارت کیلئے نہیں بلکہ امن کیلئےبھی اہم ہیں۔ جو ممالک ایک دوسرے کے ساتھ تجارت کرتے ہیں وہ عموماً جنگ سے گریز کرتے ہیں کیونکہ جنگ منافع کے دروازے بند کر دیتی ہے۔ایران کیلئے آنے والے برس فیصلہ کن ثابت ہو سکتے ہیں۔ اگر وہ اپنی خارجہ پالیسی کو نئے علاقائی حقائق کے مطابق ڈھالنے میں کامیاب ہو جاتا ہے تو وہ اب بھی ایک اہم علاقائی طاقت کے طور پر اپنا مقام برقرار رکھ سکتا ہے ۔