• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

شاید ہی کوئی دن ایسا گزرے کہ جب ہم اخبارات، ٹی وی اور سوشل میڈیا پر معصوم لڑکیوں کےساتھ اجتماعی زیادتی کے بعد سفاکانہ قتل کے بارے میں نہ پڑھیں ، اس پر ظلم یہ کہ اکثر لڑکی کو ورغلانے والا کوئی اپنا سگا عزیز رشتہ دار یا بھروسے کا آدمی ہی ہوتا ہے، جو نہ صرف خود زیادتی کا نشانہ بناتا ہے بلکہ دیگر بھیڑیوں کو بھی ظلم میں شریک کرتا ہے ۔ظاہر ہے ایسے واقعات ہر حساس انسان کیلئے بہت دکھ کا باعث ہیں لیکن اس سے زیادہ دکھ کا سبب وہ سوچ ہے جو ان تمام واقعات کی وجہ بن رہی ہے۔ ایسا نہیں ہے کہ اچانک لوگوں کے جذبات میں اتنا ہیجان آ گیا ہے جس نے انھیں درندہ بنا دیا ہے بلکہ عورتوں کے خلاف وہ زہر بھری معلومات ہیں جو سوشل میڈیا کے ذریعے نوجوانوں کے ذہنوں میں بھری جا رہی ہیں۔ پچھلے دنوں اسی حوالے سے بات ہو رہی تھی تو اچھے خاصے پڑھے لکھے لوگوں کے تبصرے سن کر روح کانپ گئی، وہ نہ صرف عورت کے بطور فرد کردار کے یکسر منافی تھے بلکہ وہ اس بات کے داعی تھے کہ عورت کو صرف مرد کی تسکین کیلئے بنایا گیا ہے۔

جب اس طرح کے تبصرے کھلے عام ہوں گے تو پھر لڑکیاں نہ باہر محفوظ ہوں گی نہ گھروں کے اندر کیونکہ ہوس کے مارے اسی طرح کی مثالیں سامنے رکھ کر سگے رشتوں پر ظلم ڈھاتے ہیں ۔ حکومت سے درخواست ہے کہ وہ فوری طور پر مذہب کو اپنے مکروہ ایجنڈوں کیلئے استعمال کرنے والے بعض عورت دشمن مبلغین پر پابندی لگائے ، سوشل میڈیا پر عورت کے بارے میں تذلیل سے بھرے جنسی بیانات ہٹوائے جائیں اور ہر وقت جنسی معاملات کو موضوع بنانے سے گریز کرنے کی تلقین کی جائے ۔ کچھ لوگوں کے بیانات اور رویوں نے معاشرے میں انسانیت ، مساوات اور رواداری کے فروغ کی بجائے جنس کا ڈھول بجانے پر توجہ مرکوز کر رکھی ہے۔ پیرو کاروں کو اچھائی، سچائی، دیانتداری اور اخلاقی قدروں کا سبق دینے کی ضرورت ہے عورت کے معاملات و مسائل کو سر پرسوار کرنے کی نہیں۔

جو مذہب عورت کو تعلیم اور ترقی کے یکساں مواقع دیتا ہے زندگی کا ساتھی چننے کا اختیار دیتا ہے وہ اسے ایک چیز سمجھنے کی تلقین کیسے کر سکتا ہے۔ نبی پاک نے دنیاوی معاملات میں بیٹی کی مثال دے کر عورت کو معتبر کیا ، اپنے سے پندرہ سالہ بڑی ، کاروباری اور بچوں والی خاتون کی شادی کا پرپوزل قبول کر کے عورت کی بطور فرد پسند، رائے اور اختیار کو عملی مثال بنایا۔

اسلام میں اجتہاد کا آپشن اسے جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرتا ہے ،بعض تعلیمات کی تشریح اور توجہیہ اس دور کے سیاق و سباق اور آج کے دور کے مطالبات کی روشنی میں منطقی انداز میں کرنے کی ضرورت ہے۔ورنہ لڑکیوں کو ایک چیز سمجھ کر استعمال کرنے، قتل کرکے پھینکنے ، بیچنے، انکار پر تیزاب سے جلانے اور اپنی پسند سے فیصلہ کرنے پر غیرت کے آلے سے کاروکاری کرنے کے واقعات میں کمی نہیں آئیگی۔

نصاب اور میڈیا کے ذریعے ہمیں مائوں، بہنوں، بیٹیوں والے ترانوں کی بجائے بطور فرد عورت کی شخصیت اجاگر کرنے کی ضرورت ہے۔ والدین بھی اپنے بچوں کے حوالے سے کسی پر اعتماد نہ کریں ، ان کو مضبوط بنائیں اور حالات کا مقابلہ کرنا سکھائیں۔ اگر دیگر معاملات میں خصوصی عدالتیں بن سکتی ہیں تو بچیوں کو بچانےکیلئے کیوں نہیں ؟ اصل کام زبردستی اور وقتی احترام نہیں بلکہ لوگوں کی سوچ اور رویوں میں تبدیلی لانا ہے۔حکومت ، سماج اور سول سوسائٹی کو مل کر بیٹیوں کیلئے خوبصورت ماحول بنانا ہے۔

ڈاکٹر فاطمہ حسن کی غزل عورت کی بطور فرد حیثیت کا مکمل خاکہ اور ضابطہ ہے، غور کیجئے اور عمل بھی۔

آنکھوں میں نہ زلفوں میں نہ رخسار میں دیکھیں

مجھ کو مری دانش،مرے افکار میں دیکھیں

ملبوس بدن دیکھے ہیں رنگین قبا میں

اب پیرہن ذات کو اظہار میں دیکھیں

پوری نہ ادھوری ہوں نہ کمتر ہوں نہ برتر

انسان ہوں، انسان کے معیار میں دیکھیں

رکھے ہیں قدم میں نے بھی تاروں کی زمیں پر

پیچھے ہوں کہاں آپ سے رفتار میں، دیکھیں

منسوب ہیں انسان سے جتنے بھی فضائل

اپنے ہی نہیں میرے بھی اطوار میں دیکھیں

کب چاہا کہ سامانِ تجارت ہمیں سمجھیں

لائے تھے ہمیں آپ ہی بازار میں دیکھیں

اُسی قادرِ مطلق نے بنایا ہے ہمیں بھی

تعمیر کی خوبی اسی معمار میں دیکھیں

تازہ ترین