• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

نجی شعبے کے ملازمین کی تنخواہوں میں اضافہ کیا جائے: حافظ نعیم الرحمٰن

---فائل فوٹو
---فائل فوٹو

امیرِ جماعتِ اسلامی حافظ نعیم الرحمٰن نے کہا ہے کہ حکومت کو پیٹرول کی قمیت 225 روپے 3 سال تک فکس کرنی چاہیے۔

کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہا ہے کہ مہنگائی کے دور میں نجی شعبے کے لیے کوئی ریلیف نہیں دیا گیا، تنخواہوں میں کوئی اضافہ نہیں کیا گیا، نجی شعبے کے ملازمین کی تنخواہوں میں اضافے کا مطالبہ کرتے ہیں۔

امیرِ جماعتِ اسلامی کا کہنا ہے کہ حکومت کا آدھا بجٹ سود میں جاتا ہے، اعلیٰ عدالتی احکامات کے باوجود حکومت سود ختم کرنے میں سنجیدہ نہیں، نئے بجٹ میں کوئی نئی چیز نہیں، بجٹ میں تنخواہوں میں 7 فیصد اضافہ کیا گیا، مہنگائی 8 فیصد بڑھی۔

حافظ نعیم الرحمٰن نے کہا ہے کہ پیپلز پارٹی جمہوریت کی قاتل ہے، جمہوریت اور پیپلز پارٹی ایک دوسرے کی ضد ہیں، صوبے پر 18 سال سے پیپلز پارٹی کا قبضہ ہے، اندورنِ سندھ میں بچوں کو تعلیم اور صحت کیوں نہیں مل رہی ہے، بنیادی صحت مراکز کا برا حال ہے،  سندھ میں تعلیم روزگار اور صحت کا فقدان ہے، شہر میں سرکاری پبلک ٹرانسپورٹ موجود نہیں، سوال ہے ان سے جن لوگوں نے میئر اور پیپلز پارٹی کو ہم پر مسلط کیا۔

امیرِ جماعتِ اسلامی کا کہنا ہے کہ گلگت بلتستان میں ارکان کی خرید فروخت ہمارے ٹیکس کے پیسوں سےکی جا رہی ہے، پیٹرول پر لیوی کا اطلاق ان پر ہو رہا ہے جو ٹیکس سے مستثنیٰ ہیں، لیوی اس لیے کم کی گئی ہے کہ ہدف پورا کر کیا گیا، لیویز کا نفاذ ناجائز ہے، لیوی کو فوری طور پر ختم ہونا چاہیے، بجٹ میں بتایا نہیں گیا کہ آئی پی پیز کے خاتمے کے لیے کیا کیا جارہا ہے، جہاں بھی آئی ایم ایف جاتا ہے وہاں کی معیشت تباہی ہوتی ہے۔

قومی خبریں سے مزید