• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

اینٹی ڈپریسنٹ ادویات کے طویل مدتی فوائد محدود ہو سکتے ہیں: نئی تحقیق

---فائل فوٹو
---فائل فوٹو

ایک نئی تحقیق میں اینٹی ڈپریسنٹ (ڈپریشن کم کرنے والی) ادویات کے طویل عرصے تک استعمال سے متعلق خدشات کا اظہار کیا گیا ہے۔ 

محققین کے مطابق ان ادویات کے طویل مدتی فوائد ممکنہ طور پر اتنے مؤثر نہیں جتنے ماضی میں سمجھے جاتے تھے، جبکہ ان کے استعمال سے بعض صحت کے خطرات اور دوا چھوڑنے پر شدید علامات بھی سامنے آ سکتی ہیں۔

دنیا بھر میں 33 کروڑ سے زائد افراد ڈپریشن کا شکار ہیں، جن میں سے بڑی تعداد روزانہ اینٹی ڈپریسنٹ ادویات استعمال کرتی ہے۔

تحقیق کے مطابق خواتین میں ان ادویات کا استعمال مردوں کے مقابلے میں تقریباً دگنا زیادہ پایا جاتا ہے۔

امریکا، برطانیہ اور آسٹریلیا جیسے ترقی یافتہ ممالک میں بہت سے مریض سالہا سال تک اینٹی ڈپریسنٹ ادویات استعمال کرتے رہتے ہیں، تاہم اب سامنے آنے والے سائنسی شواہد اس نظریے کو چیلنج کر رہے ہیں کہ یہ ادویات دماغ میں سیروٹونن (Serotonin) کی کمی کو پورا کر کے اپنا اثر دکھاتی ہیں۔

محققین کا کہنا ہے کہ نئی تحقیقات سے ظاہر ہوتا ہے کہ اینٹی ڈپریسنٹس کے اثرات کی وضاحت کے لیے ماضی میں پیش کیے گئے بعض نظریات مکمل طور پر درست نہیں ہو سکتے، جس کے بعد طبی ماہرین کے درمیان ان ادویات کی طویل مدتی افادیت پر نئی بحث شروع ہو گئی ہے۔

تحقیق میں خبردار کیا گیا ہے کہ طویل عرصے تک اینٹی ڈپریسنٹ ادویات استعمال کرنے والے افراد کو دوا بند کرنے کی صورت میں شدید اور پریشان کن علامات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

ماہرین کے مطابق بعض مریضوں میں یہ علامات توقع سے زیادہ سنگین اور طویل المدت ہو سکتی ہیں، جس کے باعث دوا کا استعمال ترک کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔

طبی ماہرین نے زور دیا ہے کہ مریض کبھی بھی اپنے معالج کے مشورے کے بغیر اینٹی ڈپریسنٹ ادویات اچانک بند نہ کریں، کیونکہ اس سے صحت پر منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

تحقیق کی روشنی میں ماہرین نے صحت کے شعبے سے وابستہ افراد کو مشورہ دیا ہے کہ وہ مریضوں کے علاج کے منصوبوں کا باقاعدگی سے جائزہ لیں۔

محققین کا کہنا ہے کہ ڈاکٹروں کو کم از کم ہر 6 ماہ بعد یہ جانچنا چاہیے کہ آیا مریض کے لیے اینٹی ڈپریسنٹ ادویات کا استعمال اب بھی ضروری اور فائدہ مند ہے یا نہیں۔


نوٹ: یہ مضمون قارئین کی معلومات کے لیے شائع کیا گیا ہے، صحت سے متعلق امور میں اپنے معالج کے مشورے پر عمل کریں۔

صحت سے مزید