بالی ووڈ اداکار عامر خان نے انکشاف کیا ہے کہ میں نے 60 سال کی عمر میں 18 کلو وزن کم کر لیا ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ وزن کم کرنا عامر خان کا بنیادی مقصد نہیں تھا بلکہ وہ بار بار ہونے والے مائیگرین کے اٹیکس سے نجات حاصل کرنا چاہتے تھے۔
بھارتی میڈیا کو دیے گئے حالیہ انٹرویو میں عامر خان نے بتایا کہ میں نے صحت کی بہتری کے لیے اینٹی انفلامیٹری غذا اختیار کی جس کے حیران کُن نتائج سامنے آئے۔
ان کے مطابق اس غذائی طرزِ زندگی سے ناصرف میرا 18 کلو وزن کم ہوا بلکہ مائیگرین اٹیکس میں بھی نمایاں کمی آئی۔
عامر خان نے اپنی روز مرہ کی مکمل غذا کی تفصیلات تو نہیں بتائیں تاہم انہوں نے بتایا ہے کہ میں اینٹی انفلامیٹری غذا پر عمل کر رہا ہوں۔
عامر خان کے اس بیان کے بعد ماہرین نے اپنی رائے میں کہا ہے کہ یہ کوئی عارضی یا فیشن پر مبنی ڈائٹ نہیں بلکہ ایسا غذائی نظام ہے جو جسم میں سوزش کو کم کرنے میں مدد دیتا ہے۔
ہارورڈ ہیلتھ کے مطابق جسم میں مسلسل رہنے والی سوزش دل کے امراض، ذیابیطس، گٹھیا اور دیگر دائمی بیماریوں سے منسلک ہو سکتی ہے۔
اینٹی انفلامیٹری غذا میں تازہ اور قدرتی غذاؤں کو ترجیح دی جاتی ہے جبکہ پراسیس شدہ خوراک سے پرہیز کیا جاتا ہے۔
اس غذائی نظام میں رنگ برنگے پھل، سبزیاں، ثابت اناج، جئی، براؤن چاول، کینوا، باجرہ، دالیں، پھلیاں، میوے، بیج، زیتون کا تیل، ایواکاڈو کا تیل اور اومیگا 3 سے بھرپور مچھلی شامل ہوتی ہے۔
ماہرین کے مطابق اس ڈائیٹ پلان کے دوران اعتدال کے ساتھ سبز چائے، بغیر دودھ کے بنی کالی چائے اور کافی بھی استعمال کی جا سکتی ہے۔
دوسری جانب میٹھی غذائیں، مشروبات، ٹافیاں، پیک شدہ مٹھائیاں، سفید آٹے سے بنی اشیاء، تلی ہوئی غذائیں، پراسیس شدہ خوراک اور ٹرانس فیٹس والی اشیاء سے گریز کیا جاتا ہے۔
ایک طبی تحقیق کے مطابق اینٹی انفلامیٹری غذاء جسم میں سوزش کی علامات کم کرنے، بہتر نیند، زیادہ توانائی، وزن میں توازن اور جوڑوں کی صحت بہتر بنانے میں مددگار ثابت ہوتی ہے۔
واضح رہے کہ عامر خان ماضی میں فلمی کرداروں کے لیے کئی بار اپنے جسمانی وزن اور ساخت میں بڑی تبدیلیاں لا چکے ہیں تاہم اس بار انہوں نے کسی فلمی کردار کے بجائے اپنی مجموعی صحت اور بہتر معیارِ زندگی کے لیے یہ تبدیلی اختیار کی ہے۔
