ساڑھے چار ہزار مربع میل کے اس علاقے کو جسے آزاد جموں کشمیر کہا جاتا ہے کسی منظم فوج کے ذریعے نہیں نہتے کشمیریوں نے کلہاڑیوں ،بھالوں اور ڈنڈوں کی مدد سے آزاد کرایا تھا صرف چند لوگوں کے پاس بندوقیں ہوں گی۔پاکستان کی غیر منظم فوج تو اس وقت انگریز کمانڈر انچیف جنرل گریسی کے ماتحت تھی جس نے قائد اعظم کے حکم کو رد کرتے ہوئے سری نگر پر ہوائی جہازوں سے اتاری جانے والے منظم بھارتی فوج کو روکنے سے انکار کردیا تھا ۔کشمیری مسلمانوں نے آزاد کشمیر کو آزادی کا بیس کیمپ قرار دیاجہاں سے پورے کشمیر کو آزاد کرنے کے لئے لڑائی لڑی جانے والی تھی مگر آزادی کے اس مرکز کو ناقابل قبول مصلحتوں کی بھینٹ چڑھا دیا اور جلد ہی اسے اقتدارکی رسہ کشی کا میدان بنا دیا گیا ۔ مسلم کانفرنس کی زیر قیادت آزادی کی جو تحریک سری نگر پونچھ اور جموں سے شروع ہوئی تھی وہ اقتدارکی لن ترانیوں میں گم ہوگئی ۔ آزاد کشمیر کی نوجوان نسل کو اس تحریک اور اس کی راہ میں آنے والی رکاوٹوں اور ناقابل برداشت سختیوں کے بارے میں کچھ پتا نہیں کیونکہ آزاد کشمیر کے نصاب میں کشمیر کی تاریخ پڑھائی ہی نہیں جاتی۔
مسلم کانفرنس کے بطن سے کئی سیاسی پارٹیوں نے جنم لیا اب مسلم کانفرنس کے علاوہ آزادی کا نعرہ تو وقتاً فوقتاً وہ بھی لگاتی ہیں لیکن بڑی مدھم آواز میں۔ سڑکوں ، نالے ، نالیوں ، پلوں اور آٹے روٹی کی سہولتوں کا ذکر عام ہونے لگا ہے جموں و کشمیر عوامی ایکشن کمیٹی جو آج ایک متوازی حکومت کا درجہ حاصل کرچکی ہے ،نےاپنے قیام کا مقصد عوامی سہولتوں کی فراہمی قرار دیا مگر جب اس کے مطالبات مانے جانےلگے تو اس کا دائرہ کار پھیلتا چلا گیا ایسے مطالبات بھی اس کی فہرست میں شامل ہوگئے جو سیاسی اور قانون سازی سے متعلق ہیں جو آزاد جموں کشمیر قانون ساز اسمبلی کے دائرہ اختیار میں ہیں ایسا ہی ایک مطالبہ پاکستان میں پناہ لینے والے کشمیری مہاجرین کی 12نشستوں کا خاتمہ ہے جو آزادکشمیر اسمبلی میںا ن کیلئے مخصوص کی گئی ہیں ۔ حکومت نے اس کے باقی مطالبات تو مان لئے مگر اس مطالبے کو اسمبلی کی منظوری سے مشروط کردیا اب غالباً یہی واحد وجہ نزع ہے اور اسکے نتیجے میں آزاد کشمیر اس وقت ایسی صورتحال سے دوچار ہے جو پہلے کبھی پیدا نہیں ہوئی تھی ۔ اس صورت حال کے پیچھے بھارت کا ہاتھ ہے یا نہیں یہ الگ معاملہ ہے مگر یہ مقبوضہ کشمیر میں ہونے والی قتل و غارت گری اور بدامنی کے مماثل ضرور ہے جس سے بھارت فائدہ اٹھا رہا ہے ۔ آزاد کشمیر میں ایکشن کمیٹی کی تحریک پر جسے حکومت نے تو کالعدم قرار دیا ہے مگر وہ پوری طرح فعال ہے پورے آزاد کشمیر میں ہڑتال مظاہرے اور دھرنے جاری ہیں راولپنڈی ، جہلم اور گجرات آزاد کشمیر کی سپلائی لائن پر ہیں ۔پورے آزاد کشمیر میں غلے سمیت کھانے پینے کی اشیا اور استعمال کی دوسری چیزیں یہیں سے آزاد کشمیر جب کہ ڈوگرہ راج کے دوران پورے کشمیر کو جاتی تھیں ۔ ایکشن کمیٹی نے پبلک ٹرانسپورٹ کو عضو معطل بنا دیا ہے جس کی وجہ سے آزاد کشمیر کے شہروں اور قصبوں میں کوئی چیز نہیں پہنچ رہی ہے بازار بند ہیں دوکاندار اپنی دکانیں کھولنے سے ڈرتے ہیں کیونکہ انہیں ڈر ہے کہ ایکشن کمیٹی انہیں آگ لگادے گی ایسی دھمکیاں انہیں مل رہی ہیں مگر کمیٹی کا کہنا ہے کہ ہم نہیں یہ دھمکیاں حکومت دیتی ہے ۔ عدالتیں بند ہیں کہ وکلاء اور موکلین جان کے خطرے کی وجہ سے عدالتوں کا رخ نہیں کرتے۔ تعلیمی اداروں میں چھٹیاں ہیں دوسرے دفاتر میں بھی ملازمین کم ہی آتے ہیں ۔
ایجی ٹیشن کا مرکز راولا کوٹ ہے جہاں کے جانبازوں نے آزادی کیلئے اپنی کھالیں کھینچوالیں تھیں۔ ایکشن کمیٹی نے اس تاریخ کو دھرنے کیلئےاس شہر کا انتخاب کیا ہے کمیٹی کا دعویٰ ہے کہ وہاں ہزاروں لوگ دھرنا دیئے بیٹھے ہیں ۔ حکومت کا موقف ہے کہ دھرنے والے ایک ہزار سے زیادہ نہیں ہیں البتہ ان کے لیڈر آئیں تو تعداد کچھ زیادہ ہوجاتی ہے ۔ عجیب بات ہے کمیٹی پر پابندی ہے مگر اپنا کام وہ پوری آزادی سے کررہی ہے ۔
ایکشن کمیٹی کے متحرک ارکان میں آزاد کشمیر کے تقریباً سب علاقوں کے جوشیلے لوگ شامل ہیں جن بارہ نشستوں کو ختم کرنے کا مطالبہ کمیٹی کررہی ہے ا س میں اس حد تک تو ان کا مطالبہ جائز ہےکہ مہاجرین کے ساتھ آزاد کشمیر کے ان لوگوں کو بھی جوپاکستان میں کاروبار یا ملازمتوں وغیرہ کیلئے رہائش پذیر ہیں، ان سیٹوں پر الیکشن لڑنے کا حق دیا گیا ہے۔ آزاد کشمیر کے بعض لوگ ان سیٹوں پر اسمبلی کے رکن بھی منتخب ہوتے رہتے ہیں ایسے امیدواروں کو الیکشن لڑنے سے روک دیا جائے تو عین انصاف ہوگا کیونکہ وہ اپنے آبائی علاقوں سے بھی الیکشن لڑسکتے ہیں ایسی مثالیں موجود ہیں کہ کوئی شخص مہاجرین اور دیگر یعنی آزاد کشمیر کے رہائشی کی سیٹ سے ناکام ہوا ہے مگر آزاد کشمیر سے جیت گیا مگر سرے سے مہاجرین کی سیٹیں ختم کرنا مسئلہ کشمیر کے بنیادی تقاضوںکو نظر انداز کرنے کے مترادف ہے حالات اس نہج تک پہنچ چکے ہیں کہ کالعدم کمیٹی اور مقتدرہ دونوں کو حکمت عملی سے کام لیناہے ۔ زیادہ مہاجرین جموں کے ہیں وادی کشمیر سے کم لوگوں نے ہجرت کی۔جموں کے مسلمانوں کو پاکستان بھیجنے کی سہولت دینے کا چکمہ دے کر انہیں ایسے سرحدی علاقے میں پہنچایا گیا جہاں پہلے سے بھارتی فوج اور مسلح ہندو جتھے موجود تھے انہوں نے ساڑھے تین لاکھ مسلمان مردوں ، عورتوں اور بچوں کو دھوکے سے بلا کر سب کو قتل کردیا ،تاریخ کا یہ المناک واقعہ شاید کسی کو یاد نہیں بس یہ یاد ہے کہ جو لوگ بچ کر پاکستان پہنچ گئے انکی سیٹیں ختم کردی جائیں ۔
مقتدرہ اور کالعدم ایکشن کمیٹی کو اپنی اپنی انا کی قربانی دے کر تحریک آزادی کے تقاضوں کے مطابق متفقہ فیصلے کرنے مٗیں دیر نہیں لگانی چاہئے ۔ یہ سوچ انتہائی ناقص ہے کہ جموں و کشمیر کا مسئلہ ختم ہوچکا ہے کشمیری ایک قوم تھے ،ہیں اور رہیں گے، قومیں مغلوب بھی ہوتی ہیں اورآزادی کی جدوجہد صدیوں تک جاری رہتی ہے مگر آزادی بالآخر انکا مقدر بنتی ہے۔ کشمیری وقتی مصلحتوں، مایوسیوں اور ناکامیوں کا شکار ہوکر ہتھیار نہیں ڈالیں گے تو اپنے مستقبل کا خود آزادانہ فیصلہ کرنے کا حق انہیں ضرور ملے گا۔