قومی اسمبلی کے منعقدہ حالیہ اجلاس کی خاص بات یہ ہے کہ اس میں پہلی دفعہ گلگت بلتستان کے جائز آئینی حق کے لئے موثر آواز بلند ہوئی ہے۔ اگرچہ یہ خصوصی اجلاس بجٹ پر بحث کے حوالے سے بلایا گیا ہے جس میں تمام جماعتوں کے ممبران شریک تھے اسلئے اس اجلاس کی خاص اہمیت ہے۔ قومی اسمبلی کے جون والے اجلاس میں بلاول بھٹو کی تقریر کا مرکزی نکتہ گلگت بلتستان کے عوام اور ان کی حق حاکمیت تھا۔ اس اجلاس میں وزیراعظم پاکستان ، اپوزیشن لیڈروں ، حکومتی اتحادی اور دیگر قومی و علاقائی جماعتیں کے ممبران بھی موجود تھے۔ قومی اسمبلی ملک کا بڑا آئینی فورم ہے اور ملکی سطح کاکوئی بھی فیصلہ اور قانون سازی اسی کے توسط سے ہوتا ہے لہذا گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کے حوالے سے اس فورم میں سنجیدہ اور چشم کشا مؤقف کو نہ تو کوئی سیاسی جلسہ والی تقریر کہہ کر جھٹلایا جاسکتا ہے اور نہ ہی کسی خاص سیاسی جماعت کی ذاتی بیان بازی قرار دی جاسکتی ہے۔ بلاول بھٹو نے اپنی تقریر میں گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کے حوالے سے انتہائی اہم گفتگو کی ہے جس کی بنیاد پر ان دونوں خطوں کے مستقبل کے حوالے سے فیصلہ سازی کا اہم کام کیا جاسکتا ہے۔ یہ گلگت بلتستان کے ہر دل کا وہ مطالبہ ہے جس کے لئے گزشتہ ستر سال سے یہاں کےعوام پر امن طریقے سے نقش فریادی بنے بیٹھے ہیں۔
بلاول بھٹو نے گلگت بلتستان میں حالیہ انتخابی مہم میں بھی جگہ جگہ اس بات کا اعادہ کیا کہ اس خطے کے قدرتی وسائل پہ جہاں اس علاقے کے لوگوں کا حق ہے وہیں پر ان کو سیاسی و آئینی حقوق بھی ان کی قربانیوں کے مطابق ملنا چاہئے۔ جہاں تک انتخابی سیاسی جلسہ جلوسوں کی بات ہے ان میں دیگر جماعتوں کے زعماء نے بھی بہت کچھ کہا تھا۔ مگر قومی اسمبلی کے فلور پر پالیسی سطح کی اس طرح کی گفتگو کرنا اور ریاست پاکستان کو وقت کے تقاضوں سے باخبر کرنے کا کام خاص سنجیدہ نوعیت کا ہے اور اس کی بڑی اہمیت ہے۔
انہوں نے بجا طور پر کہا کہ گلگت بلتستان کے لوگوں نے اپنی جنگ آزادی خود لڑی اور فتحیاب ہوکر پاکستان کے ساتھ الحاق کا اعلان کیا مگر اس عظیم قربانی کے بدلے میں ان کے اوپر صوبہ سرحد کے ایک نائب تحصیلدار کو حاکم ٹھہرایا گیا۔ یہاں کے لوگوں نے ظلم اور جبر کی بیڑیاں جگر کا خون دے کر کاٹ ڈالیں تو اس کے صلے میں انگریزوں کا قائم کردہ کالا قانون فرنٹیئر کرائم ریگولیشن (FCR) سے ان کی ناکہ بندی کی گئی یوں ان کی آواز اور شب و روز کو FCR کے شکنجے میں کس دیا گیا۔ تاریخ جاننے والے یہ بخوبی سمجھتے ہیں کہ FCR جیسا قانون کیوں بنا تھا اور اس کے تحت فرنگیوں نے ہر اس آواز کو جو ان کے اقتدار اور جبر کے خلاف اٹھتی تھی انہیں کس طرح خاموش کردیا تھا۔دوسری اہم بات جو بلاول بھٹو نے کی وہ مسئلہ کشمیر کو عنوان بناکر گلگت بلتستان کے آئینی حق کو پس پشت ڈال دینا ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں خود کچھ عرصہ وزیر خارجہ رہا ہوں اور اس حوالے سے ملکی اور بین الاقوامی نزاکتوں کو سمجھتا ہوں لیکن اس کے باوجود بھی گلگت بلتستان کو جائز حق دینے میں کوئی خاص قدغن موجود نہیں۔مسئلہ کشمیر اور گلگت بلتستان کے حوالے سے چیف جسٹس آزاد کشمیر سپریم کورٹ سید منظور حسین گیلانی کی صاحب رائے سب سے اہم ہے۔ انہوں نے افضل شگری اور دیگر ڈپلومیٹ کے اشتراک سے جو تھنک ٹینک کے نام سے بنائی ہے اس کے ایک اہم پالیسی دستاویز میں بھی اور بعد ازاں 2025 میں ان کی اپنی شائع شدہ کتاب ’’ آئینہ کشمیر‘‘ میں اس حوالے سے تفصیلی قانونی بحث کی ہے۔ یادش بخیر ہیومن رائٹس کمیشن پاکستان نے بھی گلگت بلتستان کے حوالے سے اپنی رپورٹ میں ضروری حقوق دینے کی سفارش کی تھی۔ان تمام باتوں اور تجزیوں کا خلاصہ یہی نکلتا ہے کہ گلگت بلتستان کے الحاق پاکستان کی قدر کرنی چاہئے اور اس خطے کو آئینی شناخت دینے میں مزید کوتاہی نہ برتی جائے اور یہی مستحکم پاکستان کے لئے بنیاد ہوگی۔ دوسری طرف گلگت بلتستان کے لوگوں کا روز اول سے یہی بیانیہ رہا ہے کہ انہوں نے خود جنگ لڑ کر آزادی حاصل کی اور صدق دل سے پاکستان کی حمایت کی ہے۔ یہ سائمن کمیشن کے نقشوں میں تقسیم کے تحت حاصل کردہ کسی علاقے کا کوئی الحاق نہیں تھا بلکہ آگ و خون سے گزر کر اٹھائیس ہزار مربع کلومیٹر کا حقیقی اتصال ہے۔ گلگت بلتستان کی intelligentsia کا بھی یہی اصرار ہے کہ اس خطے کی جغرافیائی اہمیّت بہت زیادہ ہے اور اس کی قدیمی تاریخ بھی کشمیر سے بالکل مختلف ہے۔ لہذا یہاں کی جنگ آزادی اور الحاق پاکستان کو بھی الگ تناظر میں دیکھنا چاہئے۔ کشمیر کے ڈوگرہ مہاراجہ کا 1840میں اس خطے پر قبضہ ایک جابرانہ قدم تھا جس کا جوا 1947 ءمیں اتار پھینکا گیا۔ گلگت بلتستان کی اسمبلی نے متعدد بار وفاق پاکستان سے آئینی حقوق دینے کی قراردادیں پاس کی ہیں۔سپریم کورٹ آف پاکستان کے فیصلہ محررہ 1999 ء میں بھی گلگت بلتستان کی عوام کو پاکستان کا شہری قرار دیا تھا اور وفاق پاکستان کو اس ضمن میں ضروری قانون سازی کی ہدایت کی تھی ۔پس اس خطے کی اعلیٰ منتخب قیادت کے فیصلوں کی قدر کرنی چاہئے اور اس عوامی رائے کو بیوروکریسی یا وزارت خارجہ کے بقراط کے ہاتھوں موقوف رکھنا کسی قسم کی دانشمندی نہیں ہوگی۔بلاول بھٹو کے اس نئے موقف کی اہمیت اسلئے بھی زیادہ ہے وہ ملک کی ایک بڑی پارٹی کے سربراہ ہیں۔ 1996ءمیں اس پارٹی نے گلگت بلتستان میں جماعتی بنیادوں پر انتخابات کرایا، 2009ءمیں صوبائی طرز کا سیٹ اپ دیا اور اب گلگت بلتستان کے آئینی حق کے حوالے سے قومی اسمبلی میں کسی بھی قسم کی قانون سازی میں مؤثر، بنیادی اور فیصلہ کن کردار ادا کرسکتے ہیں۔