• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

بھارتی دفاعی تجزیہ کار پاکستانی پالیسی سازوں کے معترف

—فوٹو بشکریہ سوشل میڈیا
—فوٹو بشکریہ سوشل میڈیا

سینئر بھارتی دفاعی تجزیہ کار پروین ساہنی کا پاکستانی پالیسی سازوں کی قابلیت کا اعتراف کرتے ہوئے کا کہنا ہے کہ بھارت کے برعکس پاکستان باخوبی سمجھتا ہے کہ کب امریکا سے ہاتھ ملانا ہے اور کب دوری اختیار کرنی ہے۔

پروین ساہنی نے اپنے حالیہ انٹرویو میں خطے کی موجودہ صورتِ حال کے بارے میں بات کرتے ہوئے سابق امریکی وزیرِ خارجہ ہنری کسنجر کے مشہور قول ’امریکا سے دشمنی خطرناک ہو سکتی ہے لیکن دوستی مہلک ہے‘ کا حوالہ دیا اور کہا کہ بھارت نے بالکل یہی کیا ہے کیونکہ ہم امریکا کے اتحادی بنے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان نے ہم سے بالکل متضاد حکمتِ عملی بنائی کیونکہ وہ باخوبی سمجھتا ہے کہ اپنے قومی مفادات کے تحفظ کے لیے امریکا سے کب ہاتھ ملانا ہے اور کب دوری اختیار کرنی ہے۔

پروین ساہنی نے اپنی بات کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی منفرد سفارتی صلاحیت کو بڑی عالمی طاقتوں بالخصوص چین اور روس کو قبول کرنے کی وجہ سے بہت اہمیت دی جاتی ہے، مزید یہ کہ پاکستان کے پاس ادارہ جاتی مہارت ایک ایسا عنصر ہے جس نے اسے امریکا اور ایران کے لیے سب سے زیادہ قابلِ عمل ثالث بنایا۔

اُنہوں نے کہا کہ بھارت نے جو سب سے بڑی غلطی کی ہے وہ یہ ہے کہ ہم نے سوچا کہ امریکا بھارت کو برابر کا ساتھی سمجھے گا کیونکہ ایسا کبھی نہیں ہو گا۔

پروین ساہنی نے کہا کہ موجودہ صورتِ حال میں پاکستان کی مضبوط پوزیشن کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ پاکستان کی عسکری قیادت پیچیدہ خارجہ پالیسی کو نیویگیٹ کرنے کا وسیع تجربہ رکھتی ہے اور ایک مستقل حکمتِ عملی کو برقرار رکھتی ہے جس سے پاکستان علاقائی تعلقات پر سمجھوتہ کیے بغیر امریکا کے ساتھ مؤثر طریقے سے روابط قائم کر سکتا ہے۔

انہوں نے بھارتی خارجہ پالیسی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ بھارت نے طویل مدتی پالیسی بنانے کے بجائے بس امریکا کے ساتھ اپنے تعلقات کو بہتر رکھنے پر توجہ دی جس کی وجہ سے اب عالمی توجہ بھارت سے ہٹ کر یوریشیا کی طرف مبذول ہو گئی ہے اور صورتِ حال پاکستان کے حق میں بدل رہی ہے۔

پروین ساہنی نے یہ بھی کہا کہ اس بدلتی ہوئی صورتِ حال میں پاکستان کو 3 بنیادی عوامل کے امتزاج کی وجہ سے زیادہ فائدہ حاصل ہے، یہ 3 بنیادی عوامل ملک کا جغرافیائی محلِ وقوع، بطور اسلامی ملک حیثیت اور جوہری ہتھیاروں کی موجودگی ہیں۔

بین الاقوامی خبریں سے مزید