وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے کہا ہے کہ آزاد کشمیر بحران سے متعلق میرے ریمارکس صاف گو اور دیانتدارانہ تھے۔
اسلام آباد سے جاری بیان میں خواجہ آصف نے کہا کہ جن لوگوں کے خفیہ اور منفی ایجنڈے ہیں وہ میرے بیان کو توڑ مروڑ کر پیش کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ میرے آزاد جموں و کشمیر کے بحران سے متعلق ریمارکس صاف گو اور دیانتدارانہ تھے، یہ لوگ مجھ سے کشمیر کو، پاکستان سے کشمیر کو یا پاکستان کو کشمیر سے جدا نہیں کرسکتے۔
وزیر دفاع نے مزید کہا کہ ان کشمیریوں کی قربانیاں جنہوں نے اکتوبر 1947ء میں ہجرت کر کے پاکستان کارخ کیا، وہ تاریخ میں درج ہیں۔
اُن کا کہنا تھا کہ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی قبضے کے خلاف جدوجہد 78 سال سے قربانیوں، شہادتوں اور جیلوں میں قید کی طویل داستان ہے۔
خواجہ آصف نے یہ بھی کہا کہ پاکستان کا کشمیرکاز سے وابستگی کا ثبوت ہمارے شہداء کے خون میں موجود ہے، جو 5 جنگوں میں بہایا گیا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کا کشمیر کاز سے وابستگی کا ثبوت یو این قراردادوں کے مطابق حق خودارادیت اور ریفرنڈم کے اصولی مؤقف پر مبنی ہے۔
وزیر دفاع نے کہا کہ آزاد کشمیر سے پاکستان کے خلاف اٹھنے والی بیرونی اور منفی ایجنڈے سے متاثر آوازوں کا سختی سے جواب دیا جانا چاہیے۔
اُن کا کہنا تھا کہ کچھ کشمیری وہ ہیں، جنہوں نے ہجرت کی قربانیاں دیں، کچھ وہ ہیں جو آج بھی مقبوضہ کشمیر میں اس کی قیمت ادا کر رہے ہیں۔
خواجہ آصف نے کہا کہ پاکستان کے سپاہیوں کی حفاظت میں دہائیوں سے امن میں رہنے والے آزاد کشمیر کے لوگوں کو مقبوضہ کشمیر کے عوام اور مہاجرین کی قربانیوں کو تسلیم کرنا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر کے عوام اور مہاجرین کی قربانیوں کو کم تر سمجھنا کشمیر کے مقصد کی نفی کے مترادف ہے، ’کشمیریت‘ کی تعریف پیدائشی سرٹیفکیٹس سے نہیں بلکہ وہ جدوجہد اور قربانیاں ہیں، جو تقریباً 8 دہائیوں سے پاکستانیوں سمیت تمام لوگوں نے دی ہیں۔