• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

تاریخ گواہ ہے کہ زیادہ تر دفاتر میں میٹنگز کے نام پر جووقت ضائع کیا جاتا ہے اس سے بھی کام کابیڑا غرق ہوتاہے۔ میں ایک ادارےمیں کام کرتا تھا جہاں کارکردگی کاسب سے بڑا معیار یہ تھا کہ کس نے کتنی میٹنگز اٹینڈ کی ہیں۔ صاحب بہادر روز ایک میٹنگ کال کرتے تھے اور دو گھنٹے تک ثابت کرتے تھے کہ اُن کے علاوہ کسی کو کوئی کام نہیں آتا۔ہرمیٹنگ کے بعدسب کی ٹیبل پر’میٹنگ منٹس‘کے نام پر چار کاغذ پہنچا دیئے جاتے جن میں لکھا ہوتا تھا کہ میٹنگ میں کیا طے پایا۔ میں نے اسٹاف کےاکثر لوگوں کواِن کاغذوں سے ہاتھ صاف کرتے دیکھا۔میرا ماننا ہے جہاں کام ہوتاہے وہاں یوں میٹنگز نہیں ہوتیں اور ہوتی بھی ہیں تو سارے اسٹاف کو کام سے ہٹا کر ایک جگہ دو گھنٹے کیلئے پابندنہیں کر دیا جاتا۔زیادہ میٹنگیں وہ کرتے ہیں جنہیں خود کوئی کام نہیں ہوتا۔تصورکریں آپ کوشام تک ایک پراجیکٹ مکمل کرنا ہے، آپ پوری تندہی سے اس پر کام کررہے ہیں اور اچانک میٹنگ کا بلاوہ آجاتاہے۔ آپ سرپکڑ کربیٹھ جاتےہیں کہ دو گھنٹے بعدجب دوبارہ پراجیکٹ پر کام شروع کرینگے تو باقی کتنا وقت رہ جائیگا۔ ایسی میٹنگیں اکثر کارروائی ڈالنے کیلئے ہوتی ہیں ورنہ کبھی انکا کوئی نتیجہ نکلتے نہیں دیکھا۔ ہمارے ایک سینئر ہوا کرتے تھے جنہیں میٹنگ میٹنگ کھیلنے کا جنون تھا۔ ایک دن موڈ میں تھے تو میں نے پوچھ ہی لیا کہ سر آپ اتنی میٹنگز کیوں کال کرتے ہیں؟ تھوڑی دیر خاموش رہے پھر ادھراُدھردیکھ کر بولے ’میںنے بھی مالکان کو بتانا ہوتا ہے کہ میں بھی کام کرتاہوں‘۔

ہم جیسی پرانی نسل کیلئے کام وہی ہوتاہے جس کیلئے صبح گھر سے نکلا جائے، ایک دفترمیں حاضری دی جائے اور شام کو تھکے ہارے واپس آیا جائے۔ ہمیں بڑا مسئلہ ہے کہ نئی نسل کام کیوں نہیں کرتی حالانکہ یہ نئے بچے کمپیوٹرپربیٹھ کربھی آن لائن پیسے کمارہے ہیں۔ نوسے پانچ بجے والی جنریشن کے اکثرلوگوں کو یہ طریقہ کار نہیں آتا لہٰذا کڑھتے رہے ہیں کہ بچے کی سرکاری نوکری کی عمر گزرتی جارہی ہے۔میں تونئی نسل کے ایسے بچوں کو دیکھ کر بہت متاثر ہوتاہوں جو ٹک ٹاک، یوٹیوب ا ور فیس بک سے ڈالرز کمارہے ہیں۔کل ایک بچے سے ملاقات ہوئی جو مختلف ریسٹورنٹ کے بارے میں وی لاگز بناتاہے اور ریسٹورنٹ والے باقاعدہ اسے اچھے خاصے پیسے دیتے ہیں۔ہماری جنریشن ٹک ٹاکر بننے کو مذاق سمجھتی ہے لیکن ٹک ٹاک پر صرف بیہودہ مواد ہی نہیں بہت اچھی وڈیوز بھی موجود ہیں۔ لاکھوں بچے بیہودگی سے ہٹ کر بھی موادتخلیق کر رہے ہیں اور ریونیوحاصل کررہے ہیں۔

آپ نے کئی بڑی عمر کے ڈاکٹرز، انجینئرز اور دیگر شعبوں کے لوگوں کو یوٹیوب پر دیکھاہوگا جو بتا رہے ہوتے ہیں کہ اُن کے بچوں نے اُن کا یوٹیوب اکاؤنٹ بنایا، مائیک اور لائٹس لگا کر دیں اور اب والد صاحب ریٹائرمنٹ کے بعد بھی اپنی گفتگویاانفارمیشن کی صلاحیت سے لاکھوں کمارہے ہیں۔سوشل میڈیاکی آمدنی فی الحال ایکسٹراانکم کے طور پر لوگوں کی زندگی میں شامل ہوئی ہے لیکن کوئی بعید نہیں کہ آنے والے وقتوں میں یہی ان کی فرسٹ چوائس بن جائے۔ جس کے پاس جوبھی صلاحیت ہے اسے وہ ضرور سوشل میڈیا پر شیئر کرنی چاہیے،یہاں ہرچیز کاگاہک موجود ہے۔

٭ ٭ ٭

میں نے جب پہلاموبائل خریدا تھا تو تب سم نہیں ہوتی تھی بلکہ پورے کاپورا انٹینا والاموبائل ہی خریدنا پڑتا تھا۔ اس میں بیلنس ڈلوانے کیلئے کمپنی کے دفتر جانا پڑتا تھا اور اس سے بھی زیادہ اذیت کی بات یہ تھی کہ کال سننے کے بھی پیسے کٹتے تھے۔مجھے یادہے میں ایک دفعہ کراچی جارہاتھا۔ لاہور ایئرپورٹ پرایک صاحب کو لاؤنج میں بغیر انٹینا والا فون استعمال کرتے دیکھا تو حیران رہ گیا۔ میں نے اُن کے پاس جاکر پوچھا کہ یہ کون سا نیا موبائل ہے۔اس پر اُنہوں نے بڑے فخر سے بتایا کہ یہ جدید ٹیکنالوجی والافون ہے اور اِس کا نام 3310ہے۔جب سم والے فون آئے تو میں نے پہلی سم چھ ہزار کی خریدی تھی۔آج کل یہ سو روپے میں ملتی ہے۔ٹیکنالوجی جس تیز رفتاری سے آگے بڑھ رہی ہے اس سے صاف اندازہ ہورہاہے کہ بہت جلد پٹرول لوگوں کی ضرورت نہیں رہے گا۔جگہ جگہ الیکٹرک بائیکس نظر آنی شروع ہوگئی ہیں۔ الیکٹرک کاریں بھی نہ صرف آچکی ہیں بلکہ اِن کے ری چارجنگ اسٹیشنز بھی لگنا شروع ہوگئے ہیں۔مستقبل میں پٹرول صرف چندخاص شعبوں کی ضرورت بن کر رہ جائے گا۔سولرپینلزکی بدولت بجلی کاایک متبادل تو دیکھنے میں آرہاہے، آنے والے وقتوں میں اگر یہ پینل رات کو بھی بجلی بنانے لگے تو دیکھئے گا کیسے کھمبے ویران ہوتے ہیں۔بجلی اگروائی فائی ہوگئی توتاروں کے جال بھی ختم ہوجائیں گے اور مزید حیرت انگیز دنیاکی شروعات ہوگی۔آج سے ہی باتیں شرو ع ہوچکی ہیں کہ انسان بہت جلد بے روزگار ہوجائے گالیکن مجھے لگتاہے انسان کی خوراک کی ضرورت ہمیشہ رہے گی لہٰذا زراعت کا پیشہ تمام شعبوں میں ممتاز ہوجائیگا۔روبوٹس ہل چلائیں گے اورزمینیں سونااُگلیں گی۔کھانے کو وافرہوگاتوملاوٹ بھی دم توڑ جائیگی۔ہاں یہ سوال البتہ موجود ہے کہ پھرانسان کیا کریں گے۔گئے وقتوں میں فصلوں کے تیار ہونے تک پورا گاؤں چوپال میں جمع ہوتا تھا،باتیں ہوتی تھیں، ہیروارث شاہ سنائی جاتی تھی، منڈلیاں جمتی تھیں، کھیل تماشے ہوتے تھے لیکن جدیددورکاانسان فارغ رہے گا توکیاکرئیگا؟واپسی کاسفرتوناممکن ہے لیکن یقیناً آنے والی نسلیں ہم سے بہت اچھی ثابت ہوں گی اور وہ فراغت کاکوئی حل نکال لیں گی۔میں تویہ سوچ سوچ کر پریشان ہوں کہ اگرکہانیاں سنانے والے نہیں ہوں گے، شاعری سننے کونہیں ملے گی، کانوں میں قصے نہیں پڑیں گے، مسکراہٹیں بکھیرنے والے نہیں ہوں گے، سریلی آوازیں نہیں ہوں گی تویہ ہولناک فراغت کیسی ہوگی۔تصورکریں کہ کھانے کوہرچیز میسر ہے،ضرورت کاسارا سامان موجود ہے، بجلی بھی ہے، گیس بھی ہے، گاڑی بھی ہے لیکن کرنے کو کچھ نہیں ....

تازہ ترین