• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

طبیعت کی ناسازی کے باعث گزشتہ چند ہفتے حاضری سے معذور رہا۔ جموں سے موسم کا حال سنتا رہا۔ جموں کون ہیں۔ یہ ایک بالشت بھر کی چہار پایہ مخلوق ہیں جو کوویڈ کی وبا کے ہنگام ایک صبح دروازے پر ٹھٹھرتی پائی گئیں۔ کامنی مسعود کی مامتا جاگی۔ انہیں اٹھا کر گھر میں لے آئیں۔ جہاں آرا بیگم کا نام دیا گیا جو علی عثمان قاسمی کی نگہ تحقیق کی روشنی میں مختصر ہو کر جموں رہ گیا۔ اب جس گھر میں کسی پالتو جانور کا کوئی نشان تھا اور نہ روایت، وہاں جموں کے ناز اٹھانے کی پکار پڑی۔ جموں کیلئے مرغ کے لحم نیم برشت کا بندوبست ہوا۔ جموں کیلئے کھلونے خریدے گئے۔ صفائی کا سامان آیا۔ میں انسان کے دل کی کشاد کا امکان دیکھتا اور خوش ہوتا تھا۔ کامنی بی بی تو اپنی رخصت ختم ہونے پر واپس چلی گئیں۔ جموں بیگم کا راج سلامت رہا۔ پورے گھر میں سر اٹھا کر چلتی ہیں۔ صوفے پر اپنی اماں سے لگ کے اس شان سے براجمان ہوتی ہیں کہ کیا کسی شیر کو جنگل میں ایسا اطمینان نصیب ہو گا۔ I am the monarch of all I survey عظمیٰ باجی رات کے پہلے پہر میں جموں کے خور و نوش کا سامان مہیا کر کے سونے چلی جاتی ہیں۔ جموں خالی ڈھنڈار گھر میں بوکھلائی ہوئی پھرتی ہیں۔ رات کے آخری پہر میں ایک بوڑھا نیند سے بھری آنکھیں لیے بھاری قدم اٹھاتا سیڑھیاں اترتا ہے تو جموں کسی نیم تاریک کونے سے اچانک نمودار ہو کر پیروں سے لپٹ جاتی ہیں۔ پنجوں پر اپنی تھوتھنی ملتی ہیں اور ملتجی آنکھوں سے خوراک کا مطالبہ کرتی ہیں۔ مجھے خوف آ لیتا ہے کہ انجانے میں اگر پائوںاس ننھی جان پر پڑ گیا تو کیا ہو گا۔ بہتیرا پچکارتا ہوں کہ جموں بی بی اگر مجھے راستہ دو تو میں تمہاری بھوک مٹانے کا سامان کرتا ہوں مگر جموں کو طواف پائے ملامت سے غرض ہے۔ ننداسی آواز میں بولے اردو انگریزی جملے نہیں سمجھتیں۔ عوام بھی اپنی سرشت میں جموں سے کچھ مختلف نہیں۔ حکومتیں ہر برس ماہرین معیشت کی مدد سے آمدنی اور اخراجات کا تخمینہ پیش کرتی ہیں۔ ترقی کے اہداف متعین کیے جاتے ہیں۔ اخراجات کی ترجیحات طے ہوتی ہیں اور پھر سال کے آخر میں معلوم ہوتا ہے کہ اہداف پورے نہیں ہو پائے۔ نیز یہ کہ عوام کی حقیقی غربت میں اضافہ ہوا ہے۔ اس دوران اصحاب زہد و تقویٰ بجٹ میں موجود قرضوں کی ادائی نیز سود کی مذمت میں دفتر سیاہ کرتے ہیں اور عوام اپنی محرومیوں کا نوحہ بیان کرتے ہیں۔ کوئی یہ نہیں بتاتا کہ جس اخلاقی نمونے میں سود کی ممانعت کی گئی ہے، اسی نظام اخلاقیات میں معاہدوں کی پابندی کی تاکید بھی کی گئی ہے۔ یہ قرض کسی نے ہمیں دروازے پر دستک دے کر پیش نہیں کیے۔ ہم نے ان قرضوں کی منظوری کیلئے دریوزہ گری کی ہے۔ جبہ سائی کی جملہ مہارتیں بروئے کار لائے ہیں۔ قرضوں کی منظوری پر قوم کو مبارکباد دی ہے۔ پشتینی خوشامدیوں نے ان قرضوں کی منظوری پر قوم کو شادیانے بجانے کی تلقین کر رکھی ہے۔ اسلامی ممالک کی تنظیم کے ستاون رکن ممالک میں پاکستان پہلا ملک ہے جس نے 1991ءمیں سود سے پاک معیشت کا آوازہ لگایا۔ وفاقی شرعی عدالت نے فیصلہ دیا کہ تمام قومی اور بین الاقوامی قرضوں پر سود کی ادائیگی ختم کی جائے۔ اس پر حکومت اور قریب ستر مالی اداروں نے شرعی عدالت میں اپیل داخل کی۔ دسمبر 1999ءمیں وفاقی شرعی عدالت نے تفصیلی فیصلہ دیا کہ قرض کی اصل رقم پر کوئی بھی منافع یا اضافہ غیر اسلامی ہے۔ اس فیصلے کے مطابق 31 مارچ 2000 ءکو کچھ مالی قوانین غیر موثر ہونا تھے اور جون 2001ءمیں تمام متعلقہ قوانین کی تنسیخ قرار پائی تھی۔ جون 2002ءمیں اس فیصلے پر نظرثانی کی درخواست دائر کی گئی جو ربع صدی گزرنے کے باوجود تشنہ سماعت ہے۔ یہ رہا ہمارے مذہبی قوانین اور معاشی حقائق میں تصادم کا مآل۔ اب ایک نظر اس بجٹ پر ڈال لیجئے جو 12جون کو قومی اسمبلی میں پیش کیا گیا اور ہنوز پارلیمانی توثیق کا منتظر ہے۔ اس بجٹ کا کل حجم 18کھرب روپے ہے۔ گزشتہ برس کے بجٹ میں معیشت کیلئے 4.2فیصد شرح نمو کا ہدف رکھا گیا تھا لیکن معیشت کی شرح نمو 3.7 فیصد رہی۔ تاہم 3.7فیصد کی یہ شرح نمو بھی حالیہ چار برس میں بہترین معاشی کارکردگی قرار پائی۔ آئندہ برس کیلئے چار فیصد معاشی نمو کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ افراط زر کی شرح 8.2فیصد رہنے کا امکان ہے۔ مجوزہ بجٹ میں دفاعی اخراجات 18فیصد اضافے کیساتھ تین کھرب روپے کو پہنچ گئے ہیں جبکہ عوامی خدمات کیلئے تفویض وسائل کم ہو کر ایک کھرب روپے رہ گئے ہیں۔ اسکا مطلب ہے کہ تعلیم ، صحت اور دیگر عوامی خدمات کیلئے پہلے سے کم وسائل۔ آئندہ بجٹ کا 42فیصد حصہ یعنی ساڑھے آٹھ کھرب روپے ملکی اور غیر ملکی قرضوں کی ادائی پر خرچ ہونگے۔

ہماری معیشت کو تین بڑے خطرات لاحق ہیں۔ بڑھتی ہوئی آبادی ، حکومتی قرضوں کا بوجھ اور سیاسی عدم استحکام کا امکان۔ وفاقی ادارہ برائے محصولات کے سربراہ نے ایک دل سوز تحریر ہم وطنوں کی نذر کی ہے۔ چار بنیادی قضیے بیان کیے ہیں۔ پہلا یہ کہ ہم نے قرض کو ترقی کا وسیلہ سمجھ رکھا ہے۔ قرض کی بنیاد پر استوار ہونے والی کوئی معیشت مستحکم نہیں ہو سکتی۔ دوسرا یہ کہ اگر ہم اشیائے ضرورت پر سبسڈی دیں گے تو اس رعایت کی قیمت موجودہ جسد معیشت ہی سے ادا کرنا پڑے گی۔ برادر مکرم نے مزید لکھا کہ روپے کی قیمت میں گراوٹ معیشت کی منطق کا ناگزیر تقاضا ہے نیز یہ کہ کرنسی کی قدر مصنوعی طور پر مستحکم رکھنے سے معیشت میں ہمہ جہتی بحران پیدا ہوتا ہے۔ آخری نکتہ یہ کہ ہمارے ملک میں ٹیکس ادا کرنے کی ثقافت پیدا نہیں ہو سکی۔ ہم ٹیکس کو حکومت وقت کا ظلم سمجھتے ہیں جوکہ غلط ہے۔ حکومت کو اپنے اخراجات کیلئے محصولات ہی سے پیسہ نکالنا ہوتا ہے۔ ستم ظریفی یہ کہ حکومت ہر برس تنخواہ دار طبقے کو زیادہ قوت سے نچوڑتی ہے اور طاقتور طبقوں کو محصولات کے دائرے میں نہیں لایا جاتا۔ یہ کچھ تلخ معاشی حقائق ہیں اور جموں نے موسم کا یہی حال بتایا ہے۔

تازہ ترین