پانچ دریاؤں میں سے ایک دریا خشک ہو گیا۔احمد را ہی ایک ایسا نام ہے جس کے بغیر پنجابی ادب مکمل نہیں ہوتا۔ احمدراہی ہمارے ادبی حلقوں ہی میں نہیں بلکہ تینوں اہم ذرائع ابلاغ یعنی ریڈیو، ٹیلی ویژن اور فلم کے حوالے سے بھی ایک مستند نام ہے۔ اس سینئر قلم کار کی کتاب "ترنجن" نے ادب کی تاریخ میں ان کا نام ایک معتبر شاعر کی حیثیت سے منوا لیا۔ وہ پاکستان کی فلمی صنعت میں اس وقت شامل ہوئے جب یہ صنعت ایک نوزائیدہ ملک میں بے پناہ مسائل اور محدود وسائل میں زندہ رہنے کی جدوجہد کر رہی تھی احمدراہی نے اس فن میں بھی بہت جلد اپنی منفرد حیثیت منوا لی۔
ترقی پسند تحریک شروع ہوئی تو اس میں لاہور اور امرتسر نے ایک اہم کردار ادا کیا اس وقت تمام پنجابی مسلمان اردو میں لکھ رہے تھے اور جب پاکستان بنا تو ہمارے پاس جدید پنجابی ادب کی کوئی روایت نہ تھی، ترقی پسند تحریک سے متاثر ہو کر بہت سے مسلمان شاعروں اور ادیبوں نے اپنی مادری زبان میں بھی لکھنا شروع کیا۔ اس تحریک نے جہاں اور اعلیٰ وارفع کام کیے وہاں پنجابی ادب کو احمدراہی جیسا عظیم شاعر دیا۔ احمدراہی امرتسر میں پیدا ہوا، اپنے ادبی سفر کے آغاز ہی میں سیف الدین سیف سے بے حد متاثر رہا چونکہ اس زمانے یعنی ملک کی تقسیم سے پہلے تقریباً تمام مسلمان اردو کو ہی ذریعہ اظہار سمجھتے تھے اور یہ اسی سازش کا حصہ تھا جس میں پنجابی زبان پر موضوعات اور تفصیلات کے حوالے سے تنگ دامنی کا الزام تھا اسے محض گلی کوچوں کی زبان سمجھا جاتا تھا۔ اس لیے احمدراہی نے "ترنجن" لکھ کر پنجابی ادب و زبان پر لگنے والے تمام الزامات رد کر دیے۔ "ترنجن" ان دنوں پنجابی شاعری کی مقبول ترین کتاب بن گئی لوگ اسے امرتا پریتم کی شاعری کی کتاب "نویں رُت" کے ساتھ ملا کر پڑھتے تھے کئی برسوں تک ہم کبھی امرتا کے لفظوں میں اور کبھی راہی کے لفظوں میں آنسوؤں سے لکھی پنجاب کی خونیں تاریخ پڑھتے رہے ۔رومانس میں ڈوبی کالی تاریخ ۔
پاکستان میں جدید پنجابی ادب کی ابتدا صفر سے شروع ہوئی۔ قیام پاکستان کے بعد ہمارے پاس احمدراہی کی "ترنجن" اور افسانوں میں نواز کی کتاب "شام رنگی کڑی" کے علاوہ کچھ سرمایہ نہ تھا۔ ناول صفر ،تنقید صفر،کہانیاں صفر،اس صفر سے اپنے سفر کا آغاز کرنے والے ادب کے بارے میں ایک بار میں نے احمدراہی سے پوچھا ۔کہنے لگے۔ "آج پنجابی میں اچھی شاعری ہو رہی ہے ایک تو پنجابی شاعری کی روایت اتنی بڑی ہے کہ اس کے مقابلے پر کیا لکھا جائے گا لیکن جدید پنجابی شاعری بھی اردو شاعری سے بہت آگے ہے پنجابی ادب ایک دریا ہے وہ قدیم بھی ہے اور جدید بھی اس زمانے میں ہم سے بہتر چیزیں لکھی جا رہی ہیں حالانکہ ہم نے پنجابی کی طرف سے آنکھیں پھیر رکھی ہیں چونکہ پنجابی آدمی میں تعصب نہیں ہے اس لیے وہ اتنی مار کھا رہا ہے"ـراہی کی عظمت یہ ہے کہ اس نے پنجابی ادب کی کلاسیکی روایت کو چھوئے بغیر فسادات کے تجربے کو ایک نیا طرز اظہار دیا ۔نیا اس مفہوم میں کہ جن لوک دھنوں اور گیتوں کو اس نے انسانی غارت گری کے موضوع کے لیے استعمال کیا انہیں اس مفہوم میں پہلے استعمال نہیں کیا گیا تھا،راہی نے چھوٹے کینوس پر بڑا تجربہ کیا اور بلا شبہ کامیاب تجربہ کیا اپنےاس تجربے کو انہوں نے فلم میں کیش کیا اور خوب کیا اور پھر وہیں کے ہو کر رہ گئے۔
احمدراہی کی شاعری میں زبردست جذباتی اپیل ہونے کے باوجود اس زمانے کے معروضی حالات میں جب کہ ملک سیاسی اور سماجی تبدیلیوں کی آماجگاہ بن گیا تھا بدقسمتی سے کسی بڑی جدید پنجابی تحریک کی بنیادیں فراہم نہ ہو سکیں اس کی وجہ شاید ہمارے پنجابی ادب کے پانیوں میں سکون تھا۔ حیرت ہوتی ہے کہ اس دور میں ان پر سکون پانیوں میں ’’ترنجن‘‘ اور ’’شام رنگی کُڑی‘‘ کے علاوہ ایک پتھر بھی نہ گرا۔ احمدراہی سے میری بہت سی یادیں وابستہ ہیں کبھی فرصت ملی تو انہیں ضرور قلم بند کروں گا ۔آج قوم کا یہ اثاثہ منوں مٹی کے نیچے پڑا زمانے کی قدر نا شناسی سے آزاد ہو چکا ہے۔ آج مجھے وارث شاہ یاد آ رہا ہے جس کے بول میرے ذہن کے بو ہے پر دستک دے رہے ہیں ’’بھلا موئے تے وچھڑے کون میلے‘‘ آج مجھے فیض یاد آرہا ہے ’’نہ مدعی نہ شہادت حساب پاک ہوا.... یہ خون خاک نشیناں تھا رزقِ خاک ہوا‘‘ آج مجھے امرتا پریتم یاد آرہی ہے ’’رُکھ چھڈ گئے تے چھانواں لے گئے‘‘ـ راہی یاد آ رہا ہے۔ ’’سن ونجلی دی مٹھڑی تان وے... زلفاں دی ٹھنڈی ٹھنڈی چھاں ڈھولنا... سُنجے دل والے بوہے اجے میں نہیں او ڈھوئے‘‘۔ جب تک پانچ دریا بہتے رہیں گےراہی کی یاد آتی رہے گی۔