• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ہر اخبار میں انٹرنیشنل نیوز کاایک صفحہ ہوتاہےجس پر مقامی لوگ کبھی توجہ ہی نہیں دیتے تھے۔ عالمی سیاست کی خبریں ہمارے ہاں بہت کم عوامی گفتگوکاحصہ رہیں لیکن اب تو ایسا لگتا ہے سارا ملک آئی آر(انٹرنیشنل ریلیشنز) کے بخار میں مبتلا ہے۔جن لوگوں کو کبھی ایران، امریکہ،یواے ای، قطر وغیرہ کا جغرافیہ تک نہیں معلوم تھا وہ بھی بہترین تجزیہ دے رہے ہیں۔ویلا بندہ بہت اچھا تجزیہ کارہوتاہے۔اب عوام کی اکثریت جانتی ہے کہ مڈل ایسٹ سے کیا مراد ہے؟ کون سا ملک کس کا ساتھ دے رہا ہے؟ امریکہ کے اڈے کہاں کہاں ہیں،آبنائے ہرمز کہاں ہے اورآئرن ڈوم کیاہوتاہے۔شوقین احباب سیاسی وی لاگز دیکھ دیکھ کر کام کی باتیں نوٹ کرتے ہیں پھر اُس میں اپنا لچ فرائی کرکے پیش کردیتے ہیں اورمحفل لوٹ لے جاتے ہیں۔آٹھویں جماعت میں ہمارے ایک انگریزی کے استاد تھے جنکی بڑی خواہش تھی کہ انکی کلاس انگریزی بولے لیکن ظاہری بات ہے کلاس اعلیٰ درجے کے نالائقوں پرمشتمل تھی۔ایسے میں انہوں نے ہمیں انگریزی کے دس الفاظ کارٹالگوایا اور کہنے لگے کہ موقع بے موقع ان کو استعمال کرتے رہا کرو تاکہ تمہاری جاہلیت پر پردہ پڑا رہے۔ان میں جوسب سے زیادہ لفظ طالبعلموں کے ہتھے چڑھا وہ تھا’Actually‘۔ جونہی ہم Actuallyکہہ کر بات شروع کرتے ایک دم سے ایسا لگتا جیسے خوداعتمادی سرسے پیروں تک بھر گئی ہے۔ دوسرالفظ تھا ’Really‘۔یہ بھی بڑا کام آیا۔جب کوئی بات پلے نہ پڑتی تو Reallyکہتے اور اعتمادکی خالی ٹینکی پھر سے بھر جاتی۔باقی الفاظ تو مجھے یاد نہیں لیکن You knowبڑی اچھی طرح یاد ہے۔ یہ بھی کسی جملے سے پہلے لگا کر مخاطب کی بوکی ڈاؤن کی جاسکتی ہے۔عالمی معاملات پربھی ایسے ہی تبصرے چل رہے ہیں۔آپ بھی یہ چند الفاظ یاد کرلیں اور تجزیہ کار بن جائیں۔الفاظ ملاحظہ ہوں۔ ایم او یو، لوکل آڈینز، وارزون،اسٹریٹ آف ہرمز،مڈٹرم الیکشن، نیونارمل، ابراہم اکارڈ، سینکشنزوغیرہ وغیرہ۔

٭ ٭ ٭

نیکیوں کا بھی ایک خمار ہوتاہے۔ ہمارے ایک کولیگ شمسی صاحب ہوا کرتے تھے جو اس خمار سے لبریزتھے۔ان کے سامنے اگرکوئی خاموش بیٹھاہوتا، یا بول رہاہوتا، یا کچھ کھا رہاہوتا...وہ ہرصورت اس میں کوئی نہ کوئی نقص نکال دیا کرتے تھے اور پھرسمجھاتے کہ اس چیز کا صحیح طریقہ کیا ہے۔لیکن اگر کوئی اُن کی کسی بات میں سے نقص نکالتاتوآگ بگولاہوجاتے ۔رفتہ رفتہ انہوں نے یہ تاثر قائم کردیا کہ اُنکی بات سے اختلاف بھی بہت بڑی توہین کے زمرے میں آتاہے۔دفترکے لوگ انہیں دیکھ کر کنی کترا جایا کرتے تھے۔اگروہ زبردستی کسی بات پر بولناشروع کرتے تو سب ان کی ہاں میں ہاں ملا کر معاملہ جلد ازجلد نمٹانے کی کوشش کرتے۔ بظاہر اس جان چھڑانے والی حرکت کا الٹا نتیجہ نکلا کہ وہ اور بھی شیر ہوگئے۔انہوں نے اسٹاف سے ان کے گھریلو معاملات بھی پوچھنے شروع کر دیے اور وہاں بھی اپنے فیصلے سنانے لگے۔ انہی دنوں دفتر میں ایک نوجوان سب ایڈیٹر نے ذمہ داری سنبھالی۔ کولیگ صاحب نے ایک دن ان کوبھی سمجھایاکہ چلنے، بیٹھنے اور کھاناکھانے کے کیا آداب ہوتے ہیں۔ نوجوان کے چہرے پر غصے کے آثار نمایاں ہوئے۔ ہم سب نے فوراً سمجھایا کہ بات اگنورکردوتاکہ کوئی بدمزگی پیدانہ ہو۔ لیکن وہ بھی الٹی کھوپڑی کا تھا۔ ایک دم سے شمسی صاحب کے سامنے آیا اور گھورکربولا’آپ کی میں نے پچاس ایسی باتیں نوٹ کی ہیں جو نہایت بیہودہ ہیں۔اگر دوبارہ آپ نے مجھے ٹھیک کرنے کی کوشش کی تو میں پہلے آپ کو ٹھیک کروں گا‘۔ یہ سنتے ہی شمسی صاحب سن ہوگئے۔پہلے توانہیں اپنے کانوں پر یقین نہ آیا، پھر غصے سے پوچھا’میری کون سی باتیں بیہودہ ہیں؟‘۔ نوجوان نے گہری سانس لی اور شروع ہوگیا’ایک توآپ صاف لباس نہیں پہنتے، دوسرے آپ کے ناخن بڑھے ہوئے ہیں، تیسرے آپ کھاناکھاتے ہوئے پچاکے مارتے ہیں،چوتھے چائے پیتے ہوئے آپ سڑکیاں لیتے ہیں، پانچویں آپ یہودیوں کی کمپنی کا پانی پیتے ہیں، چھٹے آپ کافروں کابنایا ہوا انٹرنیٹ استعمال کرتے ہیں، ساتویں آپ غیرمسلموں کی ایجادکردہ بجلی استعمال کرتے ہیں، آٹھویں .... ابھی اُس کی بات ادھوری تھی کہ شمسی صاحب غصے سے پھنکارتے ہوئے نکل گئے۔

٭ ٭ ٭

ہمارے ہاں آدھی بات سن کر پورا مطلب سمجھنے کی بیماری عام ہے۔ آپ کسی سے کہیں کہ فلاں ہسپتال کدھر ہے؟ توعین ممکن ہے وہ یہ جانے بغیر کہ آپ کو ہسپتال کیوں جانا ہے یہ ارشادفرمادے کہ ڈاکٹروں کو گولی ماریں حکمت آزمائیں۔ بعدمیں بے شک آپ کو بتانا پڑے کہ بھائی میں نے کسی کی عیادت کیلئے ہسپتال جانا ہے۔لوگ فوراً آپ کی بات بوجھنا چاہتے ہیں، یہ تاثر دینا چاہتے ہیں کہ وہ بہت ذہین ہیں اور پہلے سے ہی بھانپ لیتے ہیں کہ اگلا کیا کہنے والا ہے۔آپ محفل میں کوئی لطیفہ سنارہے ہوتے ہیں اورپتاچلتا ہے کہ وہاں کوئی صاحب ایسے بھی ہیں جنہوں نے یہ لطیفہ سن رکھا ہے۔وہ پہلی فرصت میں آپ کے لطیفے کی آخری لائن فوراً چیخ کربیان کردیں گے ا ورآپ ہونقوں کی طرح دیکھتے رہ جائیں گے کہ اب میں کیا سناؤں۔ایسے لوگوں کے اندرایک ہیجان برپاہوتاہے، ان کا بس نہیں چلتاکہ محفل میں کوئی اوربات کرے اور لوگ اس کی طرف متوجہ ہوں۔یہ خودشمع محفل بننا چاہتے ہیں خواہ اس کیلئے خود پرچائے ہی کیوں نہ گرالیں۔جلد بازی میں مبتلایہ لوگ کسی کی پوری بات سننے کاانتظاربرداشت ہی نہیں کر پاتے، یہ ہربات میں اپناجملہ گھسیڑ دیتے ہیں تاکہ ثابت کرسکیں کہ وہ بھی پوری طرح حالات سے آگاہ ہیں۔یہ کسی محفل میں سپیس سائنس کی بات سن رہے ہوں تو جلدی سے ’جیمز ویب‘ کا حوالہ دے دیتے ہیں۔ اس سے زیادہ انہیں کچھ نہیں پتاہوتا لیکن انہیں تسلی ہوجاتی ہے کہ وہ خلائی گفتگومیں بھی شریک ہیں۔

تازہ ترین