اس دنیائے رنگ و بو کا نظام اب ڈھیلا ڈھالا ہی سہی چلتا رہے گا، جب تک اسکے باسی اللہ کی راہ میں اپنے وسائل قربان کرتے رہیں گے، اسکی راہ میں جانوں کا نذرانہ پیش کرتے رہیں گے، شہادت کا رُتبہ حاصل کرتے رہیں گے، یقیناً خالق حقیقی کو نہ وسائل کی قربانی کی ضرورت اور نہ مخلوق کی جانوں کی شہادتوں کی ، وہ بے نیاز ہے۔ جب ہم اللہ کی راہ کا ذکرتے ہیں تو اس سے مراد ٹھکرائی ہوئی، وسائل سے محروم، مفلس، معذور، غیرمحفوظ مخلوق یا جہالت و گمراہی میں بھٹکی ہوئی انسانیت کی مدد اور خدمت ہے۔ جن لوگوں کے پاس صلاحیتیں، وقت اور دیگر وسائل ہیں، کچھ حصہ کے استعمال سے اگر وہ اس درماندہ مخلوق کی خدمت کرتے ہیں، تو یہی اللہ کی راہ ہے، کیوں کہ وہ اسکی رضا کیلئے اس کے نظام کو استحکام مہیا کرتے ہیں۔ اس راہ میں جانوں کا نذرانہ پیش کرنا قربانیوں کی Superlative ڈگری ہے۔ قربانیوں کی منطقی انتہا ہے کہ انسان جب اللہ کی محبت میں وارفتگی کی حدوں کو چھوتا ہے تو پھر عہدہ، وقت اور وسائل کو پس انداز کرنے کا خیال بھی جھٹک دیتا ہے اور اسکی راہ میں بیک وقت سب صلاحیتوں سے رضاکارانہ طور پر دستبردار ہو جاتا ہے اور جان قربان کر دیتا ہے۔
اللہ کی راہ میں زندہ مخلوق کی بھلائی کیلئے، آئندہ آنے والی نسلوں کیلئے، اسلئے ہمیں گروہی تعصبات اور عارضی سیاسی مخالفتوں سے بے نیاز ہو کر اپنی جغرافیائی، نظریاتی اور ایمانی سرحدوں کی حفاظت کرنے والوں کی قربانیوں و شہادتوں کا ادراک کرنا چاہئے، ان کی ستائش کا اہتمام کرنا چاہئے تاکہ قربانیوں کا سلسلہ جاری رہے۔ نواسۂ رسول حضرت امام حسین ؓاور آپ کے خانوادہ کی شہادت بھی ان سلسلہ ہائے قربانی و شہادت کی انتہا ہے کہ آپ نے دین اسلام کے تحفظ کیلئے اور مظلوم اُمت کو ظالم حکمرانوں کے تسلط سے بچانےکیلئے اپنے 72 ساتھیوں کی ہمراہی میں جانوں کا نذرانہ پیش کر دیا لیکن کسی مصلحت اور عہدے کی پیشکش اور جان کی امان کی پروا نہ کی۔
حضرت امام حسینؓ نے اپنے ناناﷺکے دین اور انکے دیئے ہوئے نظامِ حکومت کے تحفظ کیلئے جانیں جانِ آفرین کے سپرد کر دیں۔ حضرت امام حسینؓ نے ابتداء میں ہی واضح کر دیا تھا کہ ان کا مشن حق اپنے ذاتی اقتدار کے حصول کیلئے نہیں، بلکہ اپنے ناناﷺکے دین کے تحفظ فاسق و فاجر شخص سے اُمت کا بچائو اور غیرمنصفانہ اقتدار کا خاتمہ پیش نظر تھا۔ مدینہ سے روانگی سے قبل آپ نے منیٰ کے مقام پر علماء سے اپنے خطاب کے دوران کسی خواہش کے حصول کیلئے اقتدار کی تمنا نہ کی۔ آپؓنے علمائے وقت کے رویوں کی بھی مذمت کی جو یزیدی اقتدار بارے مصلحت کا شکار تھے اور خاموشی اختیار کی ہوئی تھی۔ حضرت محمدﷺنے اپنی حیات میں ہی حکمرانی کا ایسا نظام وضع کر دیا تھا جو مشاورت پر مبنی تھا جس کی بنیاد ’’مخصوص فرائض کیلئے مخصوص اہلیت‘‘ پر مبنی تھی۔
ان اہلیتوں اور قابلیتوں کی جانچ اہل الرائے کی مجلس شوریٰ کرتی، بعدازاں اس پر سبھی حاضر غیرحاضر صاد کرتے اور قیادت کی وفاداری کا بیعت کے ذریعے اقرار کرتے۔ یہ ایسا نظام ہے جس میں خونی رشتوں کی نسبتیں، گروہی وفاداریوں کو نظرانداز کر دیا جاتا ہے۔ ایسے انتخاب میں نہ ہی ’’آسمانی بخششوں‘‘ (Divine Right) کا کوئی تصور موجود ہوتاہے۔ اسلام واضح طور پر اس دقیانوسی اور جاہلانہ تصور کی مخالفت کرتا ہے کہ حکومتی یا عوامی قیادت یا عہدہ کوئی موروثی حق ہوتا ہے، جو اعلیٰ اشرافیہ کے ہاں پیدا ہونے سے ملتا ہے۔ آنحضرت ﷺکی تعلیمات کے مطابق عوامی اور حکومتی قیادت لوگوں کی امانت (Public Trust) ہوتی ہے۔ یہ کوئی جاگیر یا مادی ملکیت نہیں ، جسے آسانی کے ساتھ خاندانی وارثوں کو منتقل کر دیا جائے۔ آپؐ کا ارشادِ گرامی ہے کہ انسانوں میں ہر کوئی کسی نہ کسی رعایا کا انچارج ہے، نگہبان ہے، جس کا اس سے حساب لیا جائیگا۔ کوئی بھی ناقابل مواخذہ نہیں ہے۔
اُمور مملکت کے بین الاقوامی ماہرین اور اسلامی دنیا کے نمایاں علماء کے نزدیک یزید حکومت کی قانونی حیثیت زیرو تھی، کیوں کہ اس نے معروف طریقۂ کار یعنی شوریٰ سے فیصلہ اور بعدازاں بیعت لینے کی بجائے محض اپنی نامزدگی کے بل بوتے پر اقتدار پر قبضہ کر لیا۔ ان علماء کے نقطہ نظر میں یہ اقتدار غاصبانہ تھا۔ درحقیقت یزید نے اپنے مابعد اقدامات سے خود کو ظالم، جابر، فاسق اور میرٹ سے منحرف ثابت کر دیا۔ جب اس نے غصہ کی آگ میں اپنے لشکریوں، سپہ سالاروں کو امام حسینؓاور ان کے خاندان کی وحشیانہ خون ریزی کی ترغیب دی۔
دنیا کو بیدار تو ہونے لینے دو
ہر قوم پکارے گی ہمارے ہیں حسین
صفحہ مضمون پر یہ شعر منتقل کر رہا تھا، تو معاً لاشعور میں خیال آ گیا یا شاید یہ پھر ہاتف غیبی کی آواز تھی کہ باقی دنیا کی اکثریت نواسۂ رسولؐ کی قربانیوں سے عرصہ دراز سے متاثر ہے۔ انکے ساتھ اس وقت سے اپنائیت کا اظہار کر رہی ہے۔ جب سے ان قوموں نے اُمورِ مملکت کیلئے خاندانی حکمرانیوں اور بادشاہتوں سے برأت کا اظہار کیا ہے اور جمہوریت کا فلسفہ اپنایا ہے۔ امام حسین ؓسے اب خود مسلمان اپنی نسبت اور وفائوں کا ثبوت پیش کریں۔ ان شہادتوں پر خود ساختہ اختلافات سے کب احتراز کریں گے؟۔ کب وہ شہیدانِ کربلا کی قربانیوں کے بنیادی مقاصد کا ادراک کریں گے اور اپنے اُمورِ مملکت کو درست کریں گے۔