کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی مختلف تاجر تنظیموں کے اشتراک سے قائم ہوئی۔ کمیٹی نے بجلی اور آٹے پر سبسڈی کے مطالبات پر مئی 2024، اکتوبر 2025 اور اب 9 جون 2026 کو ہڑتال کی۔ ان ہڑتالوں میں پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپیں ہوئیں جن میں دونوں جانب کے جانی نقصانات ہوئے اور 100 سے زائد لوگ زخمی بھی ہوئے۔ البتہ حالیہ 9 جون کی ہڑتال کے حوالے سے بہت سی متضاد خبریں چل رہی ہیں۔ راولاکوٹ سی ایم ایچ پر مسلح جتھوں کا دہشت گردانہ حملہ، مریضوں کو زبردستی نکالنا، ایک پولیس اہلکار سمیت چار سیکورٹی اہلکار شہید ہوگئے جبکہ کمیٹی کے مطابق مظاہرین کی بھی ہلاکتیں ہوئیں جن کی لاشیں دی نہیں جا رہیں۔ ان دعووں کے پیچھے ہلاک شدگان کے نام، تصاویر یا کسی قسم کے دستاویزی شناختی ثبوت مہیا نہیں کئے گئے ہیں ۔جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ محض انتشار پھیلانے کی غرض سے انتظامیہ پر جھوٹے الزامات لگائے جا رہے ہیں۔ اسی طرح مغربی میڈیا میں بی بی سی کی جانب سے ایک انتہائی جانبدار ،انتشار پھیلانے کی خاطر ایک لغو رپورٹ چلائی گئی جس میں راولاکوٹ میں اشیاء خوردونوش اور ایندھن کی عدم دستیابی، دوائیوں اور ضروریات زندگی کی قلت کے حوالے سے حکومتِ وقت کو ذمہ دار ٹھہرایا گیا ہے۔ تاہم اس کے برعکس عوامی ایکشن کمیٹی نے ہڑتال کے اعلان کے ساتھ ہڑتالیوں سے ایک ماہ کا راشن لانے کی ہدایت کی تھی اور نعرہ لگایا تھا کہ "بند مطلب بند، ہر چیز بند" اور خود ہی راولاکوٹ کے تمام داخلی، خارجی راستے بند کر کے دھرنا دیا تھا۔ اب جب شدید قلت نے راولا کوٹ میں ڈیرے ڈال دیے ہیں تو کمیٹی کے شر پسند تنقید سے بچنے کے لئے حکومت اور انتظامیہ پر الزامات لگا رہے ہیں۔ عوامی حقوق کی آڑ میں کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی معاشرے میں عدم استحکام، نفرت، بد اعتمادی، بدگمانی اور تقسیم در تقسیم کو فروغ دے رہی ہے۔ عوامی حقوق کی داعی یہ کالعدم کمیٹی اپنے گمراہ کن بیانیے اور جھوٹے الزامات سے عوام میں ریاستی اداروں اور ریاست مخالف جذبات ابھارنے اور ریاست پر عوامی اعتماد کم کرنے کا باعث بن رہی ہے۔ گرمیوں کے سیزن میں کشمیر میں سیاحوں کی آمد و رفت مقامی لوگوں کے سالانہ روزگار کا ذریعہ ہوتا ہے۔عین اس وقت ایسے بے مقصد مطالبات سے شہروں کے راستے بند کر کے سیاحت کا راستہ روکنا کشمیریوں کو اربوں روپے کے نقصان پہنچانے کا باعث ہے۔ البتہ یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ جو لوگ پچھلے تین ہفتے سے دھرنا دیے بیٹھے ہیں ان کے گھروں کی دال روٹی، گھریلو ذمہ داریاں اور روزمرہ کے اخراجات کون اور کہاں سے ادا کر رہا ہے؟ عوام کے بنیادی حقوق کے نام پر اکٹھے ہونے والے کمیٹی اراکین اچانک بڑی بڑی آئینی ترامیم اور ریاست کے معاملات طے کرنے والے کیسے بن بیٹھے؟ یہ تاجر حضرات کاروباری معاملات اور ان سے متعلق مسائل پر احتجاج کرتے کرتے خود ہی ماہر قانون اور اعلیٰ عدلیہ بننے پر کیوں بضد ہیں؟
اگر کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی مطالبات پر حق بجانب ہے اور عوامی خواہشات کے تابع کسی قانون اور اصول سے ماوراء چند ہزار افراد کی خواہش پر ریاستی معاملات نمٹائے جاتے ہیں تو پھر مولانا فضل اللہ المشہور مولانا ریڈیو کا کیا قصور تھا کہ 2007 میں انہوں نے غیر قانونی ریڈیو اسٹیشن بنا کر اس سے دینی خطبے جاری کیے ۔ لوگوں کو شریعت کی مخصوص تشریح پر عمل کرنے کے لیے مجبور کیا جاتا، لڑکیوں کی تعلیم کی مخالفت کی جاتی بلکہ وہ ملالہ یوسف زئی پر حملے کے ذمہ دار بھی ٹھہرائے گئے تھے۔ کالعدم تحریکِ طالبان پاکستان کے 2013 میں سربراہ بنے اور 2018 میں افغانستان کی صوبہ کنڑ میں امریکی ہوائی حملے میں مارے گئے۔ آج آزاد کشمیر کے شر پسند اسی غلط فہمی میں ہیں کہ وہ اپنی حکومت یا حکومتِ پاکستان کو خود مختاری کے نام پر بلیک میل کر کے مطلوبہ مقاصد حاصل کر لیں گے۔ انہیں معلوم ہونا چاہیے کہ مولانا فضل اللہ کی سوات شورش کے آغاز میں حکومتِ پاکستان نے بھی ایسے ہی مذاکرات، رعایتوں اور امن معاہدوں کے ذریعے معاملات سلجھانے کی کوشش کی تھی۔ حتیٰ کہ مولانا فضل اللہ کے سسر صوفی محمد کو رہا کروا کر مذاکرات کے ذریعے ہتھیار ڈلوانے کی بھی کوشش کی گئی۔ 2009 میں حکومت نے" نظام عدل ریگولیشن" بھی مالاکنڈ ڈویژن میں لاگو کیا جو عسکریت پسندوں کے بنیادی مطالبے نفاذ شریعت کے عین مطابق تھا۔فوج کی تعداد کم کی گئی، قیدیوں کے تبادلے ہوئے، ریاست نے کیا کچھ نہیں کیا ۔ بدلے میں عسکریت پسندوں نے ہتھیار ڈالنے ، تربیتی کیمپ بند کرنے اور ریاست کی رٹ ماننا تھی۔ دونوں جانب سے جنگ بندی ہوگئی لیکن عسکریت پسندوں نے جنگ بندی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنی رسائی دوسرے ضلعوں تک کر لی اور اپنی پوزیشن پہلے سے مضبوط کی نتیجتاً آپریشن" راہِ راست "شروع ہوا۔ بہت سوں کے خیال میں عسکریت پسندوں سے مذاکرات کرنا، انہیں میز پر لانے کی کوشش کرنا یا ان کے مطالبات ماننا حکومت کی غلطی تھی۔ کامیاب آپریشن کے بعد ٹی ٹی پی کا سوات سے بڑی حد تک صفایا ہو گیا اور سوات کے 25 لاکھ عوام نے سکھ کا سانس لیا اور واپس اپنے گھروں میں آباد ہوئے۔
ماضی میں ایسی کئی مثالیں دی جا سکتی ہیں جب ایک خاص مکتبہء فکر کے لوگوں نے زبردستی ریاست کو اپنی خواہشات کے تابع لانے کی کوشش کی اور بری طرح ناکام ہوا۔ ریاست سے ٹکر لینے کے لیے مضبوط اور جذباتی توجیہ ہونا چاہیے جیسے مقبوضہ کشمیر کے بہادر اور جری کشمیریوں کی پاکستان سے جذباتی اور دلی وابستگی ۔ اُدھر کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی کو تو مقبوضہ کے مہاجروں کی 12 سیٹیں اس قدر تکلیف دے رہی ہیں کہ انہوں نے پورے آزاد کشمیر کو یرغمال بنا ڈالا ہے۔ کشمیری سادہ اور سچے لوگ ہیں،اندھا دھند اعتماد کرتے ہیں، بڑے دل والے ہیں! غلط لوگوں کے پیچھے کچھ دور تو چل سکتے ہیں لیکن حقیقت کا ادراک ہو جائے تو پل بھر میں راستہ بھی تبدیل کر لیں گے۔ یہ کیسی کمیٹی ہے جو مقبوضہ کے مظالم پر تو اُف بھی نہیں کرتی لیکن آزاد کشمیر کے سادہ لوح عوام کو بلا جواز معاشی اور ذہنی مشکلات میں دھکیل کر تماشہ دیکھ رہی ہے۔ جھوٹے پروپیگنڈے نے کبھی تو بے نقاب ہونا ہے، کبھی تو ان ہڑتالوں کے پیچھے کی ہندوستانی منی ٹریل عیاں ہوگی۔ کبھی تو ان ظالموں کا حساب ہوگا جنہیں مقبوضہ کے کشمیریوں کا درد نہیں لیکن مہاجرین کی 12 سیٹیں کاٹ رہی ہیں۔ دراصل وہ مقبوضہ کے کشمیریوں کو ہم سے بالا بالا پیغام دینا چاہتے ہیں کہ اُدھر تم، اِدھر ہم !
؎ہے ذوقِ تجلی بھی اسی خاک میں پنہاں
غافل! تو نرا صاحبِ ادراک نہیں ہے