آزاد جموں و کشمیر کی سیاست ایک بار پھر ایسے موڑ پر آ کھڑی ہوئی ہے جہاں مقامی سیاسی کشمکش کے اثرات وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کی سیاست میں بھی محسوس کیے جا رہے ہیں۔ بظاہر یہ معاملہ ایک خطے کی حکومت، کالعدم کمیٹی اور ریاستی اداروں کے درمیان اختلافات کا نظر آتا ہے، لیکن اگر حالیہ سیاسی واقعات، قومی اسمبلی کے اندر ہونے والی گرما گرم تقاریر، بلاول بھٹو زرداری کی تنقید، خواجہ آصف کے بیانات، مولانا فضل الرحمان اور وزیر اعظم شہباز شریف کے درمیان پس پردہ رابطوں اور اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی کی جارحانہ سیاست کو ایک ہی فریم میں رکھ کر دیکھا جائے تو ایک بڑی سیاسی تصویر سامنے آتی ہے۔یہ تصویر صرف آزاد کشمیر تک محدود نہیں بلکہ اسلام آباد کی اقتدار کی سیاست، اتحادی حکومت کے مستقبل اور سیاسی جماعتوں کے تعلقات اور آنے والے سیاسی منظرنامے سے جڑی ہوئی ہے۔قومی اسمبلی میں پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کا حالیہ خطاب اسی تناظر میں غیر معمولی اہمیت اختیار کر گیا۔ بلاول بھٹو نے نہ صرف وفاقی وزراءکو تنقید کا نشانہ بنایا بلکہ خاص طور پر وزیر دفاع خواجہ آصف کے خلاف سخت لہجہ اختیار کیا۔ بلاول بھٹو کا غصہ محض کسی ایک بیان یا اختلاف کا نتیجہ نہیں تھا بلکہ اس کے پس منظر میں اتحادی حکومت کے اندر بڑھتی ہوئی بے چینی موجود تھی۔پیپلز پارٹی بظاہر وفاقی حکومت کا حصہ نہیں لیکن حکومت کی پارلیمانی بقا میں اس کا کردار انتہائی اہم ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب بلاول بھٹو قومی اسمبلی میں کھڑے ہو کر حکومت کے وزراءپر تنقید کرتے ہیں تو اس کے سیاسی معنی عام اختلاف سے کہیں زیادہ ہوتے ہیں۔ ان کے خطاب سے یہ تاثر پیدا ہوا کہ پیپلز پارٹی اپنے سیاسی وزن کا احساس دلانا چاہتی ہے اور اتحادی سیاست میں اپنے کردار کو نظرانداز نہیں ہونے دینا چاہتی۔اسی دوران خواجہ آصف بھی مسلسل خبروں میں ہیں۔ انہوں نے ایک ایسا بیان دیا جس نے پورے سیاسی ماحول کو ہلا کر رکھ دیا۔ خواجہ آصف پاکستان کے نظام کو "ہائبرڈ سسٹم" قرار دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ اس سسٹم کو چلنے دینا چاہئے۔ جب اپوزیشن یہی بات کرتی ہے تو حکومت اس کی مخالفت کرتی ہے، لیکن جب خود حکومت کا ایک سینئر وزیر یہی اصطلاح استعمال کرے تو ایسے سوالات پیدا ہونا فطری ہیںکہ کیا خواجہ آصف محض زمینی حقائق بیان کر رہے تھے؟ یاوہ حکومت کی مشکلات کا اعتراف کر رہے تھے؟یا پھر وہ کسی بڑے کا سیاسی پیغام پہنچا رہے تھے؟یہ وہ سوالات ہیں جن کے جواب سیاسی حلقے تلاش کررہے ہیں۔ اطلاعات یہ ہیں کہ حکومت مستقبل کے سیاسی چیلنجوں سے نمٹنے کیلئے مولانا فضل الرحمان کی حمایت یا کم از کم غیر جانبداری حاصل کرنا چاہتی ہے۔ دوسری جانب مولانا بھی اپنی سیاسی طاقت کو منوانے اور مستقبل کی سیاسی بساط میں مو ثر کردار حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ شہباز شریف اور مولانا فضل الرحمان کے درمیان ہونے والی ملاقاتوں کو محض خیرسگالی قرار دینا شاید حقیقت کا مکمل احاطہ نہیں کرتا۔اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی بھی مسلسل حکومت اور پارلیمانی قیادت پر تنقید کر رہے ہیں۔ انکے بیانات میں اس بات کا واضح اشارہ موجود ہے کہ وہ پارلیمانی عمل کے بارے میں شدید تحفظات رکھتے ہیں۔ انکے مطابق اگر پارلیمنٹ محض رسمی ادارہ بن جائے تو جمہوری نظام اپنی روح کھو دیتا ہے۔اسی تناظر میں ”ایک صفحے کی کہانی“ بھی دوبارہ سیاسی بحث کا حصہ بن گئی ہے۔ کبھی حکومت اور مقتدرہ کے درمیان ہم آہنگی کو ایک صفحہ کہا گیا، کبھی سیاسی جماعتوں کے درمیان اتفاق رائے کو۔ لیکن آج صورت حال مختلف نظر آتی ہے۔بعض سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر واقعی سب ایک صفحے پر ہوتے تو قومی اسمبلی میں اتحادی جماعتوں کے درمیان اس قدر تلخی نہ ہوتی، بلاول بھٹو اس انداز میں حکومتی وزراءکو تنقید کا نشانہ نہ بناتے، مولانا فضل الرحمان حکومت سے فاصلے برقرار نہ رکھتے اور اپوزیشن کی جانب سے مسلسل سخت بیانات سامنے نہ آتے۔اس کا مطلب یہ نہیں کہ ریاستی نظام کسی بڑے تصادم کی طرف جا رہا ہے، لیکن اتنا ضرور ہے کہ سیاسی صف بندیوں میں تبدیلی کے آثار نمایاں ہو رہے ہیں۔آزاد کشمیر کے بحران کو بھی اسی بڑی تصویر کا حصہ سمجھنا چاہیے۔ ماضی میں بھی آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کی سیاست وفاقی سیاست پر اثر انداز ہوتی ہے۔ اگر اسلام آباد میں سیاسی درجہ حرارت بڑھ رہا ہو تو اس کے اثرات ان خطوں میں زیادہ تیزی سے محسوس ہوتے ہیں۔آج آزاد کشمیر میں جو سیاسی کشیدگی نظر آ رہی ہے، وہ دراصل وفاقی سیاست میں موجود بے یقینی، اتحادی سیاست کے تضادات اور مستقبل کی سیاسی حکمت عملیوں کی جھلک بھی ہو سکتی ہے۔یہاں ایک اور اہم سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ کیا موجودہ بحران حکومت کیلئے خطرہ بن سکتا ہے؟فی الحال اس کا جواب نفی میں نظر آتا ہے۔ مسلم لیگ (ن) کی حکومت کو فوری طور پر کسی بڑے پارلیمانی خطرے کا سامنا نہیں۔ پیپلز پارٹی بھی حکومت گرانے کے موڈ میں دکھائی نہیں دیتی اور مولانا فضل الرحمان بھی فوری محاذ آرائی کے حق میں نظر نہیں آتے۔تاہم سیاسی استحکام اور سیاسی سکون دو الگ چیزیں ہیں۔حکومت شاید اپنی آئینی مدت پوری کر لے، لیکن اگر اتحادیوں کے تحفظات بڑھتے رہے، اپوزیشن کا بیانیہ مضبوط ہوتا گیا اور معاشی مشکلات برقرار رہیں تو سیاسی دبائو میں اضافہ یقینی ہے۔