• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ہمارے ہاں عاشق کیلئے میٹرک میں فیل ہونا بہت ضروری ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ جو بھی عاشق میٹرک کے امتحان میں کامیاب ہوا عشق میں فیل قرار پایا۔عاشق کو دنیا سے کیا مطلب؟ جوگی کا نگر میں ٹھکانہ کیا؟؟؟ یہ ٹھیک ہے کہ عاشقی صبر طلب ہوتی ہے لیکن برصغیر کا عاشق بہت بے صبرا واقع ہوا ہے۔ جو بھی عاشق محبوب کو اس قسم کے شعر سنائے کہ’’محبت بندگی ہے اس میں تن کا قرب مت مانگو ‘‘سمجھ جائیں کہ بکواس کر رہا ہے اور کوئی سنہری موقع ہاتھ سے نہیں جانے دے گا۔پرانے وقتوں میں

عاشق اپنے محبوب کے عشق میں ڈوب کر دیوانے ہوجایا کرتے تھےمجنوں بن جاتے تھے، کھانا پینا بھول جاتے تھے لیکن آج کا عاشق محبوب کا التفات حاصل کرنے کیلئے بیوٹی پارلر جاتاہے فیشل کرواتاہے۔ ایسے عاشقوں کو دیکھ کر اکثر احساس ہوتاہے کہ یہ عاشق نہ ہوتے تو یقینا ً معشوق ہوتے۔کتنی عجیب بات ہے کہ عاشق ہمیشہ کوئی مرد ہی ہوتاہےمجھے نہیں معلوم کہ عاشق کی مونث کیا ہے۔ ویسے بھی لڑکیوں کو عاشق کہنا مساعی جمیلہ کی توہین ہے کیونکہ عاشق کے لفظ سے مونچھیں جھلکتی ہیں’ یہ صرف مردوں پر ہی جچتا ہے‘۔ لڑکیاں عموماً عشق وغیرہ نہیں فرماتیں کیونکہ انہیں پتا ہوتاہے کہ وہ جس طرف بھی انگلی اٹھائیں گی پروانے قطار اندر قطاردوڑے چلے آئیں گے۔ آپ نے اکثر ہینڈ فری کانوں سے لگائے ایسے لڑکے دیکھے ہوں گے جو رات کو محلے کی گلیوں میں گھومتے ہوئے خود کلامی کرتے اور مسکراتے نظر آتے ہیں۔ یہ انجام سے بے خبر وہ عاشق ہوتے ہیں جنہیں یقین ہوتاہے کہ شکیلہ ان پر مر مٹی ہے۔ یہ اپنا نیٹ ورک بھی شکیلہ کے نیٹ ورک پر لے آتے ہیں اور پھر’گھنٹہ پیکیج ‘کا لطف اٹھاتے ہیں۔

٭ ٭ ٭

رشید صاحب بہت اداس لگ رہے تھے۔میں نے وجہ پوچھی تو پھٹ پڑے ’’میری زندگی سے ہر وہ بندہ نکل چکا ہے جس نے میرے احسانوں کی کوئی قدر نہیں کی۔ماموں شبیر،خالو ریحان، ضمیرچاچا سب مطلبی نکلے۔ میرے آدھے سے زیادہ محلے دار بھی مطلبی ہیں، دوستوں کی کثیر تعداد بے حس ہے ۔ یہ سب وہ لوگ ہیں جو پلک جھپکتے میں میری زندگی آسان کر سکتے تھے لیکن میں نے جب بھی ان سے مدد مانگی ، انہوں نے کوئی نہ کوئی بہانا کر دیا۔ نہ کسی نے مجھے نیا فریج لے کر دیا، نہ آئی فون کے پیسے دیے،نہ اپنے پاس امریکہ بلوایا،نہ گھر میں اے سی لگوا کر دیااور نہ میرا بجلی کا بل بھرا۔ آج سوچتا ہوں تو احساس ہوتاہے کہ میں خوامخواہ ان لوگوں کی شادیوں میں شریک ہوتا رہا ،ان کے بچوں کو ٹافیاں دیتا رہا،ان کے پیاروں کے جنازوں کو کندھادیتا رہا، ان کے ساتھ تصویریں بنواتا رہا ۔میں تو ان لوگوں میں سے ہوں جو احسان کرکے بھول جاتے ہیں نیکی دریا میں ڈال دیتے ہیں لیکن یہ لوگ صرف ڈنگ ٹپاؤ ہیں، ان کے بینک اکاؤنٹس بھرے ہوئے ہیںدولت کی ریل پیل ہے لیکن کسی مستحق کی مدد کرنا حرام سمجھتے ہیں۔ درحقیقت یہی وہ لوگ ہیں جن کی وجہ سے معاشرہ تباہ ہورہا ہے اورلوگ خودکشیاں کر رہے ہیں۔آج اگر میرا کوئی دوست نہیں تو اس میں قصورسراسر میرے دوستوں کا ہی ہے۔میں نے تو کبھی کوئی غلط بات نہیں کی، کسی کا برا نہیں چاہا،کسی سے نفرت نہیں کی۔لیکن یہ وہ لوگ ہیں جو چاہتے ہیں کہ دوسرے ہی ان کیلئے سب کچھ کریں یہ کچھ نہ کریں۔ یہ سب لوگ میرے کسی کام کے نہیں لہٰذا میں نے بھی سوچ لیا ہے کہ میں بھی آئندہ انکے کسی کام نہیں آؤں گا ۔ میں چاہوں تو ان کیلئے ایسی بددعا کروں کہ لگ پتا جائے لیکن میں ایسا نہیں کروں گا ، میں تو بس اتنا ہی کہوں گا کہ یہ کبھی سکون کی نیند نہ سو سکیں، ان کی گاڑیوں میں کیڑے پڑیں،یہ جس جہاز میں بیٹھیں اوپر جاکر اس کا پٹرول ختم ہوجائے‘‘۔میں نے بلند آواز میں کہا آمین ۔

٭ ٭ ٭

برصغیرمیں پائے جانے والے گھر دامادوں کی اکثریت خاموش اقلیت میں بدل چکی ہے۔ یہ ساری زندگی اسی انتظار میں گزارتے ہیں کہ کب سسر صاحب خالق حقیقی کو پیارے ہوں اور کب یہ گھر باقاعدہ ان کی بیگم کے حصے میں آئے تاہم جب یہ مبارک ساعت آتی ہے تو پتا چلتاہے کہ سارا گھر چھ سالے لے اُڑے ہیں اور بیوی کے حصے چھت کی ’ممٹی ‘آئی ہے۔جو لوگ یہ ریلیٹی شوپرفارم کر رہے ہیں ان کو میر ا سیلوٹ لیکن مجھے سمجھ نہیں آتی کہ گھر داماد کو عزت کی نگاہ سے کیوں نہیں دیکھا جاتا۔یہ ٹھیک ہے کہ گھر داماد کھانا بہت اچھا بناتے ہیں، صفائی بہت اچھی کرتے ہیں،برتن بہت اچھے دھوتے ہیں، گاڑی بہت اچھی چمکاتے ہیں، لوڈشیڈنگ کی صورت میں پنکھا بڑا اچھا جھلتے ہیں،بچوں کو نہلاتے ہیں،گلی میں پانی کا پائپ پکڑ کر بہت اچھا چھڑکاؤ کرتے ہیں،واشنگ مشین بڑی اچھی ٹھیک کرتے ہیں، لیکن کیا اس کا یہ مطلب ہے کہ انہیں کوئی احترام ہی نہ دیا جائے؟؟؟ بہت غلط بات ہے! گھر داماد تو رحمت ہوتے ہیں، ان کے ہوتے ہوئے کبھی سبزی لینے نہیں جانا پڑتا، اضافی ڈرائیور نہیں رکھنا پڑتا، روزانہ دودھ لینے کیلئے صبح صبح اٹھنا نہیں پڑتا،زنگر برگر اور پیزا وغیرہ منگوانے کیلئے ہوم ڈلیوری پر فون نہیں کرنا پڑتا،گھر کا بھاری سامان اٹھانے کیلئے مزدور نہیں بلانا پڑتا لیکن پھر بھی اِن کو حقیر سمجھا جاتاہے کیوں آخر کیوں؟؟؟یہ ہے میرا سوال اور مجھے اس کا جواب چاہیے ۔ ابھی اور اسی وقت…!!!

تازہ ترین