پاکستانی اداکارہ کنزا ہاشمی نے خواتین کی حفاظت اور اعتماد سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان میں خواتین کے خلاف بڑھتے ہوئے تشدد کے واقعات کے پیش نظر ہر خاتون کو یہ شعور ہونا چاہیے کہ وہ کس پر اعتماد کر رہی ہے۔
ایک انٹرویو کے دوران کنزا ہاشمی نے ذاتی تحفظ اور ممکنہ خطرات سے متعلق سوالات پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بعض اوقات قریبی افراد بھی محفوظ ثابت نہیں ہوتے۔
ان کے مطابق اکثر لوگ یہ نہیں جانتے کہ ایسے افراد جو انہیں سب سے زیادہ محفوظ محسوس کراتے ہیں، وہی ان کی جان کے لیے خطرہ بھی بن سکتے ہیں۔ اس لیے بہتر ہے کہ ہر کسی سے محتاط رہا جائے اور اپنی حفاظت خود کی جائے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اگر کسی بھی صورتحال میں معمولی سی تشویش محسوس ہو تو اسے نظر انداز کرنے کے بجائے اس پر توجہ دینی چاہیے۔ خواتین کی جبلت (instincts) عموماً درست ہوتی ہے۔
کنزا ہاشمی کے مطابق مسئلہ یہ ہے کہ خواتین کو اکثر خوف کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور اگر وہ آواز اٹھائیں تو انہیں منفی ردعمل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
اداکارہ نے کہا کہ اگر آپ بولیں تو لوگ آپ کے پیچھے پڑ جاتے ہیں اور اگر آپ کسی دوسری خاتون کا ساتھ دیں تو کہا جاتا ہے کہ آپ کے ساتھ بھی وہی ہونا چاہیے جو اس کے ساتھ ہوا۔ جب آپ روز ایسی خبریں دیکھتے ہیں تو خوف محسوس ہونا فطری ہے۔ ایسے ماحول میں رہتے ہوئے یہ کہنا کہ سب کچھ ٹھیک ہے، حقیقت پسندانہ نہیں۔
کنزا ہاشمی کے مطابق اس تناظر میں خوف کو کمزوری نہیں بلکہ احتیاط کے طور پر دیکھنا چاہیے۔ خوف محسوس کرنے اور محتاط رہنے میں کوئی برائی نہیں۔ ایسے معاشروں میں جہاں تشدد کے سنگین واقعات پیش آ رہے ہوں، وہاں لاپرواہی ممکن نہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ اگر آپ کسی انتہائی محفوظ ملک میں رہ رہے ہوں تو آپ بے فکری سے لوگوں سے مل سکتے ہیں، لیکن جہاں خواتین پر تیزاب پھینکنے اور زیادتی جیسے واقعات ہوتے ہوں، وہاں احتیاط ضروری ہے۔
واضح رہے کہ کنزا ہاشمی اس وقت ڈرامہ لیڈر میں رُباب کا کردار ادا کر رہی ہیں، جس میں وہ ایک مضبوط ارادوں والی طالبہ کے طور پر دکھائی گئی ہیں جو طبقاتی تقسیم کے ماحول میں جدوجہد کرتی ہے۔