• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ہمارے معاشرے کا ایک بڑا المیہ یہ ہے کہ جب بھی کوئی سنگین سانحہ پیش آتا ہے تو جہاں ایک طرف عوام فوری ٹرائل اور جلد از جلد ملزمان کو کیفرِ کردار تک پہنچانے کا مطالبہ کرتے ہیں، جو یقیناً بجا ہے۔ تاہم دوسری طرف ایسے مواقع پر بعض سماج دشمن عناصر انصاف کے تقاضوں سے ہٹ کر اپنے ذاتی مقاصد کیلئے سرگرم ہو جاتے ہیں۔ وہ ایسے دیانت دار اور فرض شناس افسران کو بھی تنقید کا نشانہ بناتے ہیں جو واقعے کے بعد شفاف تحقیقات اور انصاف کی فراہمی کیلئے سنجیدگی سے کام کر رہے ہوتے ہیں۔ اس طرزِ عمل سے نہ صرف انصاف کا عمل متاثر ہوتا ہے بلکہ ریاستی اداروں پر عوامی اعتماد بھی مجروح ہوتا ہے۔

گزشتہ دنوں چکوال میں ایک نہایت افسوسناک سانحہ پیش آیا، جس میں نو سالہ آسٹریلوی پاکستانی بچی ہانیہ احمد پولیس فائرنگ سے جاں بحق ہو گئی، جبکہ اس کے والد اور بھائی زخمی ہوئے۔ بعد ازاں دونوں زخمیوں کو راولپنڈی کے بینظیر بھٹو ہسپتال سے طبی امداد کے بعد ڈسچارج کر دیا گیا۔ اہلِ خانہ کے مطابق وہ صحت یابی کی جانب گامزن ہیں، لیکن ایک معصوم بچی کی جان کا نقصان ایسا صدمہ ہے جس کا ازالہ ممکن نہیں۔

اس واقعے نے صرف پاکستان ہی نہیں بلکہ آسٹریلیا میں بھی گہرا ردعمل پیدا کیا، کیونکہ ہانیہ احمد آسٹریلیا کے شہر پرتھ کی رہائشی تھی۔ آسٹریلیا کے مرکزی میڈیا نے اس سانحے کو نمایاں انداز میں رپورٹ کیا اور مختلف اخبارات و ٹی وی چینلز نے نہ صرف خبر دی بلکہ ادارتی تبصرے بھی شائع کیے۔

ABC News Australia نے نسبتاً حقائق پر مبنی رپورٹنگ کرتے ہوئے پاکستانی حکام کی جانب سے معذرت، ابتدائی تحقیقات، پولیس ضابطوں کی مبینہ خلاف ورزی اور متعلقہ اہلکار کے خلاف قتل کا مقدمہ درج ہونے کا ذکر کیا۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ ابتدائی شواہد کے مطابق گاڑی کے ٹائروں کو نشانہ بنانے کے بجائے براہِ راست فائرنگ کی گئی، جو قواعد کے منافی تھی۔

The Guardian Australia نے انسانی پہلو کو زیادہ نمایاں کیا۔ اس نے ہانیہ کے والدین کے دکھ، اہلِ خانہ کے مطالبۂ انصاف اور اس سوال کو اجاگر کیا کہ شناخت کی مکمل تصدیق کے بغیر فائرنگ کیوں کی گئی۔ اخبار نے لکھا کہ صرف معذرت کافی نہیں بلکہ ذمہ داروں کا احتساب بھی ضروری ہے۔

اسی طرح SBS News نے اس سانحے کو آسٹریلیا کی پاکستانی نژاد کمیونٹی کے تناظر میں پیش کیا۔ اس کی رپورٹ میں متاثرہ خاندان کے بیانات شامل کیے گئے اور اس بات پر زور دیا گیا کہ بیرونِ ملک موجود آسٹریلوی شہریوں کی سلامتی حکومت کی اہم ذمہ داری ہے۔ دیگر آسٹریلوی میڈیا نے بھی وزیر اعظم انتھونی البانیزی کے اس بیان کو نمایاں کیا کہ آسٹریلیا شفاف، غیر جانبدار اور مکمل تحقیقات کا خواہاں ہے۔

دلچسپ امر یہ ہے کہ آسٹریلوی میڈیا نے جہاں اس افسوسناک واقعے پر شدید تشویش ظاہر کی، وہیں پنجاب پولیس اور سی ٹی ڈی کی اعلیٰ قیادت کے فوری اقدامات کو بھی رپورٹ کیا۔ سی ٹی ڈی پنجاب کے سربراہ سہیل ظفر چٹھہ، ایس ایس پی احسن جہانگیر وٹو اور ڈی ایس پی ذوالفقار بازیز کی جانب سے متاثرہ خاندان سے ملاقات، تعزیت، معذرت، قبرستان جا کر دعا اور ذمہ دار اہلکار کے خلاف فوری کارروائی کا ذکر بھی نمایاں انداز میں کیا گیا۔اس بات کا بھی اعتراف کیا گیا کہ اس محکمہ کی گزشتہ کچھ عرصہ کی کارگردگی انتہائی تسلی بخش ہے خصوصی طور بچوں کے ساتھ زیادتی ، منشیات کی روک تھا م کے واقعات میںنمایاں کمی ہوئی ہے مگر اس محکمہ میں نچلی سطح پر بعض سفارشی ملازمین کی شکایات کے پیش نظر ان کی چھانٹی انتہائی ضروری ہے تاکہ آئندہ ایسے ناخوشگوار واقعات سے بچا جا سکے ۔

اسی طرح انسپکٹر جنرل پنجاب پولیس نے بھی کھلے دل سے اس واقعے پر افسوس کا اظہار کیا، معذرت کی اور اعتراف کیا کہ پولیس کے نچلے درجے کے اہلکاروں کی تربیت کو مزید مؤثر بنانے کی ضرورت ہے۔ اس عزم کا اظہار بھی کیا گیا کہ مستقبل میں ایسے افسوسناک واقعات کی روک تھام کے لیے تربیتی نظام کو مزید بہتر بنایا جائے گا۔

آسٹریلوی میڈیا کے مجموعی تبصروں سے یہ تاثر سامنے آیا کہ ہانیہ احمد کی موت ایک انتہائی افسوسناک اور قابلِ تحقیقات سانحہ ہے۔ پاکستانی حکام کی معذرت کو مثبت پیش رفت قرار دیا گیا، تاہم اس کیساتھ شفاف تحقیقات، ذمہ دار اہلکاروں کے احتساب اور پولیس کے طریقۂ کار میں اصلاحات پر زور دیا گیا۔ یہی کسی بھی مہذب معاشرے کا تقاضا ہے کہ غلطی کو تسلیم کیا جائے، ذمہ داروں کو قانون کے مطابق سزا دی جائے اور آئندہ ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔

یہ بھی حقیقت ہے کہ کسی ایک اہلکار کی غلطی کو پورے ادارے کی کارکردگی پر منطبق کرنا انصاف نہیں۔ اگر ادارے کی قیادت فوری کارروائی کرے، متاثرہ خاندان کے ساتھ اظہارِ ہمدردی کرے، معذرت کرے اور اصلاحِ احوال کا عملی عزم ظاہر کرے تو اسے بھی انصاف کے تقاضوں کے مطابق سراہا جانا چاہیے۔ یہی متوازن رویہ ریاستی اداروں پر عوامی اعتماد کو مضبوط کرتا ہے اور انصاف کے نظام کو مؤثر بناتا ہے۔

تازہ ترین