بھارت کی مشہور کاروباری شخصیت اور رئیلٹی شو اسٹار تانیہ متل نے انکشاف کیا ہے کہ 'بگ باس 19' کے تجربے نے انہیں اندر سے توڑ دیا تھا اور وہ دوبارہ کبھی رئیلٹی شوز کا حصہ نہیں بننا چاہتی تھیں۔
تانیہ نے کہا کہ مجھے محسوس ہوا کہ لوگ صرف میرے جذبات کا فائدہ اٹھا کر، مجھے بھڑکا کر اور ذلیل کر کے اپنے شوز کی ٹی آر پی بڑھانا چاہتے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ وہ بالکل ضدی ہو چکی تھیں، لیکن ان کی والدہ سنیتا متل نے انہیں ڈر کا سامنا کرنے کا حوصلہ دیا، جس کے بعد انہوں نے نئے رئیلٹی شو 'ماں ہے نا' کے لیے ہامی بھری۔
کاروباری شخصیت کا کہنا تھا کہ شو کے دوران جب ان کی والدہ کو بھی اسی تلخ ماحول کا سامنا کرنا پڑا تو تانیہ شو چھوڑنا چاہتی تھیں، لیکن ان کی والدہ نے ہمت ہارنے سے منع کر دیا۔
انٹرنیٹ پر ہونے والی تنقید کا جواب دیتے تانیہ کا کہنا تھا کہ لوگ میری خاموشی کو کمزوری سمجھتے ہیں، لیکن اب مجھے ٹرولرز کی باتوں سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ میری زندگی کا مقصد بہت بڑا ہے۔
انہوں نے کہا کہ معاشرہ ایک کامیاب عورت کو ہضم نہیں کر پاتا۔ جب کوئی مرد مرسڈیز گاڑی میں باڈی گارڈز کے ساتھ گھومتا ہے تو کوئی سوال نہیں اٹھاتا، لیکن جب ایک عورت اپنے کاروبار اور باڈی گارڈز کے ساتھ نظر آتی ہے تو لوگ پوچھتے ہیں کہ یہ اس کے باپ کا ہے یا کسی اور کا؟
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے ہنستے ہوئے بتایا کہ جب یہ بیان وائرل ہوا تو میرے فیملی گروپ میں دھماکہ ہو گیا اور سب اس لڑکے کے بارے میں پوچھنے لگے۔ میں اپنے ہونے والے شوہر کو گاڑیاں، گھر اور اس کا ہر خواب تحفے میں دینا چاہتی ہوں، بس کسی ایسے مضبوط مرد کا انتظار ہے جو ایک کامیاب عورت کو سنبھال سکے۔