• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

پاکستانی مزاح پر تنقید، ارشد وارثی کو سوشل میڈیا پر شدید ردِعمل کا سامنا

ارشد وارثی— فائل فوٹو
ارشد وارثی— فائل فوٹو

بالی ووڈ اداکار ارشد وارثی کو پاکستانی مزاح سے متعلق اپنے بیان پر سوشل میڈیا پر شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

فلم ساز راج کمار ہیرانی کے ساتھ گفتگو میں ارشد وارثی نے کہا کہ میں پاکستانی مزاح کا مداح نہیں ہوں کیونکہ اس میں اکثر تضحیک، نام رکھنا اور توہین آمیز انداز پایا جاتا ہے، مجھے اس قسم کی مزاحیہ پیشکش یا جنسی نوعیت کی کامیڈی پسند نہیں۔

اس پر راج کمار ہیرانی نے کہا کہ مزاح میں مختلف ثقافتوں اور برادریوں پر مبنی لطیفے بھی شامل ہوتے ہیں اور اگر ہر چیز کو حد سے زیادہ محدود کر دیا جائے تو مزاح کا وجود ہی ختم ہو جائے گا۔

ارشد وارثی نے بھی اس سے اتفاق کرتے ہوئے کہا کہ لوگوں کو ایسے معاملات میں زیادہ سنجیدہ ہونے کے بجائے برداشت کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔

تاہم ارشد وارثی کے اس بیان پر پاکستانی سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے شدید تنقید کی گئی ہے۔

متعدد صارفین نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ پاکستانی مزاح نسبتاً شائستہ ہوتا ہے، جبکہ بھارتی کامیڈی میں گالم گلوچ، ذو معنی جملوں اور توہین آمیز مواد کا زیادہ استعمال کیا جاتا ہے۔

کئی صارفین نے دی کپل شرما شو اور بھارتی اسٹینڈ اپ کامیڈی کا حوالہ دیتے ہوئے ارشد وارثی کے بیان پر تنقید کی ہے۔

بعض افراد نے کہا ہے کہ پاکستانی مزاح نے بھارتی کامیڈی پر بھی اثرات مرتب کیے ہیں۔

بعض صارفین نے یہ بھی دعویٰ کیا ہے کہ بھارتی مزاحیہ اداکاروں نے پاکستانی کامیڈینز، خصوصاً عمر شریف مرحوم کے انداز سے متاثر ہو کر اپنی پرفارمنس کو نکھارا ہے۔

انٹرٹینمنٹ سے مزید