ایک ایسے کیٹل فارمر کے طور پر جو روزانہ جانوروں کے وزن، فیڈ کنورژن ریشو اور پیداواری لاگت کا حساب رکھتا ہے، میرا یہ یقین روز بروز مضبوط ہوتا جا رہا ہے کہ ہماری لائیواسٹاک انڈسٹری کی سمت کا تعین صرف زرعی پالیسی نہیں بلکہ عالمی جیوپولیٹکس بھی کرتی ہے۔دہائیوں سے پاکستان کا ریڈ میٹ سیکٹر ایک سوئے ہوئے دیو کی مانند رہا ہے۔ دنیا میں مویشیوں کی پانچویں بڑی آبادی رکھنے کے باوجود ہم چند روایتی خلیجی منڈیوں تک محدود رہے۔ تاہم مئی 2026ءمیں اسلام آباد مذاکرات کے دوران پاکستان کی کامیاب ثالثی کے نتیجے میں ہونیوالے امریکہ،ایران امن معاہدے نے خطے کا تجارتی جغرافیہ بدل دیا ہے۔ مغربی سرحد پر ایک نئی تجارتی راہداری کھلنے سے پاکستانی لائیواسٹاک سیکٹر کو اپنی تاریخ کا شاید سب سے بڑا برآمدی موقع میسر آیا ہے۔اس موقع کی اہمیت کا اندازہ ساتویں قومی زرعی مردم شماری (2025ء) سے ہوتا ہے۔ پاکستان میں لائیو اسٹاک کی مجموعی تعداد 251.3 ملین جانوروں تک پہنچ چکی ہے، جن میں 55.86ملین گائے و بیل اور 47.74ملین بھینسیں شامل ہیں، جبکہ پنجاب اکیلا 104.2ملین جانوروں کے ساتھ ملک کا سب سے بڑا لائیواسٹاک مرکز ہے۔ یہ صرف دیہی معیشت کا ایک شعبہ نہیں بلکہ پاکستان کا سب سے بڑا حیاتیاتی سرمایہ ہے۔بطور فارمر ہمیں اپنے گوشت کو ایک عام زرعی جنس کے بجائے ایک پریمیم برانڈ کے طور پر متعارف کرانا ہوگا۔ ہمارے پاس ساہیوال نسل کی صورت میں ایک ایسا اثاثہ موجود ہے جسے دنیا ابھی پوری طرح نہیں جانتی۔جدید فیڈ لاٹ نظام، سائلج، بائی پاس فیٹس اور متوازن Total Mixed Ration کے ذریعے تیار کیے گئے ساہیوال کے بچھڑے بہترین یومیہ وزن حاصل کرتے ہیں جبکہ انکے گوشت میں اعلیٰ معیار کی Marbling پیدا ہوتی ہے۔ مزید یہ کہ گرمی برداشت کرنے اور بیماریوں کیخلاف قدرتی مزاحمت کی وجہ سے ان کا گوشت نرم، رسیلا اور ذائقے دار رہتا ہے۔ یہ وہ خصوصیات ہیں جو عالمی پریمیم مارکیٹ میں اعلیٰ قیمت دلاتی ہیں، مگر ہم ابھی تک اسے مؤثر انداز میں برانڈ نہیں کر سکے۔
خوش آئند امر یہ ہے کہ پاکستان کی چند کارپوریٹ کمپنیاں خاموشی سے عالمی مارکیٹ میں اپنی جگہ بنا رہی ہیں۔ متحدہ عرب امارات، سعودی عرب اور قطر ہماری روایتی منڈیاں ہیں جبکہ اقتصادی سروے کے مطابق گوشت کی برآمدات 113 ارب روپے سے تجاوز کر چکی ہیں۔ چین کو ہیٹ ٹریٹڈ بیف کی برآمدات میں 177 فیصد اضافہ اس بات کا ثبوت ہے کہ اگر ہم عالمی تقاضوں کے مطابق خود کو ڈھالیں تو نئی منڈیاں ہمارے لیے کھل سکتی ہیں۔ اسی طرح ملائیشیا کیلئے 200 ملین ڈالر کے برآمدی منصوبے اور ترکیہ کی بڑھتی ہوئی طلب پاکستان کیلئے نئے امکانات پیدا کر رہی ہے۔اس عالمی موقع کی ایک اور اہم وجہ حلال فوڈ مارکیٹ کی تیزی سے بڑھتی ہوئی طلب ہے۔ آبادی میں اضافے، مسلم متوسط طبقے کی قوتِ خرید میں بہتری اور خوراک کی معیاری سرٹیفکیشن کی بڑھتی اہمیت کے باعث عالمی حلال فوڈ انڈسٹری مسلسل وسعت اختیار کر رہی ہے، جبکہ حلال ریڈ میٹ اسکی سب سے نمایاں برآمدی مصنوعات میں شمار ہوتا ہے۔ مشرقِ وسطیٰ، جنوب مشرقی ایشیا، وسطی ایشیا اور افریقہ کی کئی معیشتیں اپنی ضرورت کا بڑا حصہ درآمد کرتی ہیں۔ اگرپاکستان عالمی معیار کی ٹریس ایبلٹی، ویٹرنری سرٹیفکیشن، کولڈ چین اور برآمدی معیارات پر مکمل عمل درآمد یقینی بنا لے تو وہ صرف علاقائی نہیں بلکہ عالمی حلال گوشت کی منڈی میں بھی ایک قابلِ اعتماد سپلائر کے طور پر اپنی شناخت مستحکم کر سکتا ہے۔ امریکہ ایران معاہدے کے بعد ایران کی 90 ملین آبادی پر مشتمل مارکیٹ بھی ہمارے لیے ایک غیر معمولی موقع ہے۔ برازیل اور آسٹریلیا کو سمندری راستوں سے منجمد گوشت پہنچانے میں کئی ہفتے لگتے ہیں، جبکہ پاکستان پنجاب کے فیڈ لاٹس سے تازہ اور چلڈ گوشت بلوچستان کے زمینی راستے کے ذریعے صرف 36سے 48 گھنٹوں میں تفتان بارڈر تک پہنچا سکتا ہے۔ اس سے نہ صرف نقل و حمل کی لاگت کم ہوگی بلکہ تازہ گوشت کی وجہ سے بہتر قیمت بھی حاصل ہوگی۔اگر حکومتیں واقعی لائیوسٹاک کو معاشی بحالی کا ستون بنانا چاہتی ہیں تو چند فوری اقدامات ناگزیر ہیں۔ تفتان بارڈر تک قرنطینہ اور کولڈ چین سے لیس خصوصی گرین کوریڈور قائم کیا جائے اور پاک ایران سرحد پر مشترکہ ویٹرنری کلیئرنس سسٹم متعارف کرایا جائے تاکہ برآمدی عمل تیز ہو۔ پنجاب کے لائیواسٹاک ایکسپورٹ ماڈل کو دیگر صوبوں تک وسعت دی جائے، لائیواسٹاک کو باقاعدہ صنعت کا درجہ دیا جائے اور برآمدی معیار حاصل کرنیوالے فارمرز کو فیڈ، کولڈ چین اور سرٹیفکیشن پر مالی معاونت فراہم کی جائے۔جنوبی پنجاب اور چولستان جیسے علاقوں میں عالمی معیار کے FMD-Free Zones قائم کیے جائیں تاکہ پاکستان عالمی پریمیم گوشت کی منڈیوں میں مکمل رسائی حاصل کر سکے۔ پنجاب نے جدید مویشی منڈیوں کے قیام سے ایک مثبت مثال قائم کی ہے، تاہم اب بھی متعدد منڈیوں میں ٹھیکیدار مقررہ نرخوں سے زیادہ فیس وصول کرتے ہیں، جس سے کیٹل فارمر براہِ راست متاثر ہوتا ہے۔ اس اوور چارجنگ کا خاتمہ اور شفاف فیس نظام ناگزیر ہے، جبکہ دوسرے صوبوں کو بھی پنجاب کے اصلاحاتی ماڈل سے فائدہ اٹھانا چاہئے۔ پاکستان کی معاشی حکمت عملی طویل عرصے سے ٹیکسٹائل کے گرد گھومتی رہی ہے، لیکن مستقبل کی ایک مضبوط برآمدی معیشت صرف ایک شعبے پر قائم نہیں رہ سکتی۔ لائیواسٹاک وہ شعبہ ہے جو دیہی آمدنی، زرِ مبادلہ، فوڈ سکیورٹی اور روزگار کو ایک ساتھ تقویت دے سکتا ہے۔اگر ہم ساہیوال نسل کی عالمی برانڈنگ کریں، جدید فیڈ لاٹ سسٹم کو فروغ دیں، بیماریوں سے پاک زون قائم کریں اور ایران، ترکیہ، ملائیشیا، چین اور مشرقِ بعید کی نئی منڈیوں تک مؤثر رسائی حاصل کر لیں تو ریڈ میٹ پاکستان کا اگلا ملٹی بلین ڈالر برآمدی شعبہ بن سکتا ہے۔ وسائل ہمارے پاس موجود ہیں، مارکیٹ ہمارے سامنے ہے اور جغرافیہ بھی ہمارے حق میں بدل چکا ہے۔ اب ضرورت صرف بروقت فیصلوں، پالیسی کے تسلسل اور قومی عزم کی ہے۔