پاکستان کا بجٹ کبھی عوامی مسائل کو حل کرنے کی جانب راغب نہیں ہوا، تعلیم، صحت اور سماجی ترقی نہ صرف ریاست کی آخری ترجیحات ہیں بلکہ ان کا بجٹ بھی تیسری دنیا کے بیشتر ممالک سے کم ہے۔ رواں مالی سال میں ایف بی آر نے 13600ارب روپے ٹیکس وصول کیا جس میں پانچ سو ارب روپے صرف تنخواہ دار طبقے سے انکم ٹیکس کی صورت میں وصول کیے گئے جبکہ پٹرولیم ڈویلپمنٹ لیوی کی مد میں 1700ارب روپے الگ سے بھی وصول کیے جو پاکستان کی تاریخ کا ایک بہت بڑا نان ٹیکس ریونیو ہے۔ اس بجٹ سے پہلے حکومتی حلقے تنخواہ دار طبقے کی تنخواہ اور پنشنوں میں دس فیصد اضافے کی اطلاع دے رہے تھے لیکن پھر اشرافیہ کو کیا ضرورت آن پڑی کہ اس کو کم کر کے سات فیصد کر دیا گیا اور مزدور کی کم سے کم اجرت چالیس ہزار نو سو روپے مقررکر دی گئی، لیکن کسی حکومتی وزیر نے یہ نہیں بتایا کہ اس تنخواہ میں ایک مزدور اپنے گھر کا کرایہ، بجلی کا بل، بچوں کی فیسیں اور کھانے پینے کا بندوبست کیسے کرے گا؟۔
اس سال کے وفاقی بجٹ میں کسی نئی ترقیاتی سکیم کا ذکر نہیں کیا گیاجس سے صاف ظاہر ہو رہا ہے کہ نئی ملازمتوں کے مواقع محدود ہوتے چلے جائینگے۔ یاد رہے کہ آج پاکستان میں چالیس لاکھ نئے نوجوان ہر سال روزگار کیلئے تیار ہو رہے ہیں جو ملازمتیں نہ ملنے کی وجہ سے بے راہ روی کا شکار بھی ہو سکتے ہیں۔ روزگار نہ ہونے کی وجہ سے آج گجرات، منڈی بہائوالدین اور حافظ آباد سے ہزاروں افراد غیر قانونی طریقے سے ایران اور ترکی کے راستے ملازمتوں کیلئے یورپ میں داخل ہونے کی کوشش کرتے ہیں،جہاں ہر دس افراد میں سے کم از کم دو افراد اس سفر میں لقمہ اجل بن جاتے ہیں۔ یاد رہے پاکستان کی 37.4فیصدلیبر فورس زرعی شعبے سے وابستہ ہے جسکے ساتھ ساتھ جی ڈی پی کا 23فیصد حصہ بھی اسی شعبے کا مرہون منت ہے لیکن اسکے مقابلے میں زراعت کے شعبے سے صرف 0.1فیصد ٹیکس وصول کیا جاتا ہے۔ معاشی ماہرین کا خیال ہے کہ زراعت پر ٹیکس لگانے سے پندرہ سو ارب روپے آسانی سے وصول کیے جا سکتے ہیں،لیکن ہمارے زیادہ تر حکمران طبقوں کا تعلق جاگیرداروں، سرداروں اور سجادہ نشینوں سے ہے اسی لیے یہ شعبہ صرف 0.1 فیصد ہی ٹیکس دے رہا ہے۔ صنعتی شعبے کی پیداوار کے پورا نہ ہونے کی بنیادی وجہ بجلی کی قیمتوں میں روز بروز اضافہ ہے جسکی وجہ سے ہمار۱صنعتی شعبہ علاقائی طور پر مسابقتی ہی نہیں رہا۔ آج پاکستان میں دو کروڑ موٹر سائیکلیں، امریکا ایران جنگ سے پہلے پانچ ارب ڈالر کا درآمدی پٹرول خرچ کر رہی تھیں لیکن اب تک حکومت نے نہ ان موٹر سائیکلوں،نہ سرکاری گاڑیوں اور نہ ہی بسوں کو ایک مربوط نظام کے ذریعے بجلی پر منتقل کرنے کی کوئی منصوبہ بندی کی ہے۔ آج زیادہ آمدنی والے گھرانے تو سولر سسٹم، آلات کی تبدیلی اور عمارتوں کی بہتری پر خرچ کر رہے ہیں لیکن محنت کش طبقے کیلئےیہ اخراجات ممکن نہیں اسلئے رواں مالی سال کے بجٹ میں حکومت کو کم از کم پانچ سو یونٹ بجلی پر سبسڈی کے پروگرام کا اعلان کرنا چاہئے تھا۔ رواں مالی سال کے وفاقی بجٹ میں حکومت نے سب سے بڑا ریلیف تاجروں اور دکانداروں کو فکسڈ ٹیکس رجیم بنا کر دیا ہے اور کہا ہے کہ جو ریٹیلرسالانہ بیس کروڑ روپے کا کاروبار کرتے ہیں وہ اگر رضاکارانہ طور پر پچیس ہزار روپے جمع کرا دیں تو نہ ان کا آڈٹ ہو گا اور نہ ڈیجیٹل انوائسنگ ہو گی اور نہ ہی کوئی پوائنٹ آف سیل کی شرط رکھی جائیگی یعنی ایف بی آر کا کوئی بندہ ان کی دکان میں داخل نہیں ہو سکے گا۔ اس اسکیم سے دراصل ریٹیل شعبے کیلئے جان بوجھ کر ایک متوازی راستہ بنایا گیا ہے تاکہ وہ رتی برابر ٹیکس دے کر نادہندہ بھی نہ رہے اور دستاویزی معیشت سے بھی باہر ہو جائے۔جس سے یہ حقیقت واضح ہو جاتی ہے کہ ایک ایسا بااثر گروہ جسے سیاسی پشت پناہی بھی حاصل ہو، اسے ٹیکس نیٹ میں لانا ممکن ہی نہیں ہے۔
یاد رہے کہ آئی ایم ایف اور دوسرے عالمی مالیاتی ادارے شکایت کرتے ہیں کہ پاکستان کی اکانومی میں بینکوں کی بجائے نقد لین دین کی ترسیل زیادہ ہے۔گوکہ حکومت باربار پاکستانی عوام اور عالمی اداروں کو کیش لیس معیشت کیلئے دن گنی،رات چگنی کارروائی کی یقین دہانی کراتی رہتی ہے لیکن پھر اسی سانس میں تاجروں اور ریٹیلرز کو دستاویزی معیشت سے باہر رکھتی ہے۔ اگر آج اس شعبے کا تنخواہ دار طبقے سے موازنہ کریں تو پتہ چلتا ہے کہ سودے بازی کیلئے سیاسی قوت موجود نہ ہونے کی وجہ سے انہیں ساٹھ ہزار ماہانہ پر انکم ٹیکس دینا پڑتا ہے جبکہ سودے بازی کیلئے سیاسی قوت رکھنے والے ریٹیلرز کو، جن کے پاس پینتیس لاکھ سے زائد بجلی کے کمرشل کنکشن ہیں ، بیس کروڑ پر پچیس ہزارسالانہ ٹیکس دینا ہوگا۔ اس سلسلے میں ہمیں بنگلہ دیش اور کینیا سے سبق حاصل کرنا چاہیے جنہوں نے مخصوص کاروباری حجم سے زائد آمدنی رکھنے والے تاجروں کیلئے الیکٹرانک فیسکل ڈیوائسز کو لازمی قرار دیا ہے۔ اسی وجہ سے بنگلہ دیش میں دو سال کے اندر ریٹیل شعبے سے ویلیو ایڈڈ ٹیکس (VAT)میں قابل ستائش اضافہ دیکھا گیا ہے۔
پاکستان کے پاس بھی اسی طرح کے موبائل، منی انفراسٹرکچر اور ڈیٹا منیجنگ کی صلاحیتیں موجود ہیں لیکن جس چیز کی سخت کمی ہے وہ بارسوخ طبقات سے ٹیکس وصول نہ کرنے کی سیاسی خواہش ہے۔آج وقت کی اشد ضرورت ہے کہ مزدوروں، کسانوں اور تنخواہ دار طبقے پر ریاستی اخراجات کا سارا بوجھ ڈالنے کی بجائے تاجروں، ریٹیلرز، جاگیرداروں اور رئیل اسٹیٹ بلڈرز کو ان کی حقیقی آمدنی کے مطابق ٹیکس نیٹ میں لایا جائے۔