• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

دنیا کے نقشے پر کچھ خطے ایسے ہوتے ہیں جنہیں قدرت حسن بھی عطا کرتی ہے، وسائل ، جغرافیائی اہمیت اور تہذیبی عظمت بھی۔انہی خطوں کو تاریخ مگرسب سے کڑی آزمائشوں سے بھی گزارتی ہے۔ بلوچستان بھی ایسی ہی ایک سرزمین ہے جہاں مہرگڑھ کی سات ہزار سالہ تہذیب انسانی تمدن کی اولین داستان سناتی ہے، جہاں چاغی کے پہاڑ زمین کے سینے میں پوشیدہ سونے اور تانبے کی دولت کی خبر دیتے ہیں اورگوادر کا ساحل مستقبل کی معاشی شاہراہوں کا استعارہ ہے۔ بلوچ و پشتون روایات صدیوں سے غیرت،وفااورمہمان نوازی کی علامت سمجھی جاتی رہی ہیں۔بلوچستان کا نام آتے ہی صرف ایک صوبہ ذہن میں نہیں آتا۔ایک مکمل تہذیب، تاریخ اور ایک ایسا جغرافیہ سامنے آتا ہے جو ایشیا کی سیاست کا محور بن چکا ہے۔ پاکستان کے کل رقبے کا تقریباً چوالیس فیصد حصہ اپنے دامن میں سمیٹے یہ صوبہ قدرتی وسائل سے اس قدر مالا مال ہے کہ ماہرین اسے پاکستان کی معاشی تقدیر بدلنے کی کنجی قرار دیتے ہیں۔ ریکوڈک کے سونے اور تانبے کے ذخائر، سیندک کی معدنی کانیں، سوئی کی گیس، کرومائٹ، کوئلہ، سنگِ مرمر، آئرن اور دیگر معدنیات اس حقیقت کی گواہ ہیں کہ اگر ان وسائل سے دانشمندانہ استفادہ کیا جائے تو بلوچستان صرف پاکستان ہی نہیں بلکہ پورے خطے کی معاشی تصویر بدل سکتا ہے۔ گوادر وہ بندرگاہ ہے جسے اکیسویں صدی کی اہم ترین بحری گزرگاہوں میں شمار کیا جا رہا ہے۔ آبنائے ہرمز کے قریب واقع یہ بندرگاہ مشرقِ وسطیٰ، وسطی ایشیا، جنوبی ایشیا اور چین کے درمیان تجارت کا ایسا دروازہ بن سکتی ہے جسکی مثال اس خطے میں کم ہی ملتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) کا سب سے اہم مرکز بھی بلوچستان ہے۔ جب وسائل، ساحل، معدنیات اور عالمی تجارت ایک ہی خطے میں جمع ہو جائیں تو دنیا کی نظریں بھی اسی طرف اٹھتی ہیں۔شاید یہی وجہ ہے کہ بلوچستان گزشتہ کئی دہائیوں سے داخلی مسائل ہی کا شکار نہیں علاقائی اور بین الاقوامی سیاست کا بھی اہم میدان بنا ہوا ہے۔ پاکستان کا سرکاری مؤقف بارہا یہ رہا ہے کہ بلوچستان میں سرگرم بعض کالعدم دہشت گرد گروہوں کو بیرونی سرپرستی حاصل رہی ہے۔ مختلف مواقع پر بھارت پر بھی ایسے عناصر کی معاونت کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ اس کے باوجود ایک حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ بلوچستان کا امن صرف پاکستان کا داخلی مسئلہ نہیں بلکہ پورے خطے کے امن، تجارت اور استحکام سے جڑا ہوا ہے۔ سیاست، مفادات اور عالمی طاقتوں کی کشمکش سے بالاتر ایک اور بلوچستان بھی ہے۔وہ بلوچستان جسکی شناخت بلوچ اور پشتون اقوام کی مہمان نوازی تھی۔ یہاں آنیوالا مہمان اپنا نہیں ہوتا تھا مگر اسے اپنے سے بڑھ کر عزت دی جاتی تھی۔ کسی اجنبی کا تحفظ میزبان کی ذمہ داری سمجھا جاتا تھا۔ یہی وہ روایت تھی جس نے بلوچستان کو ایک خطہ نہیں ایک تہذیبی استعارہ بنا دیا تھا۔افسوس کہ دہشت گردی نے انسانی جانیں ہی نہیں لیں اس تہذیبی شناخت کو بھی شدید زخم پہنچائے ہیں۔کچھ دن قبل کوئٹہ میں ایک معروف سرمایہ کار کو دن دہاڑے فائرنگ کرکے قتل کر دیا گیا۔ اس کا جرم صرف اتنا تھا کہ اس نے بلوچستان پر اعتماد کیا، یہاں سرمایہ لگایا، ایک جدید ہوٹل تعمیر کیا اور سینکڑوں مقامی نوجوانوں کیلئے روزگار کے دروازے کھولے۔ جب کوئی سرمایہ کار اپنا سرمایہ کسی خطے میں لاتا ہے تو وہ صرف عمارت نہیں بناتا امید تعمیر کرتا ہے۔ اس امید کو گولی مار دی جائے تو فقط ایک شخص نہیں مرتا ترقی کا ایک خواب بھی لہو لہان ہو جاتا ہے۔اسی تسلسل میں کراچی سے آئے ہوئے ایک سیاح کا اندوہناک قتل پوری قوم کے لیے لمحۂ فکریہ ہے۔ وہ اپنی اہلیہ اور دو بچیوںکے ساتھ بلوچستان کی حسین وادیوں اور پہاڑوں کی خوبصورتی دیکھنے آیا تھا۔ اس نے یقیناً یہی سنا ہوگا کہ یہ وہ سرزمین ہے جہاں مہمان خدا کی رحمت سمجھا جاتا ہے۔ اس کی واپسی ایک لاش کی صورت میں ہوئی۔ ایک بیوی کی زندگی اجڑ گئی، دو ننھی بچیوں کے سر سے باپ کا سایہ اٹھ گیا اور پاکستان کے سیاحتی مستقبل پر ایک اور سوالیہ نشان ثبت ہو گیا۔یہ دونوں واقعات جرائم کی فہرست میں درج ہونے والے اعداد و شمار نہیں یہ اس اعتماد کے قتل کی علامت ہیں جس پر سیاحت، سرمایہ کاری اور معاشی ترقی کی بنیاد رکھی جاتی ہے۔ سرمایہ کار خوف زدہ ہوگا تو سرمایہ نہیں آئے گا، سیاح غیر محفوظ محسوس کرے گا تو سیاحت پروان نہیں چڑھے گی۔ جب سیاحت اور سرمایہ کاری رک جائیں تو مقامی نوجوانوں کے روزگار کے مواقع بھی محدود ہوتےچلےجاتے ہیں۔ یوں دہشت گرد کی ایک گولی کئی نسلوں کے مستقبل کو زخمی کر دیتی ہے۔تاہم انصاف کا تقاضا یہ ہے کہ چند دہشت گردوں کے جرائم کو پوری بلوچ یا پشتون قوم کے کھاتے میں نہ ڈالا جائے۔ بلوچستان کے لاکھوں عوام خود دہشت گردی کے ہاتھوں سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں۔ انہوں نے اپنے بیٹے، اپنے باپ، اپنے اساتذہ، اپنے علماء، اپنے مزدور اور اپنے سپاہی کھوئے ہیں۔ اس لیے دہشت گرد اور بلوچ عوام کو ایک ترازو میں تولنا خود انصاف کے اصولوں کے منافی ہے۔وقت کا تقاضا ہے کہ بلوچستان کو شورش اور خونریزی کی خبروں سے نہیں اس کی تہذیب، ثقافت، معدنی دولت، سیاحت، ادب، موسیقی، مہمان نوازی اور باصلاحیت نوجوانوں کے ذریعے دنیا کے سامنے پیش کیا جائے۔بلوچستان پاکستان کے ماتھے کا جھومر ہےاس کے لوگ محبت اور احترام کے امین ہیں۔ ضرورت صرف اس امر کی ہے کہ دہشت گردی کے اندھیرے کو قانون کی روشنی، انصاف کی طاقت، تعلیم کی شمع، معاشی ترقی اور قومی یکجہتی کے جذبے سے شکست دی جائے۔

تازہ ترین