• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

مسوڑھوں کی بیماری مُنہ کی سب سے عام بیماریوں میں سے ایک ہے، تاہم غور طلب بات یہ ہے کہ اس بیماری کی علامات فوراً نظر نہیں آتیں۔ دانتوں کی صحت سے متعلق ایک تحقیقی جریدے کے مطابق مسوڑھوں کی بیماری مُنہ کی ان بیماریوں میں شامل ہے، جن کا شکار ہونے والوں کی تعداد سنگین حد تک بڑھ رہی ہے۔ 

مُنہ کی بیماریوں کی وجہ سےایک شخص کو بہت زیادہ تکلیف سے گزرنا پڑتا ہے، وہ کھانا صحیح طرح سے نہیں کھا سکتا اور اس کی زندگی کے دیگر پہلو بھی متاثر ہوتے ہیں۔ آئیں، اس بیماری کے بارے میں کچھ معلومات پر غور کرتے ہیں، جس کے ذریعے آپ ایک حد تک اس بیماری سے بچنے کے قابل ہو سکتے ہیں۔

مسوڑھوں کی بیماری کی علامات 

مسوڑھوں کی بیماری کے مختلف مرحلے ہوتے ہیں۔ سب سے پہلے مرحلے میں مسوڑھوں میں سوجن ہوتی ہے۔ مسوڑھوں کی سُوجن کی ایک علامت یہ ہو سکتی ہے کہ ان سے خون بہنے لگتا ہے۔ ایسا شاید دانت صاف کرتے وقت یا پھر بِلاوجہ بھی ہو سکتا ہے۔ اس کے علاوہ جب ڈاکٹر مسوڑھوں کا معائنہ کرتا ہے تو اس وقت خون بہنا بھی مسوڑھوں کی سُوجن کی علامت ہو سکتا ہے۔

مسوڑھوں کی سُوجن کے بعد ہو سکتا ہے کہ بیماری کا اگلا مرحلہ شروع ہو۔ اس میں دانتوں کو مضبوط رکھنے والی ہڈی اور مسوڑھوں کے ریشے خراب ہونا شروع ہو جاتے ہیں۔ اس حالت کو پائیوریا کہتے ہیں۔ اکثر اس صورتحال کی علامات اس وقت ظاہر ہوتی ہیں جب یہ بہت زیادہ بگڑ جاتی ہے۔ اس کی کچھ علامات یہ ہیں: دانتوں اور مسوڑھوں کے درمیان خلا؛ دانت ہل جانا؛ دانتوں کے درمیان فاصلہ بڑھنا؛ بدبُودار سانس؛ دانتوں سے مسوڑھوں کا ہٹنا جس کی وجہ سے دانت لمبے لگنے لگتے ہیں اور مسوڑھوں سے خون نکلنا۔

بیماری کی وجوہات اور نقصانات 

مسوڑھوں کی بیماری کی بہت سی وجوہات ہو سکتی ہیں۔ اس کی ایک وجہ’پلاک‘ ہے۔ پلاک، بیکٹیریا کی ایک تہہ ہوتی ہے جو مسلسل دانتوں پر بنتی رہتی ہے۔ اگر اسے دانتوں پر سے صاف نہ کیا جائے تو مسوڑھے سُوج سکتے ہیں۔ جیسے جیسے مسوڑھے سُوجتے جاتے ہیں، ان میں اور دانتوں میں خلا پیدا ہوتا جاتا ہے۔ بیکٹیریا اس خلا میں داخل ہو کر مسوڑھوں کے نیچے چلا جاتا ہے۔

جب مسوڑھوں کے نیچے بیکٹیریا کی تعداد بہت بڑھ جاتی ہے تو مسوڑھے اور زیادہ سُوج جاتے ہیں اور اس وجہ سے دانتوں کو مضبوط رکھنے والی ہڈی اور مسوڑھوں کے ریشے خراب ہونا شروع ہو جاتے ہیں۔ پلاک چاہے مسوڑھوں کے نیچے ہو یا دانتوں پر، یہ میل کی شکل اختیار کر سکتا ہے جسے’ٹارٹار‘ بھی کہتے ہیں۔ یہ بھی بیکٹیریا کی تہہ ہوتی ہے لیکن یہ بہت سخت ہوتی ہے اور دانتوں پر بڑی مضبوطی سے جمی ہوتی ہے۔ اس لیے اسے پلاک کی نسبت دانتوں پر سے صاف کرنا زیادہ مشکل ہوتا ہے۔ یوں بیکٹیریا مسوڑھوں کو نقصان پہنچاتا رہتا ہے۔

کچھ اور بھی باتیں ہیں جن کی وجہ سے مسوڑھوں کی بیماری ہونے کا خطرہ بڑھ سکتا ہے جیسے کہ دانتوں کو باقاعدگی اور اچھی طرح سے صاف نہ کرنا؛ ایسی دوائیاں استعمال کرنا جن سے نظامِ دفاع کمزور ہو جائے؛ کسی وائرس سے لگنے والی بیماری؛ ذہنی دباؤ؛ سنگین قسم کی ذیابطیس؛ حد سے زیادہ الکوحل کا استعمال؛ تمباکو کا استعمال؛ حمل کی وجہ سے ہارمونز میں ہونے والی تبدیلیاں وغیرہ۔

مسوڑھوں کی بیماری سے اور بھی نقصان ہو سکتے ہیں۔ چونکہ اس کی وجہ سے مُنہ میں درد ہوتا ہے یا دانت گِر جاتے ہیں اس لیے ایک شخص اچھی طرح سے کھانا نہیں چبا سکتا اور نہ ہی اس کا مزہ لے سکتا ہے۔ وہ لفظوں کا تلفظ ٹھیک طرح سے ادا نہیں کر سکتا اور اس کی شکل و صورت بھی بگڑ جاتی ہے۔ تحقیق سے پتہ چلا ہے کہ مُنہ کی بیماریاں جسم کے باقی حصوں پر بھی بہت بُرا اثر ڈالتی ہیں۔

بیماری کی شناخت اور علاج

آپ کیسے جان سکتے ہیں کہ آیا آپ کو مسوڑھوں کی بیماری ہے یا نہیں؟ شاید آپ کو کچھ ایسی علامات نظر آئیں جن کا اس مضمون میں ذکر کیا گیا ہے۔ اگر ایسا ہے تو بہتر ہوگا کہ آپ دانتوں کے ڈاکٹر کے پاس جائیں تاکہ وہ آپ کے مسوڑھوں کا معائنہ کرے۔

کیا بیماری کا علاج کیا جا سکتا ہے؟ 

جب یہ بیماری ابتدائی مرحلے میں ہوتی ہے تو اس سے پہنچے نقصان کو ٹھیک کیا جا سکتا ہے۔ لیکن اگر یہ بیماری پائیوریا کی صورت اختیار کر لیتی ہے تو اس کو صرف بڑھنے سے روکا جا سکتا ہے تاکہ یہ دانتوں کو مضبوط رکھنے والی ہڈی اور مسوڑھوں کے ریشوں کو مزید خراب نہ کرے۔ اس کے لیے دانتوں کے ڈاکٹروں کے پاس ایسے اوزار ہوتے ہیں جن کے ذریعے وہ پلاک اور دانتوں کے میل کو مسوڑھوں کے نیچے سے اور دانتوں پر سے صاف کر سکتے ہیں۔

چاہے آپ کے پاس دانتوں کے ڈاکٹر کے پاس جانے کے لیے پیسے ہوں یا نہ ہوں، اس خطرناک بیماری سے بچنے کا سب سے بہترین علاج یہ ہے کہ آپ اپنے دانتوں کی حفاظت کریں۔ دانتوں کو باقاعدگی اور اچھی طرح سے صاف کرنے سے آپ مسوڑھوں کی بیماری سے بچ سکتے ہیں۔