معروف ڈرامہ سیریز ’اندھیرا اُجالا‘ کے جعفر حسین سے کون نہیں واقف؟ وہی پولیس والا جسکی پینٹ ہروقت ڈھیلی رہتی تھی۔یہ کردار جمیل فخری پر ایسا جچا کہ بعد میں انہوں نے بے شمار کردار ادا کیے لیکن اُن کی پہچان جعفر حسین ہی بنا۔ہم سب اِنہیں پیار سے تایا جی کہتے تھے۔تایا جی محفل لوٹنے کے ماہر تھے۔ دنیاجہان کے لطیفے اورجگتیں اُن کی گھٹی میں پڑی تھیں۔خوش مزاج ایسے کہ پی ٹی وی لاہورکے جس پروڈیوسر کے کمرے سے قہقہوں کی فلک شگاف آوازیں بلند ہوتیں سب سمجھ جاتے کہ یہاں تایا جی نے منڈلی جمائی ہوئی ہے۔2008 کے الیکشن میں مجھے پی ٹی وی کی طرف سے الیکشن ٹرانسمیشن کاکونٹینٹ لکھنےکیلئے اسلام آباد بلایا گیاپی ٹی وی کی طرف سے سب کوقریبی فائیواسٹارہوٹل میں کمرے الاٹ کیے گئے تھے۔ یہاں ہمارے علاوہ پورے پاکستان سے فنکار اکٹھے کیے گئے تھے۔یہ ساری کہکشاں ناشتے کے وقت اکٹھی ہوجاتی اورہوٹل کی فضا میں رنگ بکھر جاتے۔ تایا جی سیدھے سادے لاہوریے تھے لہٰذا ٹرانسمیشن سے فارغ ہوکر میرے کمرے میں آجاتے۔ایک دفعہ آدھی رات کو آگئے اور کہنے لگے کہ بھوک بہت لگی ہے کھاناکیسے منگواتے ہیں؟ میں نے فوراً روم سروس کا نمبر ملا کر فون اُن کے ہاتھ میں تھما کر کہا’جوبھی کھانا ہے آرڈرکریں‘۔تایا جی نے خوش ہوکر ریسیور کان سے لگایا اور بولے”پُتر!ایک مدری روٹی اور ہاف پلیٹ سبزی بھجوا دو لیکن تری کم ڈالنا“۔تایا جی‘ ہر بات سے پہلے چھ سات گالیاں نکالنا فرض سمجھتے تھے تاہم کوئی مائنڈ نہیں کرتا تھا کیونکہ تایا جی اُسے گالیاں دیتے تھے جس سے زیادہ پیار ہوتا تھا‘۔ایک دفعہ میں نے موبائل فون تبدیل کیا تو کافی سارے نمبر بھی ڈیلیٹ ہوگئے جن میں تایا جی کا نمبر بھی تھا۔ تایا جی کا فون آیا تو میں ریکارڈنگ میں تھا شور کی وجہ سے آواز پہچانی نہیں گئی، میں نے پوچھا ”آپ کون ہیں؟“تایا جی نے دانت پیس کر اپنا نام بتایا، میں جلدی سے ریکارڈنگ چھوڑ کر باہر آگیا او ر معذرت کرتے ہوئے بتایا کہ Unknown نمبر کی وجہ سے میں پہچان نہیں پایالیکن تایا جی بدستور غصے میں تھے، کڑک کر بولے”ہن فیر گال کڈھاں؟“ میں نے بوکھلا کر جلدی سے کہا”نہیں تایا جی!تہاڈا فون آگیا اے‘ میرے واسطے ایہو ای گال اے“۔یہ سنتے ہی دوسری طرف سے تایا جی کا کان پھاڑ قہقہہ گونجا اور وہ مسلسل ایک منٹ تک ہنستے رہے۔یہ تایا جی کا آخری قہقہہ تھا...اِس کے بعد کبھی کسی نے اُنہیں یوں بے ساختہ ہنستے ہوئے نہیں دیکھا۔ ہنستے بھی تھے تودل کا سارا درد اُن کی آنکھوں سے عیاں ہوجاتاتھا۔ہر ایک سے فریاد کرتے پھرتے کہ مجھے میرے بیٹے کا پتا بتا دو۔ اُن کا بیٹا علی ایاز فخری کافی عرصے سے امریکہ میں مقیم تھا اور اچانک ہی نیویارک سے لاپتہ ہوگیا تھا۔دیکھتے ہی دیکھتے بھرپور جسم والا”جعفر حسین“ایک لاغر ڈھانچے کی شکل اختیار کر گیا۔ڈراموں میں کام ملنا بند ہوگیا۔اسی دوران ایک دن امریکہ سے ان کی بیٹے کی باقیات تابوت میں آگئیں لیکن سختی سے ہدایت تھی کہ کھول کرنہ دیکھا جائے۔ پتا نہیں تابوت میں کچھ تھا بھی یا نہیں لیکن تایا جی جب تابوت سے لپٹ کر روئے تو مجھے اُن کے چہرے پر ایک گہرا سکون نظر آیا۔اسی سکون نے انہیں کچھ عرصے بعد میوہسپتال میں سکون کی نیند سلا دیا۔تایا جی بہت پہلے مر گئے تھے لیکن شاید ایک خالی تابوت کو چھونے کی حسرت نے اُنہیں زندہ رکھا ہوا تھا۔
٭ ٭ ٭
چالیس سال پہلے کا پاکستان کتنا حسین تھا جب کسی کی پہچان اُس کا مذہب یا فرقہ نہیں تھی۔ہم اکٹھے کھیلتے تھے، ایک گلاس میں پانی پیتے تھے، ایک جیسی گالیاں نکالتے تھے اور ایک جیسے ہی گھروں میں رہتے تھے۔ہر گھرمعمولی تھا، ہر مکین بے ضرر تھا،ہر دکاندار چاچا جی تھا، ہر عورت خالہ تھی۔ دکانوں پر ”چونگا“ عام ملتا تھا۔کسی گھر سے کھانے کی کوئی چیز پلیٹ میں ڈھکی ہوئی آتی تھی تو کوئی نہیں پوچھتا تھا کہ یہ نیاز ہے‘ کونڈے ہیں یا ختم کی چیز ہے۔سب بچے عید میلاد النبیﷺ کی محفلوں میں بھی کھانے پینے کیلئے موجود ہوتے تھے اور محرم میں شربت کی سبیلوں پر بھی گلاس کے گلاس چڑھا جاتے تھے۔کسی گھر میں دیگ پکتی تھی تو عقیدے سے زیادہ چاولوں کی مہک سب کو اپنی طرف کھینچتی تھی۔بے فکری ایسی کہ گلی میں چارپائیاں ڈال کر سونے کا رواج عام تھا۔ خوف ابھی اتنے بڑے نہیں ہوئے تھے،اُن کا حجم بہت کم تھا۔ اسکائی لیب گرنے کا خوف، سرکٹے کے آنے کا خوف،سیلاب کا خوف، کچی چھت گر جانے کا خوف، بیٹی کی شادی میں کھانا کم پڑ جانے کا خوف۔یہ خوف بڑوں سے بچوں میں منتقل ہوتے تھے۔اُس دور کے بڑے بھی تو بچے ہی تھے۔سیاست صرف کونسلر کے الیکشن تک محدود تھی۔ کونسلر ہی سب سے بڑا سیاستدان تصور کیا جاتا تھا۔بلدیاتی الیکشن کے دنوں میں کونسلر کسی بڑے سے گھر کے کھلے صحن میں ”جلسے“ منعقد کیا کرتے تھے جن میں حاضرین کو بوتلیں پیش کی جاتی تھیں۔ جلسے کے بعد حاضرین فخر سے بتایا کرتے تھے کہ انہوں نے چھ بوتلیں پی ہیں۔ہر گھر کے دروازے کھلے رہتے تھے،بچے کھیلتے ہوئے کسی بھی گھر میں گھس جاتے تھے اور بعض اوقات کھانا بھی کھا آتے۔ بڑے بھائیوں کے کپڑے چھوٹے بھائیوں کے استعمال میں آتے تھے ۔ یہ وہ وقت تھا جب زمینی فاصلے زیادہ اور دِلوں کے فاصلے بہت کم تھے۔اُن دنوں موبائل نمبر نہیں ’پی پی‘ نمبر ہوتا تھا جو ہمسائے کا ٹیلی فون نمبر ہوتا تھا۔ تب Busy ہونے کا رواج نہیں پڑا تھا۔تب بہت امیر لوگ بھی نہیں ہوتے تھے۔تقریباًسب کی حیثیت ایک جیسی تھی۔سب کا رونا ہنسنا سانجھا تھا، سب کے دُکھ ایک جیسے تھے، مذہب کبھی موضوع ِ گفتگو نہیں ہوتا تھاکیونکہ اُس وقت سبھی مسلمان تھے۔