07 مئی 2025 میں ہندوستان نے پاکستان پر حملہ کر کے متعدد مقامات اور کشمیر پاکستان کی سرحد پر واقع نیلم جہلم پاور پلانٹ کو نشانہ بنایا۔ بین الاقوامی قوانین کے مطابق پانی کے ذخائر، ڈیموں اور بجلی گھروں کو نشانہ بنانا جنگی جرائم میں شامل ہے۔ نیلم جہلم پلانٹ پر واقع نوسیری ڈیم پر ہندوستان نے شدید گولہ باری کی جس سے ڈیم کے پانی لینے والے دروازوں، ہائیڈرولک پاور یونٹ اور ڈی سینڈرز کے کنکریٹ اسٹرکچر کو شدید نقصان پہنچا۔ یہ پاور پلانٹ پہلے مختلف تکنیکی خرابیوں کے باعث جولائی 2022 میں بند ہوا اور پھر مئی 2024 سے دوبارہ بند پڑا تھا۔لیکن ہندوستانی جارحیت سے اس کے اسٹرکچر اور زمینی تنصیبات کو 128 ارب روپے کا نقصان پہنچا۔ ماہرین کے مطابق اسے فعال کرنے کے لیے کم از کم دو سال اور ایک خطیر رقم درکار ہوگی جو شاید فوری طور پر ممکن نہ ہو۔
حال ہی میں ایک اعلیٰ سیکیورٹی عہدیدار نے میڈیا کو ہندوستانی آبی جارحیت کے حوالے سے بریفنگ دی۔ انہوں نے کہاکہ ہندوستان پاکستان کا پانی بند کرنے کی جرأت بھی نہیں کر سکتا کیونکہ پاکستان کی سیکیورٹی پالیسی کی تحت یہ جنگ کے مترادف ہوگا۔ اگر ہندوستان پاکستان کا پانی روکے گا تو اس کے ڈیم توڑ دیے جائیں گے کیونکہ قیادت کو ادراک ہے کہ پانی زندگی ہے اور پانی کے بغیر زندہ رہنا ممکن نہیں۔ ہندوستان سے آتے پانی کی حفاظت کرنا پاک فوج کی ذمہ داری ہے لیکن ملک میں پانی کا ضیاں روکنے، بارشوں، سیلابی پانی کی مینجمنٹ اور ڈیم بنانے کی ذمہ داری حکومت کی ہے۔ ان کے مطابق ہندوستان محض اپنے عوام کے لیے ایسے ڈرامے کر رہا ہے۔ یقیناً عسکری نقطہء نگاہ سے ان کا مؤقف درست ہے۔ افواجِ پاکستان نے مئی 2025 میں ہندوستانی جارحیت کا منہ توڑ جواب دے کر ثابت کر دیا کہ جب بھی پاکستان کی بقاء اور سلامتی پر وار ہو گا افواجِ پاکستان آگے بڑھ کر دشمن پر ایسی کاری ضرب لگائیں گی کہ دنیا دنگ رہ جائے گی۔تاہم ہندوستان تو عرصے سے سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی میں ڈیم بنا رہا ہے جن میں سے دو فعال ہیں جبکہ باقی تیزی سے مکمل ہو رہے ہیں۔پاکستان نے 17 ہندوستانی ڈیموں پر سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی پر اعتراض اٹھایا ہوا ہے جن میں سے چند جیسے کشن گنگا، بگلیہار، رتلے، پکال دُل، سوال کوٹ، کرتائی، کواڑ ہیں۔ پاکستان کے مطابق یہ ڈیم پاکستان میں آتا پانی روکنے اور اس کا رخ موڑنے کے لیے بنائے گئے ہیں تاکہ ہندوستان جب چاہے پانی روک کر یا چھوڑ کر پاکستان کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچا سکے۔ ہماری حکومتوں کی نااہلی، سستی اور عدم دلچسپی کے باعث دریائے چناب پر بگلیہار ڈیم 2015 میں مکمل فعال ہوا اور اسی لئے چناب ماسوائے سیلابی صورتحال کے باقی سال ایک نالہ بن کر رہ گیا ہے۔نیلم پر کشن گنگا 2018 میں فعال ہوا ، دریائے نیلم کا رخ موڑ کر 23 کلومیٹر طویل سرنگ کے ذریعے" بونار" نالے سے وولر جھیل میں گرا کر دریائے نیلم کا 27 فیصد پانی آزاد کشمیر میں داخل نہیں ہونے دیا جاتا۔ جس سے نیلم جہلم پلانٹ کی پیداواری صلاحیت پر بہت برا اثر پڑا ہے کہ مکمل فعال ہونے پر بھی پلانٹ 700 ملین یونٹ بجلی کم پیدا کرے گا۔ 2022 سے لے کر 2024 تک کوئی نہ کوئی تکنیکی خرابی پیدا کروا کر،کبھی سرنگوں کو یکدم منہدم کر کے ممکن ہے کہ پلانٹ کو سبوتاژ کیا گیا ہو۔اب 2025 میں ہندوستان نے بلاواسطہ حملہ کر کے نیلم پاور پلانٹ کو مزید نقصان پہنچا دیا۔ مئی 2025 کی جنگ میں ہندوستان کی پاکستان سے شکست فاش،" موذی" اور ہندوستانی افواج کی بےعزتی کا قرض اتارنے کے لیے "موذی" نے اعلان کیا کہ آپریشن سیندور (پاکستان کے خلاف جارحیت ) ختم نہیں ہوا بلکہ مرحلہ وار جاری رہے گا۔اسی سلسلے میں ہندوستان نے 22 اپریل 2025 کے پہلگام فالس فلیگ کے جھوٹے جواز کی آڑ میں واقعے کےایک روز بعد ہی سندھ طاس معاہدہ یکطرفہ معطل کر دیا ۔ہندوستان 2023 اور 2024 سے پاکستان کو معاہدے کی شقوں میں من مرضی کی تبدیلی کے نوٹس بھیج رہا تھا جن پر عمل کرنے کے لئے پاکستان معاہدے کی رو سے پابند نہیں تھا۔ہندوستان کے ناجائز اور نامعقول مطالبوں پر مذاکرات کے لئے پاکستان میں مختلف فارن فنڈڈ این جی اورز اور ریٹائرڈ بیوروکریٹ بھی بہت زور لگا رہے تھے۔ معاہدے کو معطل کرنے کے تسلسل میں ہندوستان نے چناب، راوی،ستلج اور بیاس کا پانی بھی روک لیا تھا۔ جب پاکستان میں مون سون کی طوفانی بارشوں نے زور پکڑا تو بنا پیشگی اطلاع دیے ہندوستان نے اپنے ڈیموں کے اچانک گیٹ کھول کر پاکستان پر آپریشن سیندور 2 کا بدترین وار کیا۔زراعت اور کچی آبادیوں کو ناقابلِ تلافی نقصان ہوا،کسان رُل گئے۔وعدوں کے باوجود آٹے میں نمک کے برابر چنیدہ کسانوں کو معاوضہ ملا ۔ ہماری حکومت نے اس آبی جارحیت پر آواز اٹھانے سے گریز کیا اور اس جارحیت کو غیر معمولی موسمی تبدیلی کے سر منڈھ دیا جبکہ ہندوستان سے محض سرسری طور پر پیشگی اطلاع نہ دینے کا واویلا کیا۔ جواباً ادھر سے پانی کا ریلا چھوڑ کر کئی گھنٹے بعد اطلاع دے کر خانہ پری کی جاتی رہی۔ کسی قسم کا آبی یا دریاؤں کے بہاؤ کا ڈیٹا دیا گیا نہ عالمی عدالتِ انصاف کے فیصلے کے مطابق دریائے نیلم پر نو مربع میٹر فی سیکنڈ پانی کا بہاؤ قائم رکھا گیا۔ بعینی دریائے چناب،راوی ،ستلج اور بیاس پر بھی پاکستان حکومت کے بارہا اعتراض کے باوجود ہندوستان جب چاہے پانی روک کر یا چھوڑ کر آبی جارحیت کرتا رہتا ہے۔
ہمیں ماننا ہوگا کہ مئی 2025 میں نیلم جہلم ہائیڈرو پاور پراجیکٹ پر گولہ باری کا جواب دینے میں ہم نے بہترین موقع ضائع کیا۔مئی میں ڈیموں میں پانی کم ہوتا ہے، ہم مصنوعی ذہانت استعمال کرکے ان ڈیموں کے گیٹ کھول دیتے یا ضرورت پڑتی تو میزائل مار کر غیر فعال کر دیتے یعنی آنکھ کے بدلے آنکھ ! ادھر ہماری حکومت نے جیت کر بھی صدر ٹرمپ کی جنگ بندی کی درخواست مانی کہ وہ سندھ طاس معاہدہ اور مسئلہ کشمیر پر ثالثی کروائیں گے۔ تاہم صدر ٹرمپ وعدہ پورا نہ کر سکے نہ "موذی" کو پاکستان سے مذاکرات کی میز پر لا سکے. معلوم نہیں یہ سوچے سمجھے منصوبے کے تحت کیا گیا یا واقعی صدر ٹرمپ کو "موذی"نے پچھاڑ دیا، البتہ پاکستانی قیادت کی نیک نیتی کا صدر ٹرمپ نے بھرپور فائدہ اٹھایا۔ ہندوستان کا اپنی شرائط منوانے کے لئے بازو مروڑنا ہو یا ایران سے ہارتی ہوئی جنگ میں عارضی جنگ بندی کرانا مقصود ہو ،صدر ٹرمپ نے کچھ دیے بغیر یا ہمارا مسئلہ کشمیر حل کئے بغیر پاکستان سے خوب اپنا کام نکلوایا۔ اب ہماری قیادت کو ادراک ہونا چاہیے کہ صرف پانی بند کر کے نہیں بلکہ پانی چھوڑ کر بھی ہندوستان آپریشن سیندور کا تسلسل قائم رکھے گا۔ اگر ہندوستان ہم پر آبی جارحیت کرتا ہے تو ہمیں اس کی ریفائنریاں ٹارگٹ کرنا چاہیں جیسے متل ریفائنری،جام نگر ریفائنری اور وادینار ریفائنری ۔علاوہ ازیں ہندوستانی ڈیموں میں پانی بھی جمع نہیں ہونے دینا چاہیے۔ سمجھدار کو اشارہ ہی کافی!
؎پھرا فضاؤں میں کرگِس اگرچہ شاہیں وار
شکار زندہ کی لذت سے بے نصیب رہا