• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

(گزشتہ سے پیوستہ)

ایوینگ خبروں میں تا حال ہے کبھی سننے میں آتا ہے کہ یہاں ہوٹل بنا دیا جائے گا اور کبھی کچھ۔ خیر حکمرانوں کی رشتے داریاں تو ہوٹل انڈسٹری والوں سے ہیں اور ویسے بھی اندرون شہر کی 22 حویلیوں کو بھی ریسٹورنٹس میں تبدیل کرنے کا پروگرام ہے ۔گورنمنٹ فاطمہ جنا ح کالج برائے خواتین چونا منڈی (حویلی آصف جاہ) اور گورنمنٹ وکٹوریہ ہائی ا سکول( حویلی نو نہال سنگھ) پر بھی تلوار لٹک رہی ہے انگریزوں نے وکٹوریہ اسکول اندرون شہر کی ان بچیوں کیلئے بنایا تھا جو باپردہ تھیں اور اندرون شہر سے باہر پڑھنے کے لیے نہیں جا سکتی تھیں۔ یہ وہی لاہور تھا جس کی گلیاں کبھی پرسکون اور محفوظ تھیں ۔ محلے کے بڑے بوڑھے حتیٰ کے بدمعاش بھی محلے کی بہو بیٹیوں کو کبھی نگاہ اونچی کر کے نہیں دیکھا کرتے تھے۔آج وہی گلیاں ہیں جو غیر محفوظ ہیں۔ ہم چونکہ پکے اور پرانے لاہوریے اور امرتسری بھی ہیں۔ ہمارے بڑوں کا تعلق امرتسر سے تھا۔ امرتسر اور لاہور کو اگر جڑواں شہر کہا جائے تو غلط نہ ہوگا جیسا کہ پڈھانہ کی ایک حویلی جو کہ سردار جوالہ سنگھ سندھو کے بارے میں مشہور ہے کہ اس حویلی میں ایسی سرنگ تھی جو امرتسر کے کسی بازار میں جا کر کھلتی تھی اور اس سکھ گھرانے کی خواتین اس سرنگ کے ذریعے امرتسر جا کر خریداری کیا کرتی تھیں۔ اس طرح نونہال سنگھ کی حویلی کے تہ خانے میں ایک سرنگ کئی سال پہلے تک کچھ اس حالت میں تھی کہ اس کے اندر کچھ فاصلے تک جایا جا سکتا تھا ہماری والدہ اور تمام خالائیں لاہور کالج برائے خواتین اب یونیورسٹی کی آخری پرنسپل اور پہلی وائس چانسلر ڈاکٹر بشریٰ متین بھی وکٹوریہ اسکول کی طالبہ تھی ۔کچھ ارباب اختیار کا یہ خیال ہے کہ کالج (چونا منڈی کالج) اورا سکول (وکٹوریہ اسکول )میں طالبات کے آنے جانے سے دونوں عمارات خراب ہو رہی ہیں کیونکہ دو /ڈھائی ہزار طالبات بروقت آتی جاتی ہیں۔ ارے بھائی دو /ڈھائی ہزار طالبات تو صرف دوپہر دو بجے تک ہی ان تعلیمی اداروں میں رہتی ہیں پھر تو یہ دونوں عمارات خالی ہو جاتی ہیں۔ دوسری طرف اگر آپ یہاں ریسٹورنٹس بنائیں گے تو کیا دونوں عمارات تب خراب نہیں ہوں گی۔ خیر ہماری حکومت پچھلے دو/ ڈھائی سال سے شہر لاہور کو اس کی اصل شکل میں لانے کیلئے جو کچھ کر رہی ہے اس سے اصل شہر تو کب کا کہیں کھو چکا ہے۔ یہ کوئی عجیب و غریب سا شہر بن رہا ہے۔ تاریخی عمارات بغیر ریسرچ اور ماہرین تعمیرات کے مشورے سے مٹی گارے سے لیپ کی جا رہی ہیں ۔ہو سکتا ہے بعض عمارات میں کہیں دالوں کا استعمال کیا گیا ہو مگر ہمیں ابھی تک کچھ ایسا نظر نہیں آیا۔

خیر جناب ہم پچھلے ہفتے ایوینگ ہال اور ایف سی کالج لاہور کی بات کر رہے تھے ایوینگ ہال کی لکڑی کی خوبصورت اور مضبوط سیڑھیاں مزید د س برس تک کام دے سکتی ہیں اگر ان کی تھوڑی بہت مینٹیننس کر لی جائے۔ تقریباً ڈیڑھ ایکڑ پر یہ ایوینگ ہال کاروباری لوگوں اور پلازہ مافیا کے لیے ایک ایسا تر نوالہ ہے جس کو دیکھ کرشاید اب حکومت کے منہ میں بھی پانی آرہا ہے۔ بیوروکریسی کاتوبس نہیں چل رہا کہ وہ کب اس خوبصورت اور تاریخی عمارت کو زمین بوس کر دے ۔بہت کم لوگ یہ جانتے ہوں گے کہ اس ایوینگ ہال کے لان کے بالکل ساتھ ایک گورا قبرستان بھی ہے جہاں پر کم از کم سو سے دو سوبرس قدیم قبریں ہیں اور بھوت بسیرا کیے ہوئے ہیں۔آج بھی کوئی شخص رات میں اس قبرستان میں جانے کی جرات نہیں کرتا۔ اس قبرستان کے بالکل ساتھ سیکرڈ ہارٹ کا قدیم تاریخی اور انتہائی خوبصورت طرز تعمیر کااسکول ہے۔ ا یوینگ ہال جب 2018 تک زیر استعمال رہا تو پھر صرف آٹھ سال میں کیسے ناقابل استعمال ہو گیا اور اسے مخدوش عمارت قرار دے دیا گیا؟ ہال کے ہر کمرے پر آج بھی کمرہ نمبر اور فلور نمبر لکھا ہوا ہے۔ ہم نے پوری عمارت اوپر تک جا کر خود دیکھی۔

اب ہم تھوڑا پیچھے رنگ محل کی اس حویلی کی طرف چلتے ہیں جہاں سے ایف سی کالج کا آغاز ہوا۔ افسوس اور دکھ کی بات یہ ہے کہ اس لال حویلی پر کسی نے یہ لکھنے کی زحمت گوارا نہیں کی، نہ یہ لکھا کہ کبھی یہاں سے ایف سی کالج کا آغاز ہوا تھا ۔یہ وہ تاریخی عمارت ہے جسے شہنشاہ شاہ جہاں کے زمانے میں تعمیر کیا گیا تھا ۔اس عمارت کو کبھی کچہری کے طور پر بھی استعمال کیا گیا تھا اور گوروں کے ابتدائی دور میں اسے تھانے کے طور پر بھی استعمال کیا گیا ۔ڈاکٹر فار مین نےاس عمارت کو جس زمانے میں یعنی 64 18کے لگ بھگ صرف ایک ہزار روپے میں خرید لیا تھا۔ اس زمانے میں لاہور میں تاریخی عمارات حویلیوں کی قیمت تو کم ہوتی تھی البتہ اس کے اندر رکھے ہوئے سامان کی قیمت عمارت سے بھی زیادہ ہوتی تھی۔ مشن اسکول رنگ محل کی عمارت کی قیمت 627 روپے تھی باقی رقم اس میں رکھے ہوئے فرنیچر کی تھی۔ڈاکٹر فارمین کا چیپل انار کلی میں آج بھی ہے اسکی تاریخ کے بارے میں پھر بتائیں گے۔ لاہور میں بلکہ برصغیر میں سب سے پہلے کو ایجوکیشن یعنی مخلوط تعلیم کا آغاز بھی ایف سی کالج لاہور سے شروع ہوا تھا۔ اس کے سوئمنگ پول میں ایک روز ایف سی کالج کےاساتذہ کی فیملیز کیلئے اور ایک روز صرف کنئیرڈ کالج لاہور کی طالبات کے لیے مخصوص ہوتا تھا ۔گوروں نے لاہور کے کئی تعلیمی اداروں میں سوئمنگ پول تعمیر کرائے تھے مثلاََکبھی سینٹرل ٹریننگ کالج اور سینٹرل ماڈل ا سکول کا مشترکہ سوئمنگ پول، کوئین میری کالج کا سوئمنگ پول مسلم ہائی اسکول نمبر2 کا سوئمنگ پول انتہائی خوبصورت تھے۔ ہم نے ان تعلیمی اداروں کےسوئمنگ پول کا ذکر کیا ہے جو اب بند ہو چکے ہیں۔ کوئین میری کالج لاہور کے سوئمنگ پول پر 80 اور 90 کی دہائی تک شام کو بڑا خوبصورت سو ئمنگ گالا ہوتا تھا پھر ہر اچھی روایت کی طرح یہ سوئمنگ پول بھی بند ہو گیا اور سوئمنگ گالا بھی ختم ہو گیا۔ دکھ اور افسوس کی بات یہ ہے کہ کوئین میری کالج اسکول جو کبھی انگریزوں کے زمانے میں اور 1972ءتک پاکستان کابہترین تعلیمی ادارہ رہا وہ بھی آہستہ آہستہ حکومت کی عدم توجہی کی وجہ سے اپنا معیار کھو بیٹھا اگرچہ کالج کی موجودہ پرنسپل پروفیسر ڈاکٹر سدرہ عامرکی کوششوں سے اس سال کوئین میری کالج پاکستان پنجاب کا بہترین تعلیمی ادارہ اور پرنسپل کو بہترین پرنسپل کا ایوارڈ ملا ہے ۔ (جاری ہے)

تازہ ترین