بھارتی شہر دہلی میں ایک نو بیاہتا لڑکی اکریتی ستار کی پراسرار موت کے معاملے نے نیا رخ اختیار کر لیا۔
بھارتی میڈیا کے مطابق اکریتی ستار کے اہلِ خانہ نے خودکشی کے امکان کو مسترد کرتے ہوئے الزام لگایا ہے کہ ہماری بیٹی کو اس کا شوہر ارستو سکّا اور سسرال والے شادی کے بعد سے مسلسل جہیز کے لیے ہراساں کر رہے تھے۔
اہلِ خانہ کے مطابق اکریتی نے واقعے والے دن نئی ملازمت شروع کی تھی اور اپنے ساتھیوں کے لیے ایک چھوٹی دعوت بھی رکھی تھی جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ ذہنی دباؤ میں نہیں تھی۔
ان کا کہنا ہے کہ ارستو سکّا نے کئی بار ہماری بیٹی کو جان سے مارنے کی دھمکیاں دی تھیں اور موت سے 2 دن پہلے دونوں کے درمیان شدید جھگڑا بھی ہوا تھا۔
بھارتی میڈیا کے مطابق اکریتی ایک نجی کمپنی میں سیلز ایگزیکٹیو کے طور پر کام کرتی تھی، ہفتے کی رات تقریباً 9 بجے اس کی لاش ایک رہائشی عمارت کے باہر سے ملی تھی۔
ابتدائی طور پر شبہ ظاہر کیا جا رہا تھا کہ اکریتی ستار نے عمارت سے کود کر خود کشی کی ہے۔
اکریتی کے 24 سالہ بھائی امے ستار نے بھی کہا ہے کہ میری بہن ذہنی طور پر مضبوط تھی اور وہ کبھی خودکشی نہیں کر سکتی، وہ زندگی سے مایوس ہونے والی لڑکی نہیں تھی۔
بھارتی میڈیا کے مطابق اکریتی کے اہلِ خانہ کا الزام ہے کہ سسرال والے 20 لاکھ روپے کے جہیز کا مطالبہ کر رہے تھے۔
واضح رہے کہ اکریتی اور ارستو سکّا نے 24 اپریل کو 8 سالہ رومانوی تعلق کے بعد شادی کی تھی، پولیس کا کہنا ہے کہ واقعے کی ہر پہلو سے تحقیقات جاری ہیں۔