• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

معذور نواسے کا علاج کروانے کیلئے 75 سالہ نانا بیوٹی انفلوئنسر بن گئے

چین میں 75 سالہ نانا معذور نواسے جِنگ ین کے علاج کے بھاری اخراجات اٹھانے کے لیے سوشل میڈیا پر بیوٹی انفلوئنسر بن گئے۔

چینی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق مشرقی چین کے صوبے جیانگسو سے تعلق رکھنے والے 75 سالہ ژو یونچانگ نے ایک نایاب بیماری میں مبتلا نواسے جِنگ ین کا علاج کروانے کے لیے انوکھا انداز اپنایا ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ژو یونچانگ کا نواسہ جِنگ ین ریڑھ کی ہڈی کے پٹھوں کی بیماری میں مبتلا ہے جس کے سبب وہ چلنے پھرنے سے قاصر ہے۔

رپورٹ کے مطابق ژو یونچانگ دن بھر اپنے نواسے کی دیکھ بھال کرتے ہیں اور رات میں بیوٹی انفلوئنسر کے طور پر لائیو اسٹریمنگ کرتے ہیں اور اس کام مین ان کی اہلیہ بھی مدد کرتی ہیں۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ژو یونچانگ یہ کام اپنے نواسے کے علاج کے لیے درکار انجیکشنز کی مد میں رقم جمع کرنے کے لیے کر رہے ہیں جن پر سالانہ تقریباً 14 لاکھ یوآن یعنی 2 لاکھ 6 ہزار امریکی ڈالرز کا خرچ آتا ہے۔

ژو یونچانگ کے نواسے کو سال میں 2 بار انجیکشنز لگتے ہیں اور اس کے علاج کے لیے وہ اپنا فلیٹ بھی بیچ چکے ہیں اور رشتے داروں سے کچھ رقم بھی ادھار لی ہے۔

اس حوالے سے ژو یونچانگ نے میڈیا کو بتایا کہ ژو وی ان میری اکلوتی اولاد ہے، جب اسے اپنے بیٹے کی بیماری کا پتہ چلا تو وہ شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہو گئی تھی، میں نے اپنی بیٹی کی ذہنی حالت کو دیکھ کر نواسے کے علاج کے لیے پیسے جمع کرنے کے لیے انفلوئنسر بننے کا فیصلہ کیا۔

خاص رپورٹ سے مزید