نئی تحقیق کے مطابق اورکا جسے کلِر وہیل بھی کہتے ہیں صرف تفریح کی خاطر سن فش کے ٹکڑے ٹکڑے کر دیتی ہے۔
حال ہی میں جاری ہونے والی ایک تحقیقی رپورٹ میں کلِر وہیل کے رویّے سے متعلق نئی معلومات شائع کی گئی ہیں۔
امریکی غیر سرکاری تنظیم کی جانب سے جاری کردہ ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ایک اورکا سن فش کی دم اپنے جبڑوں میں پکڑے ہوئے ہے، جبکہ دوسری اورکا پوری رفتار سے روٹنڈ مولا (سن فش) سے ٹکراتی ہے، جس کے نتیجے میں مچھلی کئی ٹکڑوں میں بکھر جاتی ہے۔
تحقیق کے مطابق اس وقت سن فش پہلے ہی مردہ تھی، لہٰذا یہ شکار کرنے کا عمل نہیں تھا۔
تحقیق سے وابستہ محقق کیتھرین آئرس کے مطابق ممکن ہے کہ اورکا اس بڑے جسم والی مچھلی کو چھوٹے، آسانی سے کھائے جانے والے حصوں میں تقسیم کرنے کی کوشش کر رہی ہو۔
انہوں نے کہا کہ یہ صرف تفریح کے لیے بھی ہو سکتا ہے، کیونکہ اورکا اپنے شکار کے ساتھ کھیلنے کے لیے بھی جانی جاتی ہے۔
اورکا اکثر اپنے شکار کو ٹکڑے ٹکڑے کرتی ہے اور پھر انہیں اپنے گروہ کے دیگر ارکان بشمول بچوں اور کم عمر وہیلوں میں تقسیم کر دیتی ہے۔
جریدے فرنٹئیر اِن ایتھولوجی میں شائع ہونے والی تحقیق کے مطابق اس شکار کے غیر معمولی مناظر 2024ء اور 2025ء کے دوران خلیجِ کیلیفورنیا میں 2 مختلف مواقع پر ریکارڈ کیے گئے۔
اوشین کیئر کے ڈائریکٹر برائے سائنس مارک پیٹر سیمنڈز نے اس رویّے کو انسانوں کی رسمی دعوتوں سے تشبیہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ جیسے انسانوں کی دعوتوں میں کھانے کے ساتھ سماجی میل جول بھی اہم ہوتا ہے، ممکن ہے اورکا کے اس طرزِ عمل میں بھی یہی پہلو شامل ہو۔
انہوں نے کہا کہ شاید یہ اس روایت سے ملتا جلتا ہو جب کسی رسمی ضیافت میں میزبان بھنا ہوا گوشت کاٹ کر حاضرین میں تقسیم کرتا ہے۔
کلِر وہیلز دنیا کے نہایت ذہین شکاریوں میں شمار ہوتی ہے، وہ اپنے شکار کے ساتھ کھیلنے اور اسے قابو کرنے کے لیے پیچیدہ حکمتِ عملیاں اختیار کرنے کے حوالے سے بھی معروف ہے۔
مغربی آسٹریلیا کی کرٹن یونیورسٹی سے وابستہ سائنس دان ربیکا ویلارڈ کے مطابق یہ مشاہدات اورکا کی غیر معمولی ذہانت کو مزید واضح کرتے ہیں، یہ واقعہ ظاہر کرتا ہے کہ اورکا کتنی ذہین مخلوق ہے۔
سن فش جسے مولا بھی کہا جاتا ہے، کا وزن 2 ہزار کلو گرام تک ہو سکتا ہے، یہ اپنی غیر معمولی جسامت، چپٹی ساخت اور نمایاں پنکھوں کی وجہ سے آسانی سے پہچانی جاتی ہے۔
تحقیق کے مطابق سن فش عام حالات میں اس طرح ٹکڑوں میں نہیں بکھرتی۔
ربیکا ویلارڈ کے مطابق یہ ایک بھاری اور ہڈیوں والی مچھلی ہے، اس لیے اسے اس طرح توڑنے کے لیے یقیناً انتہائی طاقت ور ٹکر ماری گئی ہو گی۔