مشرقِ وسطیٰ کے کن ممالک کے پاس جوہری پروگرام ہیں اور وہ کیسے وجود میں آئے؟
امریکا اور سعودی عرب نے 30 سالہ سول جوہری تعاون کے معاہدے پر دستخط کیے ہیں، جس کے تحت واشنگٹن سعودی عرب کو پُرامن مقاصد کے لیے جوہری پروگرام کی ترقی میں معاونت فراہم کرے گا۔
یہ معاہدہ امریکی وزیرِ توانائی کرس رائٹ اور سعودی وزیرِ توانائی شہزادہ عبدالعزیز بن سلمان نے ایک 123 معاہدے کے تحت کیا، جو امریکی ایٹمی توانائی ایکٹ کی شق 123 کے مطابق امریکی کمپنیوں کو دیگر ممالک کو جوہری ٹیکنالوجی منتقل کرنے کی اجازت دیتا ہے۔
معاہدے کے تحت امریکا سعودی عرب کو سول جوہری ٹیکنالوجی منتقل کرے گا، جبکہ ایک الگ باہمی حفاظتی معاہدہ بھی کیا گیا ہے۔
ماہرین کے مطابق اس حفاظتی معاہدے میں ممکنہ طور پر امریکی نگرانی کا نظام شامل ہو گا تاکہ سعودی عرب کی یورینیئم افزودگی صرف بجلی پیدا کرنے کی ضرورت تک محدود رہے اور اسے ہتھیار بنانے کے درجے تک نہ پہنچایا جائے۔
یہ معاہدہ اب امریکی کانگریس میں منظوری کے لیے پیش کیا جائے گا، جہاں 90 روزہ جائزے کے بعد اس پر عمل درآمد متوقع ہے۔
ایران نے اپنا جوہری پروگرام 1957ء میں امریکا کی مدد سے شروع کیا تھا، بعد ازاں ایران نے نطنز، فردو اور اصفہان میں یورینیئم افزودگی کی تنصیبات قائم کیں، جن پر مغربی ممالک نے الزام لگایا کہ ان کا مقصد جوہری ہتھیار تیار کرنا ہے، تاہم تہران مسلسل اس کی تردید کرتا رہا ہے۔
2015ء میں ایران نے عالمی طاقتوں کے ساتھ جوائنٹ کمپری ہینسو پلان آف ایکشن (JCPOA) پر دستخط کیے، جس کے تحت یورینیئم افزودگی محدود کرنے پر اتفاق کیا گیا، لیکن 2018ء میں امریکا اس معاہدے سے الگ ہو گیا، جس کے بعد ایران نے افزودگی کی سطح میں اضافہ کر دیا۔
حالیہ برسوں میں امریکا اور اسرائیل نے ایران کی جوہری تنصیبات کو نشانہ بنایا، جبکہ ایران اب بھی مؤقف رکھتا ہے کہ اس کا پروگرام صرف پُرامن مقاصد کے لیے ہے۔
اسرائیل نے کبھی باضابطہ طور پر جوہری ہتھیار رکھنے کی تصدیق یا تردید نہیں کی، تاہم اسے مشرقِ وسطیٰ کی واحد جوہری طاقت سمجھا جاتا ہے۔
ماہرین کے مطابق اسرائیل کے پاس تقریباً 90 جوہری وار ہیڈز موجود ہیں اور اس کے پاس مزید سیکڑوں ہتھیار بنانے کی صلاحیت بھی ہے۔
اسرائیل جوہری عدم پھیلاؤ کے معاہدے (NPT) کا رکن نہیں، اسی لیے عالمی ایٹمی توانائی ایجنسی (IAEA) کو اس کی تنصیبات کا معائنہ کرنے کی اجازت حاصل نہیں۔
یو اے ای نے 2009ء میں امریکا کے ساتھ 123 معاہدہ کیا اور واضح کیا کہ وہ نہ تو یورینیئم افزودہ کرے گا اور نہ ہی استعمال شدہ ایندھن کو دوبارہ قابلِ استعمال بنائے گا۔
ملک کا براکہ نیوکلیئر پاور پلانٹ جنوبی کوریا کے تعاون سے تعمیر کیا گیا، جو ملکی بجلی کی تقریباً 25 فیصد ضرورت پوری کرتا ہے۔
ترکیہ کے پاس جوہری ہتھیار نہیں، تاہم روس کے تعاون سے تعمیر ہونے والا آق قویو نیوکلیئر پاور پلانٹ ملک کی تقریباً 10 فیصد بجلی پیدا کرے گا۔
ایران کے خلاف حالیہ جنگ کے بعد ترک حکام کی جانب سے پہلی بار جوہری ہتھیار حاصل کرنے کے امکان پر بھی بیانات سامنے آئے، تاہم اب تک سرکاری پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی۔
مصر بھی صرف پُرامن مقاصد کے لیے جوہری پروگرام چلا رہا ہے۔
روس کے تعاون سے تعمیر ہونے والا الضبعہ نیوکلیئر پاور پلانٹ 2028ء تک بجلی پیدا کرنا شروع کر سکتا ہے، جبکہ ماضی میں صدر جمال عبدالناصر کے دور میں مصر نے خفیہ فوجی جوہری پروگرام شروع کیا تھا، جو کامیاب نہ ہو سکا۔
صدام حسین کے دورِ صدارت میں عراق نے خفیہ طور پر جوہری ہتھیار بنانے کی کوشش کی، تاہم اسرائیل نے 1981ء میں اس کے اوسیراک ری ایکٹر پر حملہ کر کے اسے تباہ کر دیا۔
2003ء میں امریکی حملے کے بعد عالمی ایٹمی توانائی ایجنسی نے تصدیق کی کہ عراق کا جوہری پروگرام مکمل طور پر ختم کیا جا چکا ہے۔
اگرچہ پاکستان جغرافیائی طور پر مشرقِ وسطیٰ کا حصہ نہیں، تاہم اسے خطے کا اہم جوہری ملک تصور کیا جاتا ہے۔
ماہرین کے مطابق پاکستان کے پاس تقریباً 170 جوہری وار ہیڈز موجود ہیں، پاکستان نے اپنا جوہری پروگرام 1970ء کی دہائی میں بھارت کے ساتھ جنگوں کے بعد شروع کیا، جبکہ اس پروگرام میں ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے مرکزی کردار ادا کیا۔
پاکستان اور بھارت دونوں جوہری عدم پھیلاؤ کے معاہدے (NPT) کے رکن نہیں ہیں۔
سعودی عرب کا نیا جوہری معاہدہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مشرقِ وسطیٰ پہلے ہی ایران، اسرائیل، ترکیہ، مصر اور متحدہ عرب امارات جیسے ممالک کے جوہری پروگراموں کی وجہ سے عالمی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔