دنیا کے مشہور بحری جہاز ٹائی ٹینک کے ایک مسافر کا حادثے سے چند روز قبل لکھا گیا 114 سال پرانا خط دوبارہ منظرِ عام پر آ گیا، جس میں اس نے اپنے سفر کے ابتدائی تاثرات بیان کیے تھے۔
برطانوی میڈیا کے مطابق یہ نایاب خط برطانیہ میں نیلامی کے لیے پیش کیا جا رہا ہے، جہاں اس کی قیمت 47 ہزار ڈالرز سے زائد ملنے کی توقع ہے۔
یہ خط کرنل آرچیبالڈ گریسی نے اپریل 1912ء میں ٹائی ٹینک پر سفر کے دوران تحریر کیا تھا۔
انہوں نے یہ خط اس وقت پوسٹ کیا جب جہاز کوئینز ٹاؤن، آئر لینڈ (موجودہ کوب) پر رکا تھا، یعنی اس المناک حادثے سے صرف 4 روز قبل جب ٹائی ٹینک شمالی بحرِ اوقیانوس میں برفانی تودے سے ٹکرا کر ڈوب گیا تھا۔
خط میں کرنل گریسی نے جہاز کی تعریف کرتے ہوئے لکھا کہ یہ ایک شاندار جہاز ہے، لیکن میں اس کے بارے میں حتمی رائے سفر مکمل ہونے کے بعد ہی دوں گا۔
خط میں انہوں نے اپنے دوست کا شکریہ ادا کیا، سفر کے خوش گوار موسم کا ذکر کیا اور بتایا کہ جہاز پر مسافر مختلف سرگرمیوں میں مصروف ہیں۔
کرنل گریسی نے لکھا کہ اوپری ڈیک پر تقریباً 200 نوجوان مارچ کرتے ہوئے گانے گا رہے ہیں، کچھ لوگ ڈومینوز اور تاش کھیل رہے ہیں، جبکہ کئی مسافر مطالعے اور خط و کتابت میں مصروف ہیں، جہاز کا ماحول سمندر کے سفر سے متعلق عام تصور سے بالکل مختلف ہے۔
کرنل آرچیبالڈ گریسی ٹائی ٹینک حادثے میں زندہ بچ جانے والے مسافروں میں شامل تھے۔
جہاز ڈوبنے کے دوران وہ ایک الٹی ہوئی فولڈنگ لائف بوٹ پر سوار ہونے میں کامیاب ہوئے اور بعد میں انہیں بچا لیا گیا۔
حادثے کے بعد ان کی صحت مکمل طور پر بحال نہ ہو سکی اور وہ اسی سال اس سانحے سے جڑی پیچیدگیوں کے باعث چل بسے تھے۔
وفات سے قبل انہوں نے ٹائی ٹینک حادثے پر ایک تفصیلی روداد بھی تحریر کی تھی، جسے آج بھی اس سانحے کے اہم تاریخی ریکارڈز میں شمار کیا جاتا ہے۔