آپ اپنے آپ سے باتیں کرتے ہیں؟ میں نے آپ سے ایک سیدھا سادہ سوال پوچھا ہے۔ اس سوال میں مسکرانے کی گنجائش مجھے دکھائی نہیں دیتی۔ ایک سیدھی سی بات پوچھی ہے میں نے آپ سے، آپ یا تو اپنے آپ سے باتیں کرتے ہیں، یا پھر آپ اپنے آپ سے باتیں نہیں کرتے، چپ سادھ کر آپ بیٹھ نہیں سکتے۔ سیدھا سا جواب ہے اس سوال کا’ ہاںیا ناں‘ جہاں تک دانشوروں سے میں نے سنا ہے، شاید ہی کوئی بنی بشرہو اس دنیا میں جو اپنے آپ سے باتیں نہ کرتا ہو۔ ہم لامحالہ اپنے آپ سے باتیں کرتے ہیں، اتنے بڑے کارنامے سے گزرنے کے بعد یعنی جنم لینے کے بعد ہم چپ بیٹھ نہیں سکتے۔ ہم کچھ پوچھنا چاہتے ہیں، ہم کچھ جاننا چاہتے ہیں، کچھ گتھیاں سلجھانا چاہتے ہیں، پیچیدہ باتیں سمجھنا چاہتے ہیں، یہ قدرت کا وسیع تر سلسلہ یوں ہی بے مقصد نہیں چل رہا ہے، آنے اور یہاں سے چلے جانے کا پراسرار معجزہ ہمیشہ پوچھنے اور جاننے کے لیے مجبور کرتا رہتا ہے، ہم کہاں سے آتے ہیں، کیوں آتے ہیں؟ اور پھر آخرکار لوٹ کر کہاں چلے جاتے ہیں؟ سنے ہوئے جواب معتبر سہی، مگر پھر بھی ہم ازسرنو جاننا چاہتے ہیں، جاننے اور سمجھنے کی اس خواہش کو ہم پیدائش طبعی، جبلی خواہش بھی کہہ سکتے ہیں، یعنی Instinctive کہتے ہیں۔
پیدا ہونے کے کچھ عرصہ بعد نوزائیدہ میں قدرتی طور پر جاننے اور سمجھنے کی خواہشیں نظر آنے لگتی ہیں، ابھی وہ ٹھیک سے چلنے کے قابل بھی نہیں ہوتا، اس کی خواہشیں نچلے درازوں کی طرف کھنچ جاتی ہیں، وہ سرکتے سرکتے درازوں تک پہنچتا ہے اور کھول کر دیکھنا چاہتا ہے کہ درازوں میں کیا پڑا ہوا ہے، اپنے ننھے منے ہاتھ بڑھاکر، چیزیں دراز سے باہر نکال کر دیکھنا چاہتا ہے۔
کئی گھروں میں فرش سے قریب بجلی کے ہولڈر، کنکشن لگے ہوتے ہیں، بچہ رینگتے رینگتے بجلی کے ہولڈر کے سوراخوں تک پہنچتا ہے اور سوراخوں میں اپنی ننھی منی انگلیاں ڈال کر دیکھنا چاہتا ہے کہ ان میں کیا ہے، سیانے والدین بجلی کنکشن کے سوراخ ٹیپ سے بند کردیتے ہیں اور پاور کنکشن کی لوکیشن بدل دیتے ہیں، جوکہ بچے کی پہنچ سے دور ہوتے ہیں، میرے کہنے کا مطلب ہے کہ ہم اپنی پیدائش کے ساتھ ساتھ کھوجنے تلاش کرنے، بات کی تہہ تک پہنچنے کا عنصر اپنے ساتھ لے آتے ہیں، ہم قدرتی طور پر جاننا چاہتے ہیں، سمجھنا چاہتے ہیں، جس شدت سے آپ گیند دیوار پر مارتے ہیں، گیند اسی شدت سے آپ کی طرف لوٹ آتی ہے، اس ایک بات نے سائنسی کھوجنائوں کے دروازے کھول دیے۔
ہم سب اچھے کام کرتے ہیں، ہم سب برے کام کرتے ہیں، ہم غلط کام کرتے ہیں، ہم درست کام کرتے ہیں، کبھی دانستہ کبھی نادانستہ ہم سے بھول چوک ہوجاتی ہے اور پھر زندگی بھر اپنی بھول چوک پر پچھتاتے رہتے ہیں، ہم اپنی خطائوں پر پچھتاتے ہیں، اس سلسلے میں پہروں اپنے آپ سے باتیں کرتے رہتے ہیں، اپنے اپنے عقیدے کے مطابق اپنے خالق اپنے مالک سے اپنے گناہوں کا اعتراف کرتے ہیں، توبہ تائب ہوتے ہیں، گناہوں سے کنارہ کشی کا وعدہ کرتے ہیں، دیکھنے والوں کو لگتا ہے کہ آپ اپنے آپ سے باتیں کررہے ہیں، حالانکہ آپ اپنے مالک، اپنے خالق سے باتیں کررہے ہوتے ہیں، خالق اور مالک تو کسی کو دکھائی نہیں دیتے، لوگ صرف آپ کو باتیں کرتے ہوئے دیکھتے ہیں، لوگ سمجھتے ہیں آپ خود سے کلامی کررہے ہیں۔
دانشوروں نے اپنے آپ سے باتیں کرنے کے عمل کو مختلف نام دے رکھے ہیں، ایک دو نام مجھے یاد ہیں، مونو لاگ، مونو لاگ کا مطلب ہے، خودکلامی، وہ سوانگ جس میں ایک شخص بول رہا ہے، Soliloquy، سولیلوکی کا مطلب ہے، خود سے باتیں کرنے کا عمل، ڈرامے میں تنہا کلامی کی وہ صورت جس کے ذریعے ان کہی باتوں کا دوسروں پر انکشاف ہوتا ہے، ایسی گفتگو جو اپنے آپ سے کی جائے۔
خودکلامی کو جتنے نام آپ دینا چاہیں، دے دیں، یہ عمل ازل سے چلا آرہا ہے اور اسی طرح چلتا رہے گا، انسان اپنی خطائوں کا اعتراف کرتا رہے گا، پچھتاوے کے آنسو بہاتا رہیگا، کبھی غلط کام نہ کرنے کی یقین دہانی کرتا رہیگا مگر وہ پھر سے غلط کام کر بیٹھے گا، پھر سے وعدہ خلافی کا مرتکب ہوتا رہے گا۔ خودکلامی کے عمل میں مبتلا رہے گا، میرے کہنے کا مطلب ہے کہ ایک شخص پڑھا لکھا ہو یا ان پڑھ، وہ خودکلامی میں مبتلا رہتا ہے، کبھی اونچی آواز میں، کبھی بغیر الفاظ کے وہ کسی سے مخاطب رہتا ہے، آپ بھی خودکلامی کرتے رہتے ہیں، میں بھی خودکلامی کرتا رہتا ہوں، کبھی آواز کے ساتھ، کبھی بے آواز، ہمیں اپنے سب کام اچھے نہیں لگتے، ہمیں اپنے سب کام برے نہیں لگتے، خودکلامی کا ایک نام اعتراف بھی ہے، زندگی میں ایک دور ایسا آتا ہے کہ ہم اپنے غلط کاموں کو رد کرتے ہیں، پچھتاتے ہیں، خود کو ملامت کرتے ہیں، اصل میں خودکلامی، شکوے، شکایتوں کیساتھ ساتھ پچھتاوا بھی ہے۔