معروف بھارتی اسٹریمنگ پلیٹ فارم زی 5 نے پنجابی گلوکار دلجیت دوسانجھ کی فلم ’ستلج‘ کو ریلیز کے صرف 48 گھنٹے بعد ہٹا دیا۔
اسٹریمنگ سروس زی 5 نے فلم ’ستلج‘ کو ہٹانے کے بعد سوشل میڈیا ویب سائٹ ایکس پر موجود اپنے آفیشل ایکس اکاؤنٹ پر ایک بیان بھی جاری کیا ہے۔
بیان جاری کرتے ہوئے کیپشن میں لکھا ہے کہ بھلے ہی فلم ’ستلج‘ کو ہٹا دیا گیا ہے لیکن اس فلم نے جس گفتگو کا آغاز کیا ہے وہ ختم نہیں ہوئی ہے۔
کیپشن میں لکھا ہے کہ فلم کو ناقابلِ یقین محبت دینے کے لیے آپ کا شکریہ، ہم اس فلم کو جلد دوبارہ ریلیز کرنے کے لیے پر امید ہیں۔
دوسری جانب دلجیت دوسانجھ نے سوشل میڈیا ویب سائٹ ایکس پر فلم ’ستلج‘ کو اسٹریمنگ پلیٹ فرم زی 5 سے ہٹانے پر اپنے ردِعمل کا اظہار کرتے ہوئے لکھا ہے کہ اب یہ فلم نہیں رکے گی۔
انہوں نے اپنی پوسٹ میں لکھا ہے کہ کھالرا صاحب کی آواز کو کوئی بھی نہیں دبا سکتا۔
واضح رہے کہ اس فلم کی کہانی پنجاب کے ایک انسانی حقوق کے کارکن جسونت سنگھ کھالرا کی زندگی پر مبنی ہے، فلم کو 3 جولائی کو ریلیز کیا گیا لیکن صرف 2 دن بعد ہی اسے ہٹا دیا گیا۔
اس فلم میں جسونت سنگھ کھالرا کا کردار دلجیت دوسانجھ نے نبھایا ہے، جنہوں نے بھارتی پنجاب میں جبری گمشدگیوں اور تقریباً 25 ہزار نامعلوم افراد کی لاشوں کو خفیہ طور پر جلائے جانے کے معاملے کو بے نقاب کیا تھا، جس کے نتیجے میں 1995ء میں پولیس کی حراست میں انہیں بھی اغواء کر کے قتل کر دیا گیا تھا۔
واضح رہے کہ اس فلم کو ریلیز سے قبل بھی کئی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا تھا، سینٹرل بورڈ آف فلم سرٹیفیکیشن نے ریلیز سے پہلے فلم کے نام کو تبدیل کروانے کے ساتھ ساتھ 127 مناظر بھی ڈیلیٹ کروائے تھے۔
فلم کو اتنی ایڈٹنگ کے بعد ریلیز کرنے کے باوجود اب اچانک ہٹائے جانے کی کوئی واضح وجہ بھی نہیں بتائی گئی ہے۔