• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

مسجد میں نمازِ جنازہ کے بارے میں ایک سوال کا جواب (گزشتہ سے پیوستہ)

فائل فوٹو
فائل فوٹو

تفہیم المسائل

بعض تنگ شہری علاقوں میں مسجدکے باہر کھلی جگہ ہوتی ہی نہیں، جہاں نمازِ جنازہ پڑھی جاسکے، ایسی صورت میں بعض مقامات پر لوگ سڑکوں یا گلیوں کو بلاک کر کے وہاں پر جنازہ پڑھتے ہیں، جبکہ شارعِ عام اور دوسرے کی زمین پر بلااجازت جنازہ پڑھنا مکروہ ہے، علامہ نظام الدین لکھتے ہیں: ترجمہ:’’سڑک پر اور لوگوں کی زمین پر (بلااجازت ومنظوری) نماز جنازہ پڑھنا مکرو ہ ہے، (فتاویٰ عالمگیری، ج:1، ص:165)‘‘۔

سڑک پر چونکہ حقِّ مُرور(Right of Passage)سب کا ہوتا ہے، اس لیے اسے بلاک کرنے سے سب کا عمومی حق متاثر ہوتا ہے اور حدیث مبارک میں ہے: ترجمہ: ’’رسول اللہ ﷺ نے سات مقامات پر نماز پڑھنے سے منع فرمایا ہے:’’کوڑے کا ڈھیر، مَذبَح ،مقبرہ،عام راستہ، حمام اونٹوں کے بیٹھنے کی جگہ اور بیت اللہ کی چھت پر ،(سنن ترمذی:346)‘‘۔

ان میں بیت اللہ کی چھت پر ممانعت کا سبب ادب ہے، قبرستان میں نماز کی ممانعت سے مراد ہے کہ نمازی کا رخ قبر کی جانب ہو، اگر قبرستان کے اندر یا مُتّصل مسجد بنی ہوئی ہے، تواس میں نماز جائز ہے۔ اگر مسجد سے باہر نمازِ جنازہ کے لیے کشادہ جگہ نہ ہو تو گنجان آبادی والے علاقوں میں بایں طور پر کہ میت اور کچھ نمازی مسجد سے باہر ہوں، نمازِ جنازہ مسجد میں ادا کی جاسکتی ہے اور اس صورت میں کراہت مرتفع ہوجائے گی، لیکن جہاں مسجد سے باہر نمازِ جنازہ کے لیے کشادہ جگہ(مثلاً میدان ، پارک)

موجود ہو تو نمازِ جنازہ مسجد میں نہ پڑھی جائے تاکہ حدیث پر بھی عمل ہو اور فقہ حنفی کے صحیح ترین، راجح ترین اور مختار قول پر بھی عمل ہوجائے، الغرض مسجد سے باہر جنازے کے لیے جگہ دستیاب ہونے کی صورت میں مسجد میں نمازِ جنازہ پڑھانا درست نہیں ہے۔

جب آپ کے ہاں فنائے مسجد میں جگہ موجود ہے، تو مسجد کے اندر نمازِ جنازہ پڑھانا جائز نہیں اور یہ عذر بھی درست نہیں ہے کہ ’’ وہاں تک جانے، صف بندی کرنے میں وقت لگتا ہے، کچھ نمازی جنازہ پڑھے بغیر چلے جاتے ہیں ‘‘ ، نمازِ جنازہ فرض کفایہ ہے، چند نمازیوں کے شامل ہونے سے ادا ہوجاتا ہے، نیز نمازِ جنازہ چند منٹوں میں ادا ہوجاتی ہے، اگر وسائل ہوں تو اُس جگہ سایہ کا کوئی انتظام کرلیں۔

اقراء سے مزید